جسٹس فائز کا آڈیو لیک انکوائری کمیشن کام کر پائے گا یا نہیں؟

اگر چیف جسٹس پاکستان بروقت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلا لیتے اور معاملات وہاں طے ہو جاتے تو شاید آڈیو لیک انکوائری کمیشن کی ضرورت ہی نہ پیش آتی۔ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس نہ بلا کر جو بحران پیدا کیا گیا ہے۔ یہ انکوائری کمیشن بھی اس کی وجہ سے بنا ہے۔ اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں قائم کردہ آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کام کر بھی سکے گایا نہیں ۔ہو سکتا ہے کہ کوئی بھی متاثرہ فریق عدالت میں جائے گا اور اس کمیشن کو کام سے روک دیا جائے گا۔
مگر کمشن کو کام سے روکنے سے بھی تنازعہ پیدا ہوگا جو عدلیہ کو مزید تقسیم کرے گا. ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ بتا تے ہیں کہ حکومت پاکستان نے آڈیو لیکس کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کا انکوائری کمیشن قائم کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سنیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اس انکوائری کمیشن کا سربراہ بنایا گیا ہے، ان کے ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس عامر فاروق اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس نعیم اختر اس انکوائری کمیشن کے ممبران بنایا گیا ہے۔
حکومت پاکستان نے اس انکوائری کمیشن کو آٹھ مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کا مینڈیٹ دیا ہے۔ جن آٹھ مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کے لیے کہا گیا ہے، ان میں چوہدری پرویز الٰہی کی تین مبینہ آڈیوز ہیں۔ اس کے ساتھ سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سنیئر وکیل خواجہ طارق رحیم کے ساتھ مبینہ گفتگو ہے۔ پھر خواجہ طارق رحیم کی ایک سنیئر صحافی کے ساتھ گفتگو بھی تحقیقات کے لیے منتخب کی جانے والی آڈیوز میں شامل ہے۔ نیب کی حراست میں عمران خان کی تحریک انصاف کی رہنما مسرت جمشید چیمہ کے ساتھ مبینہ آڈیو بھی شامل ہے۔
سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی ٹکٹ کے معاملے پر تحریک انصاف کی ٹکٹ ہولڈر ابوذر سے گفتگو بھی شامل ہے۔پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر علی افضل ساہی کے معاملے پر بھی تحقیقات شامل ہے۔ علی افضل ساہی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے دامادہیں ، مسلم لیگ (ن) الزام لگاتی ہے کہ وہ تحریک انصاف کو لاہور ہائی کورٹ سے ریلیف دلوانے کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہیں،کمیشن کو اس معاملہ کی تحقیقات کے لیے بھی کہا گیا ہے۔مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کی جسٹس مظاہر علی نقوی کے ساتھ مبینہ گفتگو ایک اہم آڈیو ہے۔ اسی طرح جسٹس مظاہر علی نقوی کی عدالت میں کیس لگوانے کے لیے چوہدری پرویز الٰہی کی اپنے وکلاء کے ساتھ گفتگو بھی اہم ہے۔
اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ جسٹس مظا ہر علی نقوی کے چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ ان کے کیس بھی سنتے رہے ہیں۔ تو یہ مس کنڈکٹ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ آپ اپنی ذ اتی تعلق والے لوگوں کے کیس بھی خود نہیں سن سکتے۔ پھر کیس خاص طور پر ان کے پاس لگوانے کی مبینہ آڈیو بھی اہم ہوگی۔
