مولانا عبدالعزیز جامعہ حفصہ کے بعد ایک اور مدرسے پر قابض

اسلام آباد کی لال مسجد اور اس سے ملحقہ جامعہ حفصہ پر قبضے کے بعد اب مولانا عبدالعزیز نے اپنی اہلیہ ام حسان کے ہمراہ اسلام آباد میں قائم مدرسہ جامعہ فریدیہ کا انتظامی کنٹرول بھی بزور بازو سنبھال لیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہیں۔
یہ پچھلے کچھ عرصے میں دوسری مرتبہ ہے کہ مولانا عبدالعزیز نے اسلام آباد کی انتظامیہ کے ساتھ امن معاہدہ کرکے اس کو توڑا ہے۔ چنانچہ پولیس نے جامعہ فریدیہ کی طرف آنے والی سڑکوں کو بند کر کے قبضہ چھڑوانے کیلئے حکمت عملی مرتب کرنا شروع کر دی ہے۔ اس سے پہلے مولانا عبدالعزیز نے انتظامیہ کے ساتھ کئے گئے امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 6 جولائی کی شب مدرسے کے پرنسپل مولانا عبدالغفار کو ہٹاتے ہوئے مدرسے پر قبضہ کر لیا اور اعلان کیا کہ مدرسے کے سابق پرنسپل مولانا عبدالغفار کا اب جامعہ فریدیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ خود مدرسے کا نظام سنبھالیں گے۔
مولانا عبدالعزیز کی جانب سے جامعہ فریدیہ پر قبضے کے بعد مدرسے کی انتظامیہ نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تاہم دارالحکومت کی انتظامیہ اور پولیس نے بروقت پہنچ کر کسی تصادم سے قبل ہے علاقے کو خاردار تاریں لگا کر سیل کر دیا۔ موجودہ صورتحال نے شہری انتظامیہ کو مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ مولانا عبدالعزیز کی طرف سے مدرسے پر قبضے کا عمل جون میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری انتظامیہ کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق معاہدے کے تحت مولانا عبدالعزیز نے اس طرح کی کسی بھی کارروائی کا حصہ نہ بننے کا وعدہ کیا تھا تاہم اب وہ ایک بار پھر اپنے وعدے سے پھرتے نظر آتے ہیں۔انتظامیہ کے مطابق معاہدے کے تحت مولانا عبدالعزیز 2 ماہ کے لیے اس طرح کی کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے تھے جبکہ مان کے داماد ہارون رشید کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق وہ دو ماہ کے لیے لال مسجد میں مداخلت نہیں کرسکتے اس کے علاوہ وہ اور کوئی شرط ماننے کے پابند نہیں۔ ہارون رشید کا مزید دعویٰ ہے کہ جامعہ فریدیہ ان کے دادا نے 1970 کی دہائی میں بنایا تھا اور مولانا عبدالعزیز اس کے اصل مالک تھے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مولانا عبدالغفار اور حکومت مولانا عبدالعزیز کو ہٹا کر مدرسے کا قبضہ لینا چاہتے ہیں۔
ہارون رشید نے کہا کہ انتظامیہ اور پولیس سمیت حکومت مولانا عبدالغفار کی مدد کر رہی ہے اور جس وقت ہم مدرسہ پہنچے تو پولیس اور انتظامیہ کے حکام بھی فوری وہاں آگئے اور علاقے کا محاصرہ کرلیا۔
دوسری مولانا عبدالعزیز کے قریبی ساتھی مولانا یعقوب غازی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ جامعہ فریدیہ کے سابق مہتمم غلطی پر ہیں اس لئے انھیں مدرسہ کی ملکیت کے دعوے سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مولانا عبدالعزیز نے 2 سال قبل مولانا عبدالغفار کو مدرسہ کے ایڈمنسٹریٹر سے نائب سربراہ یعنی ڈپٹی چیف کا عہدہ دیا تھا، تاہم 2 ماہ قبل انہوں نے مولانا عبدالغفار کو ڈپٹی چیف کے عہدے سے ہٹا دیا تھا لیکن مولانا عبدالغفار سرکاری اتھارٹیز کے قریب ہوگئے اور انھوں نے جامعہ فریدیہ کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا تھا جس کی وجہ سے مولانا عبدالعزیز سے ایکشن لیتے ہوئے انھیں ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا۔
اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین یعنی جامعہ فریدیہ کے ناظم مولانا عبدالغفار اور مولانا عبدالعزیز اس وقت مدرسے کے اندر ہیں اور دونوں اس کی ملکیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف مولانا عبدالعزیز کے جامعہ فریدیہ میں موجودگی کے بعد پولیس حکام نے انسداد دہشت گردی فورسز، انسداد دہشت گردی اسکواڈ اور انسداد فساد یونٹ سمیت اچھی طرح سامان سے لیس پولیس اہلکار جامعہ حفصہ کے اطراف میں تعینات کرکے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اب مولانا عبدالعزیز ان کی اہلیہ یا مدرسے کے طلباء کو جامعہ حفصہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
