عافیہ صدیقی امریکی جیل میں کیسے زندگی گزار رہی ہیں؟

القاعدہ سے تعلق کے الزام میں ایک امریکی جیل میں عمر قید کاٹنے والی پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی بذریعہ فون اپنی والدہ اور بہنوں سے رابطے میں رہتی ہیں اور ڈاکٹرز انکا باقاعدہ نفسیاتی علاج بھی کر رہے ہیں۔ عافیہ نہ صرف روزانہ واک کرتی ہیں بلکہ جم بھی جاتی ہیں اور انہیں جیل میں حلال فوڈ کھانے کو ملتا ہے۔ عاقل ندیم ہیوسٹن میں پاکستان کے قونصل جنرل تعینات رہے اور اسکے بعد انڈونیشیا میں پاکستانی سفیر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں سر انجام دیں۔

انڈیپینڈنٹ اردو میں شائع ہونے والی ایک تحریر میں انہوں نے امریکی ریاست ہیوسٹن میں اپنی پوسٹنگ کے دوران عافیہ صدیقی سے امریکی حوالات میں ہونے والی ملاقاتوں کا قصہ بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ مجھے ڈاکٹر صدیقی کے خاندان سے بھی کئی دفعہ بات کرنے کا موقع ملا۔ ان کی والدہ، بہن اور ان کے ہیوسٹن میں قیام پذیر بھائی سے بھی میرا باقاعدہ رابطہ رہا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس رابطے میں مسائل کبھی عافیہ صدیقی کی ضد کی وجہ سے اور کبھی جیل انتظامیہ کی سختی کی وجہ سے پیدا ہوتے تھے۔ ندیم عاقل کے بقول عافیہ ٹیکساس میں واقع کارزویل جیل میں قید ہیں اور اسے وفاقی مرکز برائے صحت کا نام دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ ہیوسٹن میں تعینات تھے اس لئے عافیہ سے ملاقاتیں کرنا ان کے فرائض میں بھی شامل تھا۔

انکا کہنا ہے کہ یہاں صرف وہ خواتین قیدی زیرحراست ہیں جنہیں صحت کے خصوصاً نفسیاتی امراض لاحق ہیں۔ یہ وسیع و عریض رقبے پر محیط قید خانہ ہے جس کی حفاظت امریکی بحریہ کے سپرد ہے۔ یہ ٹیکساس کے دوسرے بڑے شہر ڈیلس کے قریب واقع ہے جہاں تقریباً ایک ہزار خواتین قیدی مقیم ہیں۔

بقول ندیم عاقل، اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ پاکستانی میڈیا پر جو خبریں چلتی ہیں کہ ان کے ساتھ جیل میں برا سلوک ہو رہا ہے، وہ بالکل غلط ہیں۔ انہیں وہاں جیل کے قواعد کے مطابق خاصی آزادیاں حاصل ہیں، وہ جِم بھی جاتی ہیں اور واک بھی کرتی ہیں۔ ان سے جیل کے دفتر میں کچھ کام لیا جاتا ہے لیکن اس کا انہیں معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ عافیہ کو شکایت تھی کہ انہیں جیل میں حلال کھانا نہیں ملتا۔ ہم نے اس کے لیے جیل کے حکام سے بات کی تو انہیں حلال کھانا بھی ملنا شروع ہو گیا۔ اس کے علاوہ ان سے ملنے جلنے پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ میں نے جب بھی ان سے ملنے کی درخواست کی، مجھے جلد ہی اجازت مل گئی۔

