بلوچستان اسمبلی: محکمہ ریونیو میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں محکمہ ریونیو کے معاملات میں کئی سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔

اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اصغر ترین نے کی، جس میں محکمہ ریونیو کی آڈٹ اور کمپلائنس رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ مالی سال 2016-17 میں محکمہ ریونیو کے بجٹ میں نان ڈویلپمنٹ فنڈز کے تحت 3 ارب 33 کروڑ روپے مختص کیے گئے، تاہم اس میں سے صرف 2 ارب 59 کروڑ روپے خرچ کیے گئے جبکہ 74 کروڑ روپے کی بچت واپس نہیں کی گئی۔

مزید انکشاف ہوا کہ 2019-21 کے دوران 3 کروڑ 37 لاکھ روپے کے اخراجات کا ریکارڈ محکمہ ریونیو فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ اسی طرح مالی سال 2020-22 میں مختلف ڈپٹی کمشنرز نے 19 ارب روپے سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے بجائے بینک اکاؤنٹس میں رکھے، جو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2019-21 کے دوران عشر، آبیانہ اور زرعی انکم ٹیکس کی مد میں ایک ارب روپے سے زائد کی وصولی نہیں کی گئی، جس کے باعث خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

بعد ازاں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 5 برس قبل دیے گئے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے والے ڈپٹی کمشنرز اور کمشنرز کے خلاف تحریکِ استحقاق لانے کا فیصلہ کیا۔

Back to top button