الیکشن کمیشن کا وار،PTI قیادت نئے امتحان میں پھنس گئی

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی میں 39 عمراندوز کو پی ٹی آئی کا رکن تسلیم کرتے ہوئے 41 ارکان کی رکنیت کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کر لیا ہے۔الیکشن کمیشن کے 41 اراکین کی لسٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب کی قومی اسمبلی میں آزاد حیثیت کے انکشاف پر نیا پنڈورا بکس کھل گیا ہے اور مرکزی قیادت ایک نئے امتحان میں پھنس گئی ہے۔

عمران نے خود تحریک انصاف پرپابندی کی راہ کیسے ہموار کی؟

الیکشن کمیشن کی جانب سے 39 اراکین قومی اسمبلی کی پی ٹی آئی سے وابستگی تسلیم کیے جانے کے بعد آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے والے اراکین فہرست سامنے آگئی ہے۔ جس میں رواں برس 8 فروری کو منعقدہ انتخابات میں رہنما پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان اور عمر ایوب کا بطور آزاد امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔پی ٹی آئی کی موجودہ مرکزی قیادت نے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی میں بھی پارٹی سے وابستگی ظاہر نہیں کی تھی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں آزاد حیثیت میں انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے قومی اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے والے اراکین کو پی ٹی آئی میں شمولیت کے لیے وقت دیا تھا۔بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب نے قومی اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے بجائے آزاد رہنے کو ترجیح دی تھی اور سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کرنے والی مرکزی قیادت بھی کاغذات نامزدگی میں پارٹی سے وابستگی ظاہر نہ کرسکی۔

کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی سے وابستگی ظاہر نہ کرنے والے اراکین قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈرعمر ایوب اور گوہر خان کے علاوہ علی محمد خان، شہریار آفریدی، شیخ وقاص اکرم، حماد اظہر کے والد میاں اظہر، جمشید دستی اور ریاض فتیانہ بھی شامل ہیں۔پی ٹی آئی سے دیگر اپنی وابستگی ظاہر نہ کرنے والوں میں سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا، عاطف خان اور ثنا اللہ مستی خیل کے نام بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے ان 39 اراکین قومی اسمبلی کو پی ٹی آئی کا رکن قرار دیا ہے جنہوں نے کاغذات نامزدگی میں اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف لکھی تھی لیکن پارٹی ٹکٹ جمع نہ ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے انہیں آزاد امیدوار قرار دیا تھا۔تاہم الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے والے وہ41 آزاد امیدوار جنہوں نے کاغذات نامزدگی میں اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف نہیں لکھی تھی، ان آزاد ارکان کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ اب عدالتی وضاحت کے بعد ہی ان اراکین کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے حوالے سے الیکشن کمیشن حتمی فیصلہ کرے گا تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔

واضح رہے کہ عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں 23 مخصوص نشستیں ملنے کا امکان ہے جس کے بعد قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی کل سیٹیں 109 ہو سکتی گی۔ اس طرح پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستوں والی جماعت بن سکتی ہے۔

یاد رہے کہ فروری 2024 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان نے قومی اسمبلی میں 86 نشستیں حاصل کی تھیں۔ تاہم نون لیگ نے شہباز شریف کی قیادت میں 209 ارکان کے ساتھ  اتحادی حکومت قائم کی۔ جن میں اس کی 108 نشستیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے 68، ایم کیو ایم کے 21 ارکان بھی حکومتی اتحاد میں شامل ہیں، جبکہ ایک اقلیتی نشست معطل ہے۔23 مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو ملنے کے باوجود حکمران اتحاد کو اس وقت تک خطرہ نہیں ہے جب تک پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ ہے۔ مخصوص نشستوں کے بعد اپوزیشن کی کل نشستیں 120 ہو جائیں گی۔

Back to top button