ججزکوغیرسیاسی بنانے کیلئےبڑےفیصلے

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے عمراندار ججز کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور عوامی سرگرمیوں کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے لیے میڈیا سے گفتگو اور غیر ضروری تقریبات میں شرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے ججوں کے ضابطۂ اخلاق میں وسیع پیمانے پر ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے واضح ہدایات جاری کر دی ہیں کہ کوئی جج سیاسی نوعیت کے معاملات پر اظہارِ رائے نہیں کرے گا، نہ ہی میڈیا سے براہِ راست رابطے میں رہے گا۔ اسی طرح ججز کی سماجی اور سفارتی تقریبات میں شرکت پر بھی سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں بعض ججز کی جانب سے سیاسی تقریبات میں شرکت اور غیر رسمی ملاقاتوں کے دوران تحریک انصاف اور عمران خان کے حق میں بیانات سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے متعلقہ ججز کو وارننگ جاری کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے طرزِ عمل سے باز نہ آئے تو ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے جاری اعلامیے کے مطابق نئے ضابطۂ اخلاق کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے ججز، کسی بھی عوامی فورم پر تقریر یا گفتگو کی صورت میں سیاسی یا متنازع نوعیت کے سوالات پر رائے نہیں دے سکیں گے۔ ججز کو میڈیا سے رابطہ کر کے ایسا بیان دینے سے بھی روکا گیا ہے جو عوامی بحث یا ادارہ جاتی نظم و ضبط کو متاثر کرے۔ اعلامیے کے مطابق اگر کسی جج پر عوامی سطح پر الزام لگایا جائے تو وہ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں قائم  پانچ رکنی کمیٹی کو تحریری طور پر آگاہ کرے گا۔ کمیٹی میں چیف جسٹس کے ساتھ سپریم کورٹ کے چار سینئر ججز بھی شامل ہوں گے،کمیٹی جج پر عائد کردہ الزامات اور شکایت کا جائزہ لے کر رجسٹرار کے ذریعے ادارہ جاتی جواب جاری کرے گی۔

ترمیم شدہ ضابطہ کے مطابق ججز کو حتی الامکان مقدمہ بازی سے گریز کرنا ہوگا اور وہ صنعتی، تجارتی یا قیاس آرائیوں پر مبنی لین دین کا حصہ نہیں بن سکیں گے۔ ججز صرف اپنے قریبی رشتہ داروں یا دیرینہ دوستوں سے معمولی نوعیت کے تحائف وصول کر سکیں گے۔ کسی جج کو وکیل ذاتی طور پر کھانے پر مدعو نہیں کر سکے گا۔ اسی طرح اگر کسی جج کو کسی کانفرنس یا تقریب میں مدعو کیا جائے تو دعوت نامہ متعلقہ چیف جسٹس کے ذریعے بھیجا جائے گا۔ اگر کسی ہائی کورٹ کے جج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جائے تو وہ فوراً چیف جسٹس ہائی کورٹ، چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ کے چار سینئر ججز کو تحریری طور پر آگاہ کرے گا۔ یہی اصول سپریم کورٹ کے ججز پر بھی لاگو ہوگا۔

ججز کوڈ آف کنڈکٹ میں مزید کہا گیا کہ ایک جج جس حد تک ممکن ہو سکے خود یا کسی اور کے ذریعے مقدمہ بازی سے گریز کرے گا جبکہ کوئی بھی جج صنعتی، تجارتی یا پھر قیاس آرائیوں پر مبنی لین دین کا حصہ نہیں بنے گا۔کوڈ آف کنڈکٹ میں ججز کو انتہائی قریبی رشتہ داروں یا دوستوں سے معمولی نوعیت کے تحائف لینے کی اجازت دی گئی ہے۔

PPP کو اب بھی اپنے مطالبات پورے ہونے کا یقین کیوں نہیں

 

کوڈ آف کنڈکٹ میں ترامیم کے بعد اب جج عدالتی یا انتظامی امور پر عوامی تبصرہ نہیں کر سکیں گے، اور نہ ہی ذاتی یا سرکاری امور سے متعلق مراسلات ظاہر کر سکیں گے جبکہ آرٹیکل 12 کے تحت ججوں کو سماجی، ثقافتی یا سفارتی تقاریب کی صدارت یا شرکت سے اجتناب کا پابند بنایا گیا ہے۔آرٹیکل 13 کے مطابق، غیر ملکی یا بین الاقوامی اداروں سے کانفرنس یا اجلاس کی دعوت طلب کرنا بدعنوانی تصور ہوگا،اسی طرح آرٹیکل 14 ججوں کو بار کے انفرادی اراکین کی طرف سے ان کے اعزاز میں دیے جانے والے عشائیوں یا ضیافتوں میں شرکت سے منع کرتا ہے۔

 

Back to top button