ارشد شریف کا کینیا کا وزٹ ویزا وقار کا سپانسرڈ نکلا

کینیا میں امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ مقتول صحافی ارشد شریف کا کینیا کا وزٹ ویزا اسپانسرڈ تھا اور انہیں آمد پر انٹری ویزا نہیں ملا تھا جیسا کہ پہلےبتایا جا رہا تھا۔ ارشد شریف کے قتل کی تحق

یقات میں شامل حکام نے جیو نیوز سے وابستہ سینئر صحافی مرتضیٰ علی شاہ کو بتایا ہے کہ ارشد شریف نیروبی کے ایک بزنس مین وقار احمد کی جانب سے سپانسرڈ کئے جانے کے بعد وزٹ ویزے پر کینیا کے دارالحکومت نیروبی پہنچے۔ وقار وہی شخص ہیں جن کے چھوٹے بھائی خرم احمد کے ساتھ ارشد شریف قتل کے وقت ان کی گاڑی میں موجود تھے۔ ارشد شریف ایک سنسان علاقے میں کینیا کی پولیس کی جانب سے برسائی گئی گولیوں کی زد میں آکر جاں بحق ہوئے تھے۔ وقار احمد نے دبئی میں مقیم ایک برطانوی پاکستانی کی درخواست پر ارشد شریف کے لیے وزٹ ویزا کا انتظام کیا جنہوں نے وقار سے کہا کہ وہ ارشد شریف کے نیروبی میں قیام کے انتظامات کریں۔

ملک بھر میں پی ٹی آئی کے پرتشدد مظاہرے، متعدد گرفتار

اس سے پہلے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ارشد شریف کو دبئی سے زبردستی نکالا گیا اور انہوں نے اپنے اگلے قیام کے لیے کینیا کا انتخاب کیا کیونکہ وہاں پاکستانی شہریوں کو پہنچنے پر ویزا مل جاتا ہے۔ اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ارشد شریف کو اپنے تنقیدی خیالات کی وجہ سے خطرات لاحق تھے جسکے بعد وہ 10 اگست کو پشاور سے دبئی کے لیے روانہ ہو گئے تھے، کینیا کے امیگریشن حکام نے بتایا کہ کینیا اب پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر کو آن ارائیول انٹری کی پیشکش نہیں کرتا اور اسی لیے ارشد شریف سپانسرڈ وزٹ ویزے پر افریقی ملک پہنچے۔ انہوں نے کینیا میں داخل ہونے کے لیے ای ویزا کے لیے درخواست کے ساتھ سپانسر لیٹر، واپسی کے ٹکٹ کی کاپی، ملازمت کا معاہدہ، رہائشی مقام اور ایک مقامی رابطہ نمبر بھی منسلک کیا۔

ایک پاکستانی سفارت کار نے مرتضیٰ علی شاہ کو بتایا کہ کینیا کی وزارت امیگریشن نے پاکستان کو تصدیق کی ہے کہ ارشد شریف کینیا کے وزٹ ویزا پر تھے اور قانونی طور پر یہاں مقیم تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اب امریکی اور برطانوی پاسپورٹ رکھنے والوں کو بھی ملک میں داخلے کے لیے ویزا لینا پڑتا ہے۔

Back to top button