بلوچستان شدید سونامی اور طوفان کے خطرے سے دوچار

گوادر میں 12 جنوری 2022 کو رات 2 بجے کے قریب 77 برس کے بعد آنے والے زلزلے نے صوبہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ایک بار پھر سونامی اور طوفان کے خدشات کو جنم دے دیا ہے جس کے نتیجے میں 10 سے 15 فٹ بلند تباہ کن لہریں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ محمد ریاض کا کہنا ہے کہ مکران کی ساحلی پٹی پر زلزلہ آنے کا وقت آن پہنچا ہے۔
اُن کے مطابق اگرچہ اس کے صحیح وقت کا تعین مشکل ہے لیکن مکران ساحل کے سبڈکشن زون کی فالٹ لائن میں اتنی توانائی جمع ہوچکی ہے کہ کسی بھی وقت زلزلہ آ سکتا ہے جو ایک طوفانی سونامی لا سکتا ہے۔ ریاض کے مطابق مکران کے ساحل کے سبڈکشن زون پر آٹھ یا اس سے زائد شدت کا زلزلہ آسکتا ہے جو کراچی اور بلوچستان کی ساحلی پٹی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ یہ فالٹ لائن اب اپنا قدرتی ’ٹائم سکیل‘ مکمل کر چکی ہے اور سبڈکشن زون کافی سرگرم ہے اور شدت پکڑ رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں کسی وقت بھی زلزلہ آ سکتا یے جس کے نتیجے میں 10 سے 15 فٹ بلند لہریں پیدا ہو سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 1945 میں بھی بلوچستان میں سونامی طوفان آیا تھا۔ اس سونامی سے پسنی، گوادر اور دیگر علاقے متاثر ہوئے تھے اعر 4000 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ تب سونامی کے اثرات کراچی تک آئے تھے۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبے ارضیات کے پروفیسر ڈاکٹر نعمت اللہ کا کہنا ہے کہ ’یہ تخمینہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ کتنی توانائی پیدا ہوئی اور کتنی خارج ہوئی ہے، کس کو کیا پتہ کہ کل ہو جائے، پانچ سال کے بعد یا سو سال کے بعد، کوئی پیشگوئی نہیں کرسکتا۔ مکران میں جس طرح کا سبڈکشن ہے ایسا ہی جاپان میں بھی موجود ہے وہ بھی
پیشن گوئی نہیں کر پاتے ہیں۔ یاد رہے کہ مکران میں زلزلے اور سونامی سے قبل 1935 میں کوئٹہ میں زلزلہ آیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا ساحلی علاقہ سبڈکشن زون میں شامل ہے، جو 1000 کلومیٹر کی ایک پوری پٹی ہے جس پر پاکستان کے ساتھ ایران، عمان اور انڈیا بھی موجود ہیں۔ سبڈکشن ایک ارضیاتی عمل ہے۔ یہ تب پیدا ہوتا ہے جب ایک سمندری پلیٹ نیچے کی جانب کھسکتی جاتی ہے۔ سبڈکشن زونز میں سمندری پلیٹیں شامل ہوتی ہیں جو ان زلزلوں کے لیے مشہور ہیں جو سونامی پیدا کرتے ہیں۔
عمر عطا بندیال باضابطہ طور پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مقرر
ڈائریکٹر جنرل پاکستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی سندھ سید سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ مکران کی ساحلی پٹی پر دو ٹیکٹونک پلیٹس ملتی ہیں اور گوادر کے جنوب میں تقریباً 40 ناٹیکل میل کے فاصلے پر وہ پوائنٹ ہے جہاں یوریشین اور انڈین پلیٹس ملتی ہیں جو کہ سبڈکشن زون کہلاتا ہے۔
انڈونیشیا میں سنہ 2004 میں سونامی اور اس کے نتیجے میں آنے والی تباہی کے بعد وہ ملک جو سمندر کے قریب ہیں نے پیشگی اطلاع کے لیے ارلی وارننگ نظام قائم کیا۔ پاکستان میں محکمہ موسمیات کے سونامی وارننگ سینٹر کے سربراہ امیر حیدر کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی کی جانب سے 20 ارلی وارننگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔
گوادر اور پسنی میں یو این ڈی پی نے سائرن لگائے ہیں۔ کراچی سینٹر میں بیٹھ کر ایک کلک پر سونامی سائرن چلائے جا سکتے ہیں، ہنگامی صورتحال میں شراکت داروں کی پوری فہرست ہے، جن کو ایک خودکار نظام کے ذریعے وارننگ الرٹ جاری ہوجائے گی۔ بلوچستان کی بندرگاہ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کا مرکز گوادر اپنے محل وقوع کی وجہ سے سونامی کے حوالے سے حساس سمجھا جاتا ہے۔
امیر حیدر کے مطابق گوادر دونوں طرف سے سمندر کے حصار میں ہے وہاں کی آبادی کو سائٹ ایریا بھی بنا کر دیا گیا ہے اور وہاں پر باقاعدہ سیڑھیاں بھی بنی ہوئی ہے، ہر علاقے کی مختلف سائئٹس ہیں، پہلے مرحلے میں کہاں جانا ہے، دوسرے مرحلے میں کہاں پہنچنا ہے اور انھیں بروشر بھی دیے ہیں کہ انھوں نے گھر سے کیا کیا چیزیں اٹھانی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی نے 2008 میں گوادر میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا، جس میں لوگوں کو سونامی کی آگاہی اور تربیت فراہم کی گئی، اس پراجیکٹ کی کوآرڈینیٹر غزالہ نعیم کا کہنا ہے کہ 50 ہزار بچوں کو تربیت فراہم کی گئی ہے۔
گوادر کے علاوہ پسنی میں بھی لوگوں کو بتایا گیا کہ کس طرح نقل مکانی کرنی ہے اور کن مقامات کی طرف جانا ہے۔
