بنگال انتخابات! تاریخ خود کو دہرانے کیلئے بے قرار

تحریر: نصرت جاوید
ایران پر گزشتہ نو ہفتوں سے اسرائیل اور امریکہ نے جو جنگ اور کشیدگی مسلط کررکھی ہے بطور پاکستانی میں اس سے توجہ ہٹانے کے قابل نہیں۔ آبنائے ہرمز میرے اور آپ کی نقل وحرکت کے لئے درکار پٹرول کی فراہمی کے حوالے سے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ہمارے قدرتی گیس کے ذخائر گھریلو صارفین کی طلب پورا کرنے کے قابل بھی نہیں رہے ۔ گھریلو اور صنعتی استعمال کے لئے گیس لہٰذا قطر سے درآمد کرنا لازمی ہے۔ آبنائے ہرمز کی راہداری سے آئی درآمدات کے علاوہ حقیقت یہ بھی ہے کہ لاکھوں پاکستانی تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال خلیجی ممالک میں خون پسینہ ایک کرتے ہوئے ہمارے بے شمار گھرانوں کے کفیل ہیں۔ ان کی بھیجی رقوم ہمارے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو اہم سہارا فراہم کرتی ہیں۔ بہت سے نوجوان بہتر مستقبل کی خاطر ان ممالک میں مزید نوکریوں کے امکانات نمایاں ہونے کے لئے دعا گو ہیں۔ سادہ ترین الفاظ میں اعتراف کرنا ہوگا کہ ایران سے مصر تک پھیلے ممالک میں دیرپا امن ہماری بقاءاور خوش حالی کی ضمانت ہے ۔ وہاں پھیلی بے یقینی ہماری اکثریت کی روزمرہّ زندگی ناقابل برداشت بنادیتی ہے ۔ اس تناظر میں آپ کو وہ اضطراب یاد رکھنا ہوگا جو گزرے جمعہ کی رات ختم ہونے سے پہلے پٹرول کی قیمتوں میں 15روپے اضافے کے اعلان نے بھڑکایا تھا۔
ایران سے مصر تک پھیلے ممالک میں استحکام اور دیرپا امن کی خواہش اور توقع کسی اور موضوع کے بارے میں سوچنے کی مہلت فراہم نہیں کرتی۔ بطور صحافی دیگر موضوعات پر لکھنے سے آپ اس لئے بھی گریز کرتے ہیں کہ ذاتی زندگیوں میں بے شمار مسائل کا سامنا کرتے قارئین دیگر ممالک کے مسائل کو زیر بحث لانا سفاکی یا لکھاری کی بے حسی شمار کریں گے ۔ یہ محسوس نہ بھی کریں تو اپنی دانست میں “ٹھوس” ٹھہرائے موضوعات سے ہٹ کر لکھی تحریر پڑھنا نہیں چاہیں گے ۔
قارئین کی ترجیحات کے دیانتدارانہ احترام کے باوجود میں ایک ہفتے سے بھارت کی سیاست پر توجہ مبذول رکھنے کو مجبور ہوا۔ وہاں چند صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد ہوئے ۔ ان میں سے مغربی بنگال اور تامل ناڈو کے انتخاب بھارتی سیاست کے مستقبل کے لئے کلیدی حیثیت کے حامل تھے ۔ مغربی بنگال کی انتخابی مہم مگر بھرپور توجہ کی حقدار تھی۔ یہ فقرہ لکھتے ہی خیال آیا کہ ملتان یا چکوال میں بیٹھا قاری ہم سے کہیں دورواقع مغربی بنگال کی سیاست پر توجہ مرکوز رکھنے میں وقت کیوں ضائع کرے ۔ اس سوال کا جواب سوچتے ہوئے یاد آیا کہ کئی دہائیوں سے ہم خود کو “مسلم اُمہ” کے حقیقی ترجمان ثابت کرنے کو بے چین رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر چھائے بے شمار ذہن ساز “اسلاموفوبیا” کے مستقل شاکی بھی ہیں۔ اس تناظر میں کرکٹ کی بدولت کرشمہ ساز ہوئے ایک سیاستدان کو اسلام کا حقیقی محافظ تصور کیا جاتا ہے ۔ تاریخ کی ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ مذکورہ سیاستدان کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت یقینی بناتی بھارتی آئین کی ایک شق کا خاتمہ کردیا تھا۔ اس کی خودمختاری پامال کرتے ہوئے جموں اور کشمیر کو لداخ سے الگ کرتے ہوئے براہِ راست دلی کے حوالے کردیا گیا اور ہم اس حوالے سے دنیا کو باخبر رکھنے میں ناکام رہے ۔
“دو قومی نظریہ” ہمارے ملک کی بنیادبتایا جاتا ہے ۔ اس نظریہ پر ایمان رکھنے والے بھارت میں آباد مسلمانوں کی روزمرہّ زندگی اور مسائل کی مسلسل جانکاری ہی سے خود کو سمجھاسکتے ہیں کہ سرسید احمد خان سے لے کر علامہ اقبال اور قائد اعظم تک برصغیر کے مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کے قیام کی جدوجہد کو مجبور کیوں ہوئے ۔ قیام پاکستان کے بعد پیدا ہوئی میری نسل مگر ان وجوہات سے غافل ہے جنہوں نے مسلمانوں کو ایک جدا وطن کے قیام کے لئے اُکسایا تھا۔ ہماری غفلت مگر بھارت میں آباد مسلمانوں کی ان مشکلات کو جھٹلانہیں سکتی جو گزشتہ کئی برسوں سے ہندو انتہا پسندوں نے نہایت منظم انداز میں ان پر مسلط کررکھی ہیں۔
