بہار گزشت

تحریر: وجاہت مسعود
بشکریہ: روزنامہ جنگ
سنہ 1983ء تھا اور ستمبر کا تیسرا ہفتہ۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں پرنسپل آفس کے عقب میں واقع گھاس کے قطعے پہ سنبل کے سرخ حریری پھولوں کی چادر اتری تھی۔ پنجاب بھر سے اس درس گاہ میں داخلے کے تمنائی قطار اندر قطار مختلف روشوں پر نظر آ رہے تھے۔ میں برآمدے میں کھڑا تھا جہاں دائیں ہاتھ ایمفی تھیٹر تھا، سامنے دائیں ہاتھ اقبال ہوسٹل کی عمارت تھی اور بائیں جانب دو طرفہ سیڑھیاں فضل حسین ریڈنگ روم کی طرف جاتی تھیں۔ نو آمدہ طالب علموں کی دمکتی پیشانیوں پر خواب کندہ تھے، تاریخی عمارت میں اساطیری اساتذہ سے تعلیم پانے کے خواب، گورنمنٹ کالج کے لاحقے سے مزین تعلیمی کوائف کے ساتھ مقابلے کے امتحان میں اترنے کی مچلتی خواہشیں۔ گوجرانوالہ سے آنیوالے ایک کم آشنا قصباتی طالب علم کے ساتھ اس کا عم زاد بھائی کھڑا تھا۔ طالب علم سے زیادہ خوشی عم زاد کی آنکھوں میں تھی۔ نامساعد حالات میں اسکی ایک دہائی پر پھیلی ریاضت بار آور ہو رہی تھی۔ طبقہ اشرافیہ کے سرخ بلیزر میں ملبوس پراعتماد طالب علموں کی ناقابل فہم آوازوں کے شور سے اکتا کر گوجرانوالہ کا طالب علم ایمفی تھیٹر کے زینوں پر بیٹھ گیا۔ اسے کسی پیشہ ورانہ منصوبے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ بلکہ اسے مستقبل کی منصوبہ بندی کا خیال ہی مبتذل معلوم ہوتا تھا۔ اسے تو ان کتابوں کی جستجو بے تاب کئے دیتی تھی جن میں ان کہے راز دفن تھے، اسے ان شہروں کے منظر اپنی اور بلاتے تھے جہاں زندگی کے ان دیکھے رنگ، ناشگفتہ خوشیاں اور اجنبی گلی کوچوں میں سفر کے نشان بلاتے تھے۔ اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے انگلیوں پر حساب لگایا اور معلوم ہوا کہ 2026 کے اگست میں اگر وہ زندہ ہوا تو ساٹھ برس کی عمر کو پہنچ جائیگا۔ سفر حیات کی وہ منزل جہاں اگر کوئی روزگار ہوا تو اسکی ذمہ داریاں تمام ہو جائینگی۔ شاید کہیں سے سنا ہوا یہ شعر بھی خیال سے گزرا، میان لالہ و گل، خواستم کہ مے نوشم / ز شیشہ تا بہ قدح ریختم، بہار گزشت۔ آپ سے کیا پردہ، میان لالہ و گل کی یہ پرلطف سرگرمی بھی حیطہ خیال سے کچھ زیادہ دور نہیں تھی۔ 1983ءکے موسم خزاں کی اس صبح مگر زندگی امکانات کا ایک پھیلا ہوا نقشہ تھی جس پر ہر لکیر ایک پس پردہ تمثیل تھی، ہر نقطے میں خیام کی ایک رباعی رکھی تھی۔ اگست 2026ء ابھی بہت دور معلوم ہوتا تھا۔ گزشتہ روز جب لاہور کے آسمان پر گہرے بادل بوچھار کی صورت خوشی بن کر برس رہے تھے، خلاف معمول برآمدے میں بیٹھ کر کافی کا پہلا کپ پینا چاہا تو اچانک خیال آیا کہ 43برس پہلے بہت دور معلوم ہونیوالا اگست اب کوئی ہفتہ بھر دور رہ گیا ہے۔ گویا خواب ہستی کا جو جرعہ مقسوم تھا، تہ جام اتر آیا ہے۔