جہاں تک سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کی بات ہے تو وہ ایک ریٹائرڈ آدمی ہیں، ان کی سیاسی وابستگی ہو سکتی ہے، اگر ان کی سیاسی وابستگی تحریک انصاف کے ساتھ ثابت بھی ہو جاتی ہے تو بھی یہ کوئی جرم نہیں۔ یہ ایک سیاسی بیانیہ تو ہو سکتا ہے کہ چونکہ ان کی تحریک انصاف کے ساتھ ہمدردیاں ہیںلہٰذا انھوں نے بطور چیف جسٹس تحریک انصاف اور عمران خان کے حق میں جو فیصلے کیے ہیں وہ بھی اسی ہمدردی کی وجہ سے ہیں۔ لیکن اس پر کوئی کارروائی ممکن نہیں ہو سکتی ہے ۔ لیکن اگر کمیشن بدنیتی قرار دے دیتا ہے تو یہ بھی کافی ہوگا۔
اسی طرح ثاقب نثار کے بیٹے کی ٹکٹ کی خریدو فروخت کے حوالہ سے گفتگو بھی شامل ہے۔ اگر خریدو فروخت ثابت ہو جاتی ہے تو کارروائی ہو سکتی ہے۔ ایک اور اہم آڈیو چیف جسٹس پاکستان کی ساس کی خواجہ طارق رحیم کی بیگم کے ساتھ گفتگو ہے۔ جس کا مشہور فقرہ ہے کہ کمبخت مارشل لاء بھی نہیں لگاتے، اس کی بھی محض سیاسی اہمیت ہے، اس میں کوئی جرم نہیں بنتا۔ اس سے عمران خان کے لیے ہمدردی ثابت ہو سکتی ہے، جرم کوئی نہیں بنتا، اس لیے کوئی کارروائی بھی نہیں بنتی۔
مزمل سہروردی سوال پوچھتے ہیں کہ کیا یہ کمیشن کام کر سکے گا۔ کیونکہ یوں لگتا ہے کہ کوئی بھی متاثرہ فریق عدالت میں جائے گا اور اس کمیشن کو کام سے روک دیا جائے گا۔ مثال کے طور پر پرویز الٰہی جا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے صدر جا سکتے ہیں کیونکہ ان کی بھی آڈیو بھی ہے۔ اس لیے ایک رائے تو یہ بھی ہے کہ یہ کمیشن بن تو گیا ہے لیکن اس کو کام کرنے سے روک دیا جائے گا۔ لیکن اس کو کام سے روکنے سے بھی تنازعہ پیدا ہوگا جو عدلیہ کو مزید تقسیم کرے گا۔
عمران خان نے اس کمیشن کو مسترد کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ تحقیقات یہ ہونی چاہئے کہ یہ آڈیوز ریکارڈ کون کرتا ہے۔ اس کمیشن کو یہ نہیں کہا گیا کہ وہ یہ پتہ کرے کہ آڈیوز ریکارڈ کون کرتا ہے۔ بلکہ ان آڈیوز کی سچائی جاننے کے لیے کمیشن بنایا گیا ہے۔ ان آڈیوز کی ریکارڈنگ کی سچائی بھی اہم ہے۔ جہاں ان کی ریکارڈنگ غلط ہے، وہاں ان کے ذریعے سچ بھی عوام کے سامنے آیا ہے۔ سچ کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بینچ فکسنگ کے حقائق سامنے آنا چاہیے۔ ٹکٹوں کی خریدو فروخت بھی سامنے آنی چاہیے۔ قوم کو پتہ ہونا چاہیے کہ سابق چیف جسٹس کی کیا خدمات ہیں کہ ان کے کہنے پر ٹکٹیں بدل دی جاتی ہیں۔ اور ان کے عوض کیا وصول کیا جاتاہے۔ یہ کرپشن کا بھی معاملہ ہے۔ اس پر مقدمہ بن سکتا ہے۔
جہا ں تک علی افضل ساہی کا معاملہ ہے۔اس پر کافی سیاسی تنازعہ موجود ہے۔ ان کے ضمنی الیکشن کا معاملہ بھی بہت تنازعہ کا شکار ہوا تھا۔ اس کے بعد بھی کافی مقدمات پر بھی یہی تاثر رہا ہے کہ تحریک انصاف اور عمران خان کو ریلیف علی افضل ساہی کی وجہ سے مل رہا ہے۔ ۔ عمران خان کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بارے میں ریمارکس بھی ایک آڈیو میں سامنے آگئے ہیں۔ پنجاب حکومت کی تبدیلی میں بھی عدلیہ کے فیصلوں پر سوال موجود ہے۔ پھر جب گورنر نے اعتماد کے ووٹ کے لیے کہا تب بھی عدلیہ نے پندرہ دن کی مہلت دے دی جس نے اعتماد کے ووٹ کے لیے راہ ہموار کی ۔ اگر وہ مہلت نہ ملتی تو اعتماد کا ووٹ ممکن نہیں تھا۔
