پاکستانی نژاد برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود کون ہیں؟

 

 

 

آزاد کشمیر کے شہر میر پور سے تعلق رکھنے والے شبانہ محمود برطانوی کابینہ میں وزیرِ داخلہ کی ذمہ داری سنبھالنے والی پہلی پاکستانی نژاد مسلمان خاتون ہیں جنہیں یہ اہم ترین عہدہ سنبھالنے کے بعد سنجیدہ ترین مسائل کا سامنا کرنا ہو گا۔ یاد رہے کہ برطانوی وزیر اعظم سٹارمر نے حال ہی میں کابینہ میں اہم تبدیلیاں کی ہیں اور پہلی مرتبہ ایک مسلمان خاتون کو وزارت داخلہ کی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔

 

شبانہ محمود کو برطانوی کابینہ میں سب سے زیادہ سیاسی شعور رکھنے والی وزیر قرار دیا جاتا ہے اور ان کی شخصیت کا موازنہ مارگیٹ تھیچر جیسی ’فولادی‘ شخصیت سے کیا جاتا ہے ۔ شبانہ محمود کو ایسے نازک وقت میں وزارت داخلہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جب ملک کو پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے اور برطانیہ کے داخلی امور کے لیے سنگین چیلنجز کھڑے ہیں۔ ان مسائل میں پناہ گزینوں کی زیرِ التوا درخواستیں، مہاجروں کو ملک بدر کرنے کا دباؤ، برٹش پولیس میں اصلاحات اور بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے منظم نیٹ ورکس کی تحقیقات جیسے امور شامل ہیں۔

 

امور داخلہ کے وزیر کی حیثیت سے شبانہ محمود برطانیہ میں امیگریشن، قومی سلامتی اور پولیس فورس کی نگران ہیں۔

45 سالہ شبانہ برطانیہ کی وزیرِ داخلہ بننے والی پہلی مسلمان خاتون ہیں۔ وہ برمنگھم سے پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر میر پور سے ہے ۔ اپنے بچپن کا کچھ وقت پاکستان اور برطانیہ میں گزارنے کے بعد شبانہ ایک عرصے تک سعودی عرب میں بھی مقیم رہیں اور پھر اعلی تعلیم کے لیے برطانیہ واپس آ گئیں۔

 

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کی جانب سے شبانہ محمود کو وزیر داخلہ مقرر کرنے کے بعد یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ چکی ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب شبانہ لیبر پارٹی کی قیادت سنبھال کر مارگریٹ تھیچر دوئم بن سکتی ہیں۔ شبانہ کے والد محمود ایک چھوٹی سی دکان کے مالک تھے۔ چنانچہ شبانہ نے برطانیہ کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی سے سیکنڈ کلاس میں ڈگری لی، وہ دوران تعلیم یونیورسٹی کی طلبہ تنظیم کی سربراہ منتخب ہوئیں اور بطور بیرسٹر کوالیفائی کیا۔ پارلیمنٹ کی رکن بننے کے بعد شبانہ نے سب سے پہلے فائنانس کا شعبہ سنبھالا جس کے بعد وہ تیزی سے وزارتی صفوں میں اوپر آئیں۔ وہ اپنے دو ٹوک رویے اور 16 گھنٹے روزانہ کام کرنے کے لیے مشہور ہیں۔

 

مسلمان ہونے کے ناطے شبانہ اپنے مخالفین کی جانب سے تنقید کی زد میں بھی ہیں چونکہ وہ سماجی اور اخلاقی مسائل پر قدامت پسند مؤقف رکھتی ہیں، وہ مذہبی ہیں، اور یہود مخالف رویوں کے خلاف آواز بلند کرنے پر یہودی رہنماؤں سے داد حاصل کر چکی ہیں۔وہ امیگریشن پر سخت مؤقف کی حامی ہیں اور اپنے غیر مقبول لیڈر کے برعکس یورپ نواز ہونے میں کم شدت رکھتی ہیں۔ اپنے پارٹی لیڈر کے برعکس، شبانہ کے پاس ایک واضح سمت ہے۔ چنانچہ انہیں مستقبل میں لیبر پارٹی کے علاوہ برطانوی رہنما اور نجات دہندہ کے طور دیکھا جا رہا ہے۔ برطانوی میڈیا شبانہ محمود کا موازنہ سابق برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر سے کر رہا ہے ۔ اسی لیے ان کو ’بائیں بازو کی تھیچر‘ بھی کہا جا رہا ہے ۔

 

شبانہ لیبر پارٹی سے وابستہ ہونے کی وجہ سے زندگی بھر سوشلسٹ نظریات کی پرچارک رہی ہیں اور ہمیشہ ٹوری پارٹی کے خلاف الیکشن لڑتی رہی ہیں۔ ان کے برعکس مارگریٹ تھیچر قدامت پسند تھیں، جو شمالی لندن کے ایک خوشحال علاقے فنچلے کی نمائندہ تھیں۔ انہوں نے لیبر پارٹی کے خلاف تین بڑی انتخابی کامیابیاں حاصل کیں۔ شبانہ محمود کو ہوم سیکریٹری اس لیے بنایا گیا تا کہ وہ پناہ گزینوں کے معاملے پر سختی دکھا سکیں اور وہ کر سکیں جو ان کی پیش رو وزیر داخلہ کوپر نہیں کر پائی تھیں۔ اس وقت شبانہ کو جو چند بڑے  چیلنجز درپیش ہیں ان میں پناہ گزینوں کے ہوٹل بند کرنا اور کشتیوں کے ذریعے مہاجرین کی برطانیہ آمد کو روکنا ہیں۔

 

شبانہ محمود وزیر داخلہ بن جانے کے باوجود آج بھی اپنے والدین کے ساتھ والے گھر میں رہتی ہیں۔ شبانہ اصول پسند اور ہائپر ایکٹو ہیں جو روزانہ کام پر وقت سے پہلے پہنچتی ہیں، اور کبھی اپنا کام ادھورا نہیں چھوڑتیں، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ویک اینڈ  کی چھٹی پر بھی آرام کرنے کی بجائے کام کرتی ہیں۔ یہ سب وہ خصوصیات ہیں جو کہ سابق برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کی شخصیت میں بھی پائی جاتی تھی، یاد رہے کہ تھیچر صرف چار گھنٹے کی نیند کرتی تھیں اور اپنے وزرا کو مسلسل متحرک رکھنے پر یقین رکھتی تھی۔ شبانہ محمود کے بقول مارگریٹ تھیچر ان کی ہیروئنز میں شامل ہیں کیونکہ انہوں نے روایت توڑتے ہوئے ’پدرشاہی نظام‘ میں عروج حاصل کیا اور کامیابی سے ’خواتین کی نمائندگی‘ کی۔

Back to top button