بلاگر گورایہ قتل سازش کا ملزم ججوں کو ماموں بنانے لگا

پاکستانی خفیہ ایجنسی کے عتاب کا شکار ہونے کے بعد ملک چھوڑ کر ہالینڈ جا بسنے والے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بلاگر احمد وقاص گورایہ کے قتل کی سازش میں ملوث ملزم گوہر خان نے اب برطانوی ججوں کو ماموں بنانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ بھونڈا دعوی کیا ہے کہ اس کا قتل کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور 19 انچ لمبا تیز چاقو خریدنے کا مقصد ہوٹل میں اپنا کھانا خود تیار کرنا تھا کیونکہ کرونا وبا کے دوران ہوٹل انتظامیہ صرف پلاسٹک کی کٹلری مہیا کر رہی تھی۔
یاد رہے کہ ملزم پر یہ الزام ہے کہ ایک پاکستانی ایجنسی نے مڈل مین کے ذریعہ احمد وقاص گورایہ کے قتل کے لیے اسکی خدمات حاصل کی تھیں جس کے بعد اس نے برطانیہ سے نیدرلینڈ کا سفر کیا تھا لیکن اپنے مشن میں کامیاب نہ ہو پایا۔ اس قتل کے عوض اسے ایک لاکھ پاؤنڈز فیس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ گوہر نے عدالت کے سامنے تسلیم کیا ہے کہ وہ اس سازش کا مرکزی کردار تھا لیکن اس کی نیت قتل کرنے کی نہیں بلکہ چند ہزار پاؤنڈز لے کر رفو چکر ہونے کی تھی۔لہکن برطانوی پراسیکیوشن کا موقف ہے کہ ملزم سراسر جھوٹ بول رہا ہے اور اسے قتل کی سازش پر سخت ترین سزا سنائی ہونی چاہیے۔
یاد رہے برطانیہ میں گرفتار ہونے والے گوہر خان پر الزام ہے کہ وہ نیدرلینڈز میں مقیم پاکستانی بلاگر احمد وقاص گورایہ کو قتل کرنے کے لیے بطور اجرتی قاتل کام کر رہا تھا جب یہ منصوبہ بے نقاب ہو گیا۔ لندن کی رائل کنگسٹن کورٹ میں برطانوی پولیس کی جانب سے گوہر خان کے خلاف قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے دستاویزی ثبوت مہیا کیے جانے کے بعد عدالت نے ملزم کو صفائی کا موقع دیا تو اس نے تمام تر الزامات کو رد کر دیا۔
ملزم نے تسلیم کیا کہ وہ بذریعہ جہاز نیدرلینڈ پہنچنے پر ایئرپورٹ سے ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہ فرانس سے بس کے ذریعے ہالینڈ یعنی نیدرلینڈز پہنچا۔ ملزم نے کہا کہ اسکا بلاگر وقاص گورایہ کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا اور اس نے نیدرلینڈز کا سفر مزمل سے رقم حاصل کرنے کے لیے کیا تھا جس نے اُسکا کارگو کا کاروبار تباہ کر دیا تھا۔ ملزم نے کہا کہ اُس نے بلاگر گورایہ کے رہائشی علاقے کی ویڈیوز اسلیے بنائیں تاکہ وہ مزمل کو یقین دلا سکے کہ اُس نے وہاں تک کا سفر کیا ہے اور اضافی رقم کا مطالبہ کیا جا سکے۔ ملزم نے بتایا کہ وہ مزمل کے ساتھ اپنے نام کے علاوہ دو فرضی ناموں، مسٹر مش اور مسٹر جی کے ناموں سے بات کر رہا تھ۔
اُس نے کہا کہ وