منی بجٹ کے بعد 100روپے کے ری چارج پر بیلنس کتنا کم ہوا؟

پاکستانیوں کے لیے خبر ہے کہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر پیش کیے جانے والے ضمنی بجٹ کے بعد متعدد اشیا پر ٹیکس اور ڈیوٹیز کا استثنی واپس لے لیا گیا جس کے باعث ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں نے بیلنس ری چارج پر اضافی ٹیکس وصول کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
عوام دشمن کپتان حکومت کے صدر عارف علوی نے متنازع ضمنی مالیاتی بل 2021 المعروف منی بجٹ کی رسمی منظوری دے کر اسے پارلیمنٹ کے ایکٹ میں تبدیل کردیا ہے اور اس طرح عالمی مالیاتی فنڈ کا ایک اور بڑا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا ہے۔
ضمنی بجٹ کی منظوری سے پاکستان کا ہر موبائل فون صارف متاثر ہوگا۔ اس وقت 100 روپے کے ری چارج پر اگر 90.3 روپے کا بیلنس ملتا ہے مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔ درحقیقت اب صارفین کو ہر 100 روپے کے ری چارج پر 3.9 روپے کا اضافی ود ہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
اس طرح اب ہر 100 روپے کے ری چارج پر 90.9 کی بجائے 86.96 روپے کا بیلنس ملے گا۔ اس کا اطلاق تمام سروسز یعنی جاز، یوفون، ٹیلی نار اور زونگ کے صارفین پر ہوگا۔ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے بیلنس میں کٹوتی کے بارے میں صارفین کو آگاہ کرنے کے لیے ایس ایم ایس بھی ارسال کیے گئے ہیں۔
پاکستان، برطانیہ کا مجرموں کی واپسی کے معاہدے کا فیصلہ
خیال رہے کہ جولائی 2019 تک 100 روپے کے ری چارج پر 76.9 روپے کا بیلنس ملتا تھا مگر سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد ٹیلی کام کمپنیوں نے آپریشنل اور سروسز فیس کی وصول روک دی تھی۔ جس کے بعد صارفین کو 100 روپے کے ری چارج پر 90 روپے تک کا بیلنس ملنے لگا تھا۔
واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی بھرپور مخالفت کے باوجود 14 جنوری کو قومی اسمبلی میں منی بجٹ اور اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری کثرت رائے سے دی گئی تھی۔
حکومت کی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم اور قاف لیگ نے بجٹ پیش ہونے سے پہلے تو زبانی کلامی اس کی مخالفت کی لیکن جب وقت آیا تو انھوں نے عوام دشمن بجٹ کے حق میں ووٹ دیا۔ منی بجٹ کی منظوری سے حکومت کو ٹیکسوں کے نفاذ اور استثنیٰ واپس لینے پر اضافی 343 ارب روپے حاصل ہوں گے جو کہ لوگوں کی جیبوں سے نکالے جائیں گے۔
