پنجاب میں بسنت کی اجازت ملنےکاامکان

عوام کے پرزور مطالبے پر پنجاب حکومت نے صوبے میں محدود پیمانے پر بسنت منانے اور پتنگ بازی کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکام نے پنجاب میں بسنت منانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے رائج قانون میں ترمیم لانے کا بھی عندیہ دے دیا ہے۔
خیال رہے کہ پے درپے حادثات اور دھاتی ڈور کے استعمال کی وجہ سے پنجاب بھر میں موسم بہار کے روایتی تہوار بسنت پر پابندی عائد ہے۔ طویل عرصے سے قانونی پابندی کے باعث یہ تہوار ماضی کا حصہ بن چکا تھا، تاہم اب حکومت کی جانب سے یہ عندیہ دیا جا رہا ہے کہ پتنگ بازی کو مخصوص مقامات اور شرائط کے تحت دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق صوبائی حکام نے اس سلسلے میں مختلف تجاویز پر غور کیا ہے، جن میں پتنگ بازی کے لیے محفوظ زونز کا قیام، لائٹ ویٹ اور بے ضرر ڈور کے استعمال سمیت سخت سیکیورٹی پروٹوکول شامل ہیں۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ حکومت قانون میں ترمیم کے ذریعے اس پابندی میں نرمی کا قانونی راستہ تلاش کر رہی ہے تاکہ کسی قسم کی عدالتی یا انتظامی رکاوٹ نہ رہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بسنت کا تہوار لاہور اور پنجاب کی تہذیبی پہچان کا حصہ رہا ہے۔ کبھی پرانے لاہور کی فضا رنگ برنگی پتنگوں سے اٹ جاتی تھی، چھتوں پر گیت، طبلے اور قہقہے گونجتے تھے، اور یہ تہوار دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ لاتا تھا۔ تاہم 2005 کے بعد بسنت پر پابندی اس وقت عائد کی گئی جب خطرناک دھاتی ڈورکے باعث متعدد حادثات میں درجنوں افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہونے لگے تھے۔ اسی طرح دھاتی ڈور کی وجہ سے بجلی کی ترسیل متاثر ہونے، موٹر سائیکل سواروں کے حادثات اور بجلی کے بریک ڈاؤن جیسے واقعات نے اس تہوار کو خوشی سے المیے میں بدل دیا تھا۔ جس کے بعد حکومت نے پنجاب بھر میں بسنت پر سخت پابندی عائد کر دی تھی۔ اس پر پہلے محدود اور پھر مکمل پابندی لگادی گئی تھی۔ قانون میں تبدیلی کر کے نہ صرف پتنگ بازی و پتنگ سازی بلکہ پتنگ کی منتقلی اور اس کے کاروبار سمیت تمام سرگرمیوں پر بھی پابندی لگا کر اسے ناقابل ضمانت جرم قرار دیدیا گیا تھا اور اس کی سزا درجہ بندی کے ساتھ تین سال سے سات سال قید اور پچاس ہزار سے پچاس لاکھ روپے جرمانہ مقرر کر دی گئی تھی۔ اس قانون سازی کے بعد اس کا روبار سے براہِ راست منسلک ہزاروں افراد بے روزگار ہو گئے تھے۔ یاد رہے کہ پتنگ بازی پر پابندی کے حوالے سےسخت ترین قانون سازی بھی مسلم لیگ ن کے دور میں ہی ہوئی تھی اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف بحیثیت وزیر اعلیٰ اس کے شدید مخالف رہے ہیں۔ تاہم اب ایک بار پھر بسنت کی محدود پیمانے پر اجازت دینے کی خبریں زیر گردش ہیں۔
یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں کی بسنت کی محدود اجازت دینے کی خبریں سامنے آئی ہوں ماضی میں مسلم لیگ ن ہی کی جانب سے وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز شریف کے مختصر دور حکومت میں بھی محدود پیمانے پر بسنت منانے کی اجازت دی گئی تھی جو کامیاب نہیں ہوسکی تھی ۔ اب ایک بار پھر مریم نواز کے دور اقتدار میں پھر محدود ومحفوظ بسنت پر غور کیا جارہا ہے جو موسم بہار کے سرکاری طور پر منائے جانے والے جشن بہاراں کا حصہ ہوگی۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اب بھی بسنت پر مکمل پابندی ختم نہیں کر رہی بلکہ بسنت کی محدود اجازت کی تجویز پر غور کر رہی ہے تاکہ کسی کی جان خطرے میں ڈالے بغیر عوام کو ثقافتی اظہار کا موقع مہیا کیا جا سکے ان کے بقول، اگر پتنگ بازی محدود علاقوں اور مخصوص دھاگے تک محدود کی جائے تو خطرات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ماڈل ٹاؤن پارک، جناح گارڈن اور چند کھلے میدانوں میں بسنت فیسٹیول کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔
سماجی تجزیہ کاروں کے مطابق،بسنت نے لاہور کو عالمی شہرت دلائی ہے، بسنت محض ایک تہوار نہیں بلکہ “پنجاب کی تہذیبی روح” ہے۔ مگر بدقسمتی سے چند غیر ذمہ دار عناصر نے اسے خطرناک بنا دیا ہے۔ اب اگر حکومت جدید سائنسی تقاضوں کے ساتھ حفاظتی نظام وضع کرے تو یہ روایت دوبارہ زندہ کی جا سکتی ہے۔ تاہم بسنت کی بحالی سے پہلے حکومت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ موجودہ حالات میں پولیس، انتظامیہ اور شہری ادارے کس حد تک مؤثر نگرانی کر سکتے ہیں۔ ایک جان بھی ضائع ہوئی تو سارا کریڈٹ الزام میں بدل جائے گا۔دوسری جانب لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد سمیت پنجاب کے مختلف شہروں کے عوام نے بسنت کے ممکنہ انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر “#BasantReturns” اور “#LetUsCelebrate” جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا صارفینکا کہنا ہے کہ “حکومت کو عوامی تفریح کے ساتھ عوامی سلامتی کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔
معاشی ماہرین کے مطابق “بسنت فیسٹیول صرف تفریح نہیں، بلکہ ایک مکمل معاشی سرگرمی ہے اس تہوار کی بحالی سے ہزاروں افراد کا روزگار بھی بحال ہو جائے گا اگر بسنت محفوظ انداز میں بحال کر دی گئی تو لاہور اور دیگر شہروں کی معیشت میں اربوں روپے کا فائدہ ہو سکتا ہے۔ ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، دستکاری، اور پتنگ سازی جیسے کاروبار دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔ تاہم پنجاب حکومت کے لیے بسنت کی محدود اجازت ایک سیاسی اور انتظامی چیلنج بھی ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو نہ صرف عوامی تفریح بحال ہوگی بلکہ پاکستان کا ثقافتی تشخص بھی نکھر کر سامنے آئے گا۔ تاہم اگر معمولی سی بھی غفلت ہوئی تو یہ فیصلہ حکومت کے لیے سیاسی بوجھ بن جائے گا۔
