دوحہ معاہدہ ٹوٹا تو افغانستان کو لینے کے دینے کیوں پڑ جائیں گے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ اگر انڈیا کی پراکسی بن جانے والی افغان طالبان حکومت نے دوحہ امن معاہدہ توڑنے کی غلطی کی اور دوبارہ پاکستان کے ساتھ پنگا لیا تو اسے لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ انکے مطابق پاکستان نے روسی اور امریکی فوج کی طرح افغانستان میں گھس کر کوئی فوجی اڈہ قائم نہیں کرنا بلکہ وہاں پاکستان دشمن دہشت گردوں کے اڈے تباہ کرنے ہیں۔ حامد میر کہتے ہیں کہ افغان طالبان نے 2020 کا دوحہ امن معاہدہ توڑ کر کابل پر قبضہ کر لیا تھا اور پھر عبوری حکومت بنا لی۔ لیکن اگر 2025 کا دوحہ امن معاہدہ توڑنے کی غلطی کی گئی تو افغان حکومت کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ صرف پانچ سال میں کیا سے کیا ہو گیا۔ پانچ برس پہلے عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم تھے اور اشرف غنی افغانستان کے صدر تھے۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے افغان طالبان کو امریکا کے ساتھ مذاکرات پر راضی کیا۔ اشرف غنی ان مذاکرات کیخلاف تھے لیکن 29 فروری 2020 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور افغان طالبان نے ایک امن معاہدے پر دستخط کر دیئے۔ اس معاہدے کے تحت 10 مارچ 2020 سے سیز فائر ہو گیا۔ امریکا سمیت نیٹو ممالک کی فوج افغانستان سے واپسی پر راضی ہوگئی اور طالبان نے وعدہ کیا کہ وہ فوجی طاقت کے ذریعے کابل پر قبضہ نہیں کریں گے۔

حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ دوحہ امن معاہدے پر پاکستان کی حکمران اشرافیہ نے فتح کے شادیانے بجائے اور اسے پاکستان کی بہت بڑی کامیابی قرار دیا۔ تب میں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ افغان طالبان کابل کا گھیرائو کر چکے ہیں اور مغربی افواج کی واپسی کے بعد ناصرف کابل پر قبضہ کر لیں گے بلکہ پاکستان کو بھی بہت ٹف ٹائم دیں گے۔چند روز بعد 15 اگست 2021 کو طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے سقوط کابل امریکہ کی شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔ اسکے بعد اشرف غنی کابل سے فرار ہوگئے۔

دوسری طرف جنرل فیض حمید بطور آئی ایس آئی چیف سقوط کابل کا کریڈٹ لینے کیلئے بن بلائے کابل پہنچ گئے۔ لیکن دوحہ امن معاہدے کی خلاف ورزی میں افغان طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو پاکستان کو لینے کے دینے پڑگئے۔ اس ماحول میں جنرل قمر جاوید باجوہ ایک اور ایکسٹینشن کے چکر میں پڑگئے اور جنرل فیض نے نیا آرمی چیف بننے کیلئے جوڑ توڑ شروع کر دیا۔ اس سے پہلے عمران خان کے دور حکومت میں فیض حمید کے مشورے پر ہزاروں طالبان جنگجعوں کو افغانستان سے پاکستان واپس لا کر بسانے کی فاش غلطی ہو چکی تھی۔

اسی دوران جب جنرل باجوہ اور عمران خان کے مابین نئے آئی ایس آئی چیف کی تقرری پر اختلافات پیدا ہوئے تو ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آ گئی اور موصوف کی چھٹی ہو گئی۔ شہباز شریف نئے وزیر اعظم بن گئے۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ تب کور کمانڈر پشاور لگ جانے والے جنرل فیض حمید ایک بار پھر کابل گئے جہاں اُنہوں نے تحریک طالبان کی قیادت کو قیمتی تحفے بھی دیئے لیکن معاملہ آگے نہ چل سکا۔ پھر باجوہ اور فیض بھی منظر سے ہٹ گئے۔ اب پانچ سال کے بعد پاکستانی قیادت اور افغان طالبان کی دوحہ میں دوبارہ ملاقات ہوئی ہے۔ پاکستان نے طالبان پر واضح کیا ہے کہ اگر آپ نے افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والی تنظیموں کی روک ٹوک نہ کی تو پھر دہشت گردوں کے خلاف لڑائی پاکستان میں نہیں بلکہ افغانستان کے اندر ہو گی اور ایک حملے کے رد عمل میں 10 حملے کیے جائیں۔

قطر کی ثالثی سے دوحہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو امن معاہدہ طے پا گیا ہے اسے کامیاب بنانے میں بہت سی رکاوٹیں ہیں۔ افغان طالبان اور پاکستان کی حکومت کے درمیان عدم اعتماد انتہا پر ہے۔ پاکستان میں افغانوں کو بُرا بھلا کہا جارہا ہے اور افغانستان میں پاکستانیوں کو گالیاں دی جارہی ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ وہ مودی جو اکھنڈ بھارت میں صرف پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، برما، نیپال اور مالدیپ ہی کو نہیں بلکہ افغانستان کو بھی ضم کرنا چاہتا ہے، افغان طالبان کو اپنی گود میں بٹھا کر پاکستان کیخلاف تھپکیاں دے رہا ہے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ ایسے ماحول میں افغانوں کو احسان فراموش قرار دیا جا رہا ہے اور افغان بھی اپنی سرحدیں اٹک تک پھیلانے کے دعوے کر رہے ہیں۔

 

Back to top button