کراچی میں دلہا قتل کرنے والے ڈکیت پولیس والا نکلا

کراچی میں پچھلے ہفتے ایک گھر کے دروازے پر ڈکیتی کی ناکام کوشش میں چند روز پہلے دولہا بننے والے شاہ رخ کو قتل کرنے والے نے پولیس کے گھیرے میں آنے کے بعد خود کو گولی مار کر اپنی جان لے لی۔ تاہم اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ قاتل کراچی پولیس کے انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کا سپاہی فرزند علی جعفری تھا جو ڈسٹرکٹ ویسٹ میں تعینات تھا۔ تاہم قاتل پولیس والے کے خاندانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس نے خودکشی نہیں کی بلکہ وہ پولیس کی حراست میں تھا اور اسے ماورائے عدالت مارا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں فرزند علی جعفری کو چند پولیس اہلکاروں کے ساتھ بحث کرتے اور الجھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ 12 جنوری کے روز کراچی میں ڈکیتی کے دوران ماں اور بہن کے سامنے ایک نوبیاہتا نوجوان کو قتل کر دیا گیا تھا۔ کراچی کے علاقے پاکستان ایمپلائز کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں کشمیر روڈ کے قریب ایک گھر کے باہر اپنی ماں اور بہن کے ساتھ ڈکیتی ہوتے دیکھ کر نوجوان نے مزاحمت کی تو ڈکیت اسے گولی مارنے کے بعد موٹرسائیکل پر فرار ہوگیا۔ پولیس نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تفتیش شروع کی اور ملزم کے ایک ساتھی تک پہنچ گئی جسے گرفتار کرنے کے بعد اس نے ملزم کو فون پر ملاقات کے لیے بلوایا۔ لیکن موقع پر پہنچ کر اسے پولیس کی موجودگی کا احساس ہوا تو اس نے گرفتاری سے پہلے ہی سر میں گولی مار کر خود کشی کرلی۔
اس سے پہلے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ماں اور بیٹی رکشے میں گھر کے باہر پہنچتی ہیں کہ ایک موٹر سائیکل سوار ملزم انہیں گن پوائنٹ پر گھیر لیتا ہے۔ اس دوران ایک خاتون نے گھر کی گھنٹی بجائی، رکشا ڈرائیور اس موقع پر فرار ہوجاتا ہے جبکہ ڈاکو ایک خاتون سے سامان بٹورنے میں مصروف ہوتا ہے۔ واردات کے وقت اسی گلی میں موجود سکیورٹی گارڈ نے بھی خواتین کی کوئی مدد نہیں کی۔ اتنے میں خاتون کا بیٹا شاہ رخ اچانک دروازہ کھول کر باہر نکلتا ہے اور ڈاکو کی جانب لپکتا ہے۔ یہ دیکھ کر ملزم اس پر فائر کرکے موقع سے فرار ہوجاتا ہے۔ زخمی شاہ رخ کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ پولیس کے مطابق متوفی کاروں کا شو روم چلاتا تھا۔ اس کی چند روز قبل شادی ہوئی تھی اور گھر میں ان دِنوں ولیمے کی تیاری ہو رہی تھی۔ نوبیاہتا شاہ رخ کی اچانک موت پر گھر میں کہرام مچ گیا تھا اور پولیس پر ملزمان کی گرفتاری کے لیے سخت دباو آ گیا تھا۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ایسٹ کراچی قمر رضا جسکانی کے مطابق شاہ رخ قتل کیس میں ایک مشتبہ ملزم علی فرزند جعفری کی گرفتاری کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کی پولیس پارٹی نے مخبر کی اطلاع پر گلشن اقبال بلاک 7 میں ایک ریسٹورنٹ پر چھاپہ مارا جسکے دوران پولیس کو دیکھ کر ملزم نے اچانک اپنا پستول نکال کر کنپٹی پر رکھا اور خود کو گولی مار لی۔ بتایا گیا ہے کہ متوفی شعبہ انویسٹی گیشن پولیس کا سپاہی تھا جو ڈسٹرکٹ ویسٹ میں تعینات تھا۔
پولیس کے مطابق خود کو قتل کرنے والے پولیس اہلکار کو سی سی ٹی وی کی مدد سے شناخت کیا گیا۔ ملزم کی مختلف زاویوں اور کیمروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی گئی تھی، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کی گلشن اقبال میں موجود ہونے کی اطلاع پر چھاپہ مارا گیا لیکن اس نے گرفتاری سے پہلے خودکشی کرلی۔
دوسری جانب مقتول شاہ رخ کے بھائی جہاںزیب کا کہنا ہے کہ اسے اپنے بھائی کے قاتل کی خودکشی کا سن کر بہت خوش ہوئی ہے۔ میرا بھائی تو شہیدا ہوا لیکن اس کا قاتل خودکشی کرنے کے بعد اب روز مرے گا۔ مقتول کے بھائی جہانزیب نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ قاتل انجام کو پہنچا جس پر ہم خوش ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے میرے بھائی کی روح نے بدلہ لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شاہ رخ کے قتل کے باوجود علاقے میں پٹرولنگ نہیں ہو رہی۔ دو روز قبل ایس آئی یو نے ملزم کی تصویر بھیجی تھی، والدہ اور بہن نے ملزم کو فوری شناخت کر لیا تھا جس کے بعد پتہ چلا کہ وہ تو ایک پولیس والا ہے۔