بطور صحافی ہاتھ اٹھا کر اعتراف کرنے کو مجبور ہوں کہ ہمارے میڈیا نے ہندوتوا کی یلغار سے پاکستانیوں کو غافل رکھا۔ بھارتی مسلمانوں سے کہیں زیادہ توجہ غزہ کی پٹی تک محدود ہوئے فلسطینیوں کی حالت زار اجاگر کرنے پر مرکوز رہی ہے ۔ اس حوالے سے بھی لیکن پیش قدمی ہماری جانب سے نہیں ہوئی۔ فلسطینیوں نے نہایت لگن سے اپنا بیانیہ لوگوں تک پہنچانے کا ڈھنگ سیکھ لیا ہے ۔ نام نہاد عالمی میڈیا بھی اس پر توجہ دینے کو مجبور ہے ۔ صیہونی نسل پرستوں کی طرح بھارت کے ہندوانتہا پسند بھی اپنے ہاں آباد مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری بنانے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ ان کا جنون مگر پاکستانی صحافی دنیا تو کیا اپنے قارئین وناظرین تک پہنچانے میں بھی شرمناک حد تک ناکام رہے ہیں۔ کسی اور کو دوش کیا دینا۔ تین دن قبل تک دنیا جہاں کی خبر رکھنے والے مجھ جیسے خود ساختہ عقل کل کو بھی علم نہیں تھا کہ مغربی بنگال کی 15برسوں سے وزیر اعلیٰ رہی ممتا بینر جی کو للکارنے والا ہندوانتہا پسند انتخابی مہم کے دوران بارہا یہ بڑھک لگاتا رہا کہ وہ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد مغربی بنگال کو وہاں کئی نسلوں سے آباد مسلمانوں کے لئے “غزہ” بنادے گا۔
سفاکانہ ڈھٹائی سے کیمروں کے روبرو مغربی بنگال کو مسلمانوں کا غزہ بنانے کے دعوے دار کی بطور وزیر اعلیٰ حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لئے بھارتی وزیر اعظم خصوصی پرواز سے کلکتہ گیا۔ طمانیت بھرے چہرے سے اسے گلے لگایا۔ اس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر بنگال فتح کرنے کا جشن منایا۔ دورِ حاضر میں آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے دار ملک کے وزیر اعظم کے اس رویے کا دنیا کے کسی اخبار میں ذکر نہ ہونا میرے لئے فکر مندی کا باعث نہیں۔ شرمساری یہ تسلیم کرتے ہوئے محسوس ہورہی ہے کہ مودی کی سرپرستی میں منظم انداز میں پھیلائی مذہبی منافرت کا پاکستانی میڈیا میں بھی تفصیلاََ ذکر نہیں ہورہا۔
مغربی بنگال کی انتخابی مہم پر توجہ دینے کی وجہ سے فقط گزشتہ ہفتے دریافت کیا ہے کہ مغربی بنگال کی صوبائی اسمبلی میں کم ازکم سو سے زیادہ نشستیں ایسی تھیں جہاں مسلم ووٹوں کی تعداد اوسطاََ 32فیصد تھی۔ وہ جس جماعت کو یکجا ہوکر ووٹ دیں اسے اقتدار میں آنے سے روکا نہیں جاسکتا۔ مذکورہ حقیقت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے بھارتی الیکشن کمیشن نے حلقوں کی نئی “حد بندی” کا فیصلہ کیا۔ اس کے ذریعے نہایت مہارت سے مسلمان ووٹ دیگر حلقوں میں بانٹ دئے گئے ۔ حد بندی بھی لیکن بی جے پی کی فتح یقینی نہیں بناسکتی تھی۔ اس لئے انتخابی فہرستوں کی کڑی نظرثانی کا فیصلہ ہوا۔ جواز اس کا یہ بتایا گیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بنگلہ دیش کے مسلمان آسام اور مغربی بنگال منتقل ہورہے ہیں۔ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے نتیجہ میں نوے لاکھ افراد جن کی بے پناہ اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے ووٹ دینے کے حق سے محروم کردی گئی۔ ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود 293اراکین پر مشتمل صوبائی اسمبلی کے لئے 40مسلمان منتخب ہوگئے ہیں۔ ان میں سے 34کا تعلق ممتابینر جی کی جماعت سے ہے ۔ ان سب کے خلاف ریکارڈ عذرداریاں جمع کروائی گئی ہیں۔ ان کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے جعلی مقدمات بھی قائم ہیں اور ان کی اکثریت کو اسمبلی میں بیٹھنے کے نااہل بنانے کا ہر حربہ استعمال کرنے کے ارادے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے ہندو مسلم اختلافات کا آغاز 1905ئکی تقسیم بنگال سے ہوا تھا۔ اسی باعث 1906ئمیں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام ڈھاکہ میں ہوا۔ بنگال کے حالیہ انتخاب کے بعد تاریخ خود کو دہرانے کیلئے بے قرار نظر آرہی ہے ۔ ہم مگر اس قضیے کی شدت سے قطعاََ غافل ہیں۔