اس دیس میں لکھنے والوں کیلئے یہ کچھ خوشگوار دن نہیں ہیں۔ کہنے کی باتیں قلمی احتساب کی زد میں آ جاتی ہیں۔ اگر کوئی کٹ پھٹا جملہ باقی بچتا ہے تو اسے پڑھنے والوں کی بے سمت تلخ کامی لے ڈوبتی ہے۔ ایسے حالات تو اب سے دس یا شاید پندرہ برس پہلے بھی نہیں تھے۔ یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا۔ ہر خرابی میں بہتری کی ایک شعاع بہرصورت ڈھونڈی جا سکتی ہے۔ تو کیوں نہ حلقہ زنجیر کی اس بالجبر کڑی میں ساٹھ برس کا کچھ احوال رکھ دیا جائے۔ دلی والوں کے محاورے میں آٹا تو ہو چکا۔ باقی ماندہ مہلت کا اعتبار کیسا، سانس کی ڈور پر سنگ و خشت کے چرکے تو اپنا نشان چھوڑ چکے۔ جو کہا جا سکتا ہے، اب کہہ لیں۔ پھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے۔
صاحبو، اس سفر کی کتھا میں پہلا اور شاید بنیادی لفظ تشکر ہے۔ زندگی بذات خود ایک احسان ہے، ایک نعمت جو بغیر کسی استحقاق یا کوشش کے ہمارے حصے میں آئی۔ ’ملکۂ شہرِ زندگی تیرا/ شکر کس طور سے ادا کیجئے‘۔زندگی کے اس احسان میں الطاف بے پناہ یہ رہا کہ بزرگ نصیب ہوئے تو وضع دار، مہربان۔ استاد ملے تو باعلم اور شفقت کے بحر بے کنار۔ دوست احباب ایسے کہ ایک زمانے کیلئے قابل رشک۔ اپنی کوتاہیوں پر نظر کروں تو سوائے شرمساری اور سبک سری کے اپنا کیسہ خالی ہے۔ زندگی کی آسودہ ہمواری تو ایک ساعت کی کم نگاہی کا بار اٹھانے کی متحمل نہیں ہوتی۔ زندگی بھر ہر طرح کی بے اعتدالی اور مائل بہ معصیت رہنے کے باوجود ہر طرح کے حادثات سے محفوظ رہا جو بذات خود کسی معجزے سے کم نہیں۔ عمر بھر طبیعت کاہلی پر مائل رہی مگر علم میں کوتاہی اور فطری کم فہمی کے باوجود اہل دنیا سے بے غرض محبت اور احسان کے سوا کچھ نہیں ملا۔ زندگی کیا تھی، گویا قطعہ سرسبز میں گلگشت کی کیفیت رہی۔ ممکن ہے کہ کسی کو اپنے عہد اور ماحول سے ناقدری اور سخت گامی کا گلہ رہا ہو اور میں اس امکان کو مسترد نہیں کرتا کہ ارد گرد یہ سب ناخوشگوار امکانات حقیقی طور پر موجود تھے لیکن اپنی حد تک خود کو نہایت خوش نصیب پاتا ہوں کہ رزم گہ حیات میں جہاں قدم قدم پر ناگہانی حادثات مستقل دہشت کا سامان لیے تھے، زندگی کے چھ عشرے اس دل آسائی میں گزرے، گویا کسی حبیب صادق نے دست شفقت بڑھا کر منجدھار سے اٹھایا اور ساحل کے قطعہ عافیت پر رکھ دیا۔ اپنے داخل کی داستان تو یہی خوش نصیبی اور اپنے استحقاق سے کہیں بڑھ کر پذیرائی رہی ہے البتہ خارج کی تصویر کچھ ایسی خوشگوار نہیں تھی۔ جہاں چہار اطراف میں ہم سے بہت بہتر انسان محرومی، قحط، تشدد اور ناانصافی کی سنگین چٹانوں سے بندھے ہوں، وہاں اپنی ذاتی خوش نصیبی کا ذکر بھی خود پسندی بلکہ بے جا ادعا کا مضمون محسوس ہوتا ہے۔ ہمیں انسانی تاریخ کا وہ منطقہ نصیب ہوا جہاں ایٹمی تباہی کا امکان، ماحولیاتی تباہی اور وبائی خطرات ایک مستقل اندیشے کی صورت سایہ فگن رہے۔ نیک اور سادھارن انسان سرمائے کی بے رحم ستیزہ کاری اور منہ زور اختیار کے رتھ تلے حشرات الارض کی طرح پس رہے تھے۔ انسانوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے بے گھری، غذائی قلت اور قابل علاج بیماریوںکے باعث زندگی ایک مستقل عذاب تھی۔ بڑی مشکل یہ کہ یہ عذاب لاعلاج نہیں تھے۔ انسانی آلام کی اس فہرست کا بڑا حصہ خود انسانوں ہی کی کم نگاہی کا تاوان تھا۔ مگر آج تو ہمیں زندگی کے احسانات کا شکر ادا کرنا تھا۔ اس تشکر کا حق بھلے ادا نہیں ہو سکا لیکن سانس کی ڈوری باقی ہے تو گاہے گاہے کتاب زندگی کا کوئی ورق بیان ہوتا رہے گا۔
