PPP کو اب بھی اپنے مطالبات پورے ہونے کا یقین کیوں نہیں ؟

 

 

 

مقتدر حلقوں کی جانب سے اظہار ناراضی کے بعد لیگی قیادت نے پیپلز پارٹی کے خلاف جاری محاذآرائی ختم کرکے ان کے تمام تحفظات کا ازالہ کرنے اور مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے ۔تاہم پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں کا یہ خیال ہے کہ انھیں ایک مرتبہ پھر چپ کروانے کیلئے بچہ دیا گیا ہے اور ان کے مطالبات ماضی کی طرح لٹکے رہیں گے۔

 

ذرائع کے مطابق طاقتور حلقوں نے مریم نواز کے سندھ مخالف جارحانہ رویے کو سخت ناپسند کیا ہے جس کے بعد انہیں پیغام دیا گیا ہے کہ وہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ اپنے معاملات بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی مریم نواز کے رویے سے ناخوش ہیں۔ شہباز شریف کو گلہ ہے کہ مریم نواز بلاوجہ پنجابی شاونزم کے نعرے بلند کرتے ہوئے ان کی اتحادی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں جبکہ وفاقی حکومت کو چلانے کیلئے پیپلز پارٹی کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ قائم رکھنا بہت ضروری ہے جس کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے جہاں پارٹی رہنماؤں کو پیپلز پارٹی مخالف بیانات دینے سے روک دیا ہے وہیں دوسری جانب مریم نواز کو بھی مصالحانہ اور مفاہمتی حکمت عملی اپنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی میں یہ تبدیلی وقتی سیاسی مجبوری ہے، جس کا مقصد نہ صرف اتحادی حکومت کو بچانا ہے بلکہ مقتدر حلقوں کے ساتھ تعلقات کو خوشگوار بنانا بھی ہے۔ معروف تجزیہ کار حسن عسکری رضوی کے مطابق، "موجودہ سیاسی بندوبست میں مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کی بقا کا دارومدار محاذ آرائی کی بجائے مفاہمت پر ہے، دوسری طرف کچھ مبصرین اس نئی حکمت عملی کو مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر مریم نواز کا جارحانہ بیانیہ مؤثر ہوتا تو پارٹی اسے واپس نہ لیتی۔ نون لیگ نے اپنی جارحانہ حکمت عملی صرف مقتدر حلقوں کے دباؤ کی وجہ سے تبدیل نہیں کی بلکہ زمینی سیاسی حقیقتوں کا ادراک بھی ہے، جس نے ن لیگ کو یوٹرن لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اب "مفاہمت کی سیاست” کو اپنا کر نہ صرف اپنی اتحادی حکومت کو مستحکم کرنا چاہتی ہے، بلکہ مستقبل کے انتخابات کے لیے بھی خود کو ایک زیادہ معتدل اور قومی جماعت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش میں ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ حکمت عملی دیرپا ثابت ہوگی یا وقتی دباؤ کا نتیجے میں عارضی تبدیلی ثابت ہو گی؟

 

پیپلز پارٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف زرداری نے پنجاب میں پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے مابین اختلافات کا معاملہ متعلقہ حلقوں کیساتھ اٹھادیاہے جس کے بعد لیگی قیادت کو مزاحمت چھوڑ کر مفاہمت اپنانے کا مشورہ دیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں ہونے والے پیپلزپارٹی کے سی ای سی اجلاس کے دوران شرکا کی اکثریت نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے رویے پر ناراضگی کا اظہار کیا، کئی صوبائی اور مرکزی رہنماؤں نے ن لیگ کی منفی سیاست کے پیش نظر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے کی بات کی۔ اجلاس میں پی پی پی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی کو حکومت میں شامل ہوکر کابینہ کا حصہ بننا چاہیے، بصورت دیگر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنا چاہیے۔ پی پی پی رہنماؤں نے صدر زرداری کو تجویز دی کہ متعلقہ حلقوں کو بتائیں کہ کیسے مریم نواز اتحاد میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں۔صدر زرداری نے تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے شرکاء سے ایک ماہ کا وقت مانگا۔ جس کے بعد اب تازہ اطلاعات کے مطابق صدر زرداری نے محاذ آرائی کا معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے اٹھا دیا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں صدر زرداری صدر نواز شریف کیساتھ ملاقات میں بھی یہ معاملہ اٹھا سکتے ہیں۔

دوسری جانب لیگی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس سے قبل مسلم لیگ (ن) نے اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے کشیدہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مفاہمتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ باہمی شکایات کے ازالے اور حکومت میں اشتراکِ عمل کو مزید مؤثر بنانے کیلئے مسلم لیگ (ن) آئندہ ہفتے پیپلز پارٹی سے باضابطہ مذاکرات کا آغاز کردے گی،ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون کی جانب سے مذاکرات کی قیادت وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و بین الصوبائی رابطہ سینیٹر رانا ثناء اللہ خان کریں گے اور دونوں جماعتوں کے مابین کشیدہ تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے عملی اقدامات کرینگے، ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز لاہور میں پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کے دوران جہاں اپنے تحفظات اور پیپلز پارٹی کے ساتھ بہتر تعلقات کی ضرورت پر زور دیا ہے وہیں انھوں نے نواز شریف سے پیپلز پارٹی کے تحفظات کے ازالے کیلئے اپنی پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لینے اور مناسب ہدایات جاری کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ جس کے بعد اب قائد مسلم لیگ ن نے اس حوالے سے باقاعدہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات کے موقع پر مریم نواز شریف نے گفتگو میں احتیاط برتی اور سیاسی کشیدگی سے گریز کے مؤقف کو اپنایا۔ انہوں نے چچا شہباز شریف کو یقین دہانی کروائی ان کی ترجیح صوبے کی ترقی، عوامی مسائل کا حل، اور انتظامی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کی ٹیم خدمت کے جذبے سے کام کر رہے ہیں اور سیاسی اختلافات کو عوامی مفاد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ قطعا پیپلزپارٹی سے محاذآرائی اور بیان بازی کے حق میں نہیں تاہم جب پیپلز پارٹی کی جانب سے بیانات اور الزامات سامنے آتے ہیں تو جواب دینا ان کی مجبوری بن جاتا ہے۔ تاہم ملاقات کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے  حالیہ سیاسی تناؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی رہنماؤں اور وزراء کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے بارے میں اختلافی بیانات سے گریز کریں تاکہ اتحادی فضا برقرار رکھی جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال اور حکومت سازی کے تناظر میں بھی پیپلز پارٹی سے مشاورت متوقع ہے، جو کہ دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی ایک اور کوشش ہوگی۔

 

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان حالیہ مفاہمتی کوششیں محض وقتی سیاسی ضرورت نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی بندوبست کا حصہ ہیں، جس میں مقتدر حلقوں کی توقعات، قومی اتحاد اور حکومت کی بقا شامل ہے۔ مبصرین کے بقول اگرچہ بیانیے میں نرمی ایک مثبت قدم ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ عملی سطح پر دونوں جماعتیں کس حد تک باہمی اعتماد بحال کر پاتی ہیں، اور آنے والے دنوں میں یہ مصالحت محض عارضی ثابت ہو گی یا مستقبل کی دیرپا شراکت داری کی بنیاد رکھے گی۔

 

Back to top button