ان کی والدہ اور بہن انہیں باقاعدگی سے فون کرتی تھیں اور جب کبھی کبھی فون پر رابطہ نہیں ہو پاتا تھا تو وہ پریشان ہوتی تھیں۔ ان کی والدہ خاص طور پر اپنی بیٹی کی صحت اور فلاح کے بارے میں کافی پریشان رہتی تھیں۔ انکے بھائی جو ہیوسٹن میں قیام پذیر تھے وہ بھی ان سے ملنے جایا کرتے تھے لیکن ان کی ملاقاتیں اتنی باقاعدگی سے نہیں تھیں جتنی ان کی والدہ اور بہن ان سے ٹیلیفون پر بات کرتی تھیں۔ کبھی کبھی عافیہ صدیقی اپنی والدہ اور بہن سے ٹیلی فون پر بات کرنے پر بھی انکار کر دیتی تھیں اور کافی مشکلوں سے ان کو فون پر بات کرنے پر رضامند کیا جاتا تھا۔ میرے خیال میں یہ اس وقت ہوتا تھا جب وہ کافی پریشان ہوتی تھیں اور انھیں اپنی رہائی کے بارے میں زیادہ ناامیدی ہو جاتی تھی۔

انکا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ باہمت خاتون ہیں اور بہادری سے مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ عافیہ والی جیل کے ڈاکٹرز انکا باقاعدگی سے معائنہ کرتے ہیں۔ گو اکثر قیدی آپس میں مل جل سکتے ہیں لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور تقریباً 30 دیگر قیدی خواتین اس مرکز کے ایک علیحدہ حصے میں مقید ہیں۔ یہ تمام خواتین کسی نہ کسی بڑے جرم میں قید ہوئی ہیں۔ ان کا قید خانہ کافی بڑے ہال میں واقع ہے جس میں ہر قیدی کو ایک علیحدہ سیل ملا ہوا ہے۔ قیدیوں کو یہاں بستر اور ٹوائلٹ کی سہولت دستیاب ہے۔

ہر سیل بہت صاف ستھرا ہے اور مرکزی ہال میں کھلنے کی سہولت کے علاوہ ٹی وی کی سہولت بھی موجود ہے۔ اسکے علاوہ کھانے کی میزیں بھی لگی ہوئی ہیں۔ ہال سے منسلک ایک جمنازیم بھی ہے جو ل قیدی مقررہ اوقات میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی ہال کے ساتھ ایک وسیع لان بھی ہے جو قیدی مقررہ استعمال کرتے ہیں۔ اس حصے کے قیدیوں کے لیے علیحدہ ڈاکٹر موجود ہیں جو روزانہ قیدیوں کی صحت کا معائنہ کرتے ہیں۔

ندیم عاقل بتاتے ہیں کہ ان ڈاکٹروں میں ماہر نفسیات بھی شامل ہیں جو قیدیوں کی کونسلنگ کرتے ہیں۔ قیدیوں کے لیے مختلف مذاہب کے عالم بھی موجود ہیں جو ان سے باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے اور انہیں مذہبی مسائل کے حل کے بارے میں مشورے اور مدد دیتے ہیں۔ انہی میں ایک مسلمان عالم بھی شامل ہیں جن سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی باقاعدگی سے ملتی ہیں اور مختلف مسائل کے بارے میں بات کرتی ہیں۔

ندیم عاقل کے بقوک عافیہ کے ساتھ میری ملاقاتوں کے دوران کبھی کوئی جیل اہلکار ساتھ نہیں ہوتا تھا لیکن یقیناً ہماری گفتگو سنی اور ریکارڈ کی جا رہی ہوتی تھی۔ عموماً مرکز کے حکام کافی مددگار ہوتے تھے اور عافیہ کی شکایات پر ان کے حل کی کوششیں کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کی عافیہ عموما شلوار شلوار قمیض پہنتی ہیں اور انکا سر ہمیشہ ڈھکا رہتا ہے، کبھی کبھی وہ اپنا چہرہ نقاب سے ڈھک بھی لیتی ہیں۔ جب انہیں سزا دی گئی تھی تب وہ ہاتھوں میں زنجیروں میں جکڑی ہوئی میرے پاس ملاقات کے لیے لائی گئیں۔

میرے اصرار پر ان کی زنجیریں کھول دی گئی تھی۔ انھیں زنجیر تب پہنائی گئی جب انہیں قید تنہائی کی سزا دی گئی تھی کیونکہ ان پر جیل سٹاف کے ساتھ جھگڑنے کا الزام تھا۔ ندیم عاقل کے مطابق عافیہ زیادہ ادویات نہیں لیتی تھی لیکن جب انہیں ضرورت ہوتی تھی تو انہیں جیل ڈاکٹر ادویات مہیا کرتے تھے۔ انہیں کچھ ادویات پر شک بھی ہوتا تھا اور انہیں لینے سے انکار کر دیتی تھیں۔

