ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک قاتلانہ حملے میں ہلاک

امریکی ریاست یوٹاہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے قدامت پسند رہنما چارلی کرک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے۔

چارلی کرک کو اُس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جب وہ یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں تقریر کر رہے تھے۔

امریکی میڈیا نے بتایا کہ  چارلی کرک کو 200 یارڈ کے فاصلے پر واقع ایک عمارت سے نشانہ بنایا گیا۔ چارلی کرک کو گردن میں گولی لگی جس کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیاگیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

ان کی سرجری کی گئی جو کامیاب نہ ہو سکی، چارلی کرک کا قاتل تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا، چارلی کرک کو ٹرانس جینڈرز سے متعلق تقریر کے دوران گولی ماری گئی، کرک یوکرینی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔

کرک یوکرین کو فوجی امداد کے مخالف تھے، وہ روس سے سفارتی تعلقات کی بحالی کی بھی وکالت کرتے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ عظیم اور تاریخی حیثیت رکھنے والے چارلی کرک اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی نوجوانوں کےخیالات چارلی کرک سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکا، چارلی کرک مجھ سمیت تمام لوگوں کے  پسندیدہ شخصیت تھے، امریکی صدر نے اپنے پیغام میں چارلی کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی کا بھی اظہار کیا۔

امریکا میں اتوار تک پرچم سرنگوں رہے گا، چارلی کرک یوٹا ویلی یونیورسٹی میں فائرنگ سے شدید زخمی ہوئے تھے۔

Back to top button