ہیوسٹن میں سابق پاکستانی قونصل جنرل ندیم عاقل نے بتایا کہ عافیہ صدیقی نے انکے ساتھ کبھی اپنے خاندان کے مسائل بارے بات نہیں کی اور نہ ہی کبھی اپنے بچوں کے متعلق جاننے کی کوشش کی لیکن یہ باتیں وہ اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ کیا کرتی تھیں۔ میں ان کے لیے پاکستانی اخبارات اور فروٹ لے کر جایا کرتا تھا لیکن انہیں ان چیزوں کو دیکھ کر کچھ زیادہ خوشی نہیں ہوتی تھی یا وہ کسی قسم کی خوشی کا اظہار نہیں کرتی تھیں۔

منی بجٹ کے بعد 100روپے کے ری چارج پر بیلنس کتنا کم ہوا؟

ان کے ساتھ گفتگو سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک انتہائی ذہین خاتون ہیں اور بڑی روانی سے اپنا مدعا بیان کرتی ہیں۔ وہ میرے ساتھ اردو میں بات کرتی تھیں، لیکن ان کی انگریزی بھی بہت اچھی ہے اور میں نے دیکھا کہ وہ ڈاکٹروں اور دوسروں لوگوں سے انگریزی میں نہایت روانی سے گفتگو کرتی ہیں۔ وہ کافی جذباتی خاتون بھی ہیں اور انہیں حکومت پاکستان سے کافی شکایات بھی ہیں۔ وہ اکثر پوچھتی رہتیں کہ پاکستانی حکومت انہیں کیوں رہا نہیں کروا پا رہی؟ ان کا امریکی نظام عدل پر بھی کوئی یقین نہیں اور وہ یہ سمجھتی ہیں کہ ان کی موجودہ مشکلات ایک صیہونی سازش کا نتیجہ ہیں۔ انہیں اس بات کی بھی فکر ہوتی تھی کہ کہیں انہیں کھانے میں کچھ ملا کر دے نہ دیا جائے۔

ندیم عاقل بتاتے ہیں کہ عافیہ کی خواہش ہوتی تھی کہ ان سے ہر ہفتے ملاقات کی جائے جو کہ مختلف وجوہات کی بنا پر ممکن نہیں تھی لیکن میری کوشش ہوتی تھی کہ ان سے ہر مہینے ملاقات کی جائے۔ ایک دفعہ پاکستانی سینیٹ کا ایک وفد سینیٹر مشاہد حسین کی قیادت میں ان سے جیل میں ملنے گیا تھا جس کے انتظامات ہمارے سفارتخانے نے کیے تھے۔ اس ملاقات میں عافیہ صدیقی کی وکیل خاتون بھی موجود تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ عافیہ کو اپنے گھر والوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت ہے۔

فون کے لیے پیسے یا تو ان کے گھر والے ادا کرتے ہیں یا وہ یہ ادائیگی ان پیسوں سے کر سکتی ہییں جو وہ جیل میں کام کے عوض حاصل کرتی ہیں۔ عافیہ کو جیل کے اندر واقع دکان میں بھی جانے کی اجازت تھی جہاں سے وہ روز مرہ ضروریات کی اشیا خرید سکتی تھیں۔ سابق قونصل جنرل کے بقول عافیہ اکثر مجھ سے کہتی تھیں کہ وہ جلد از جلد اس صورت حال سے نکلنا چاہتی ہیں۔ اس میں ناکامی پر وہ کافی پریشان اور غصے میں بھی آجاتی تھیں۔ اس وجہ سے کئی بار ان کی جیل حکام سے تلخ کلامی بھی ہوتی رہی۔ اسی وجہ سے ایک مرتبہ انہیں قید تنہائی کی سزا دی گئی جو ہماری سفارتی مداخلت سے ختم ہوئی۔

Back to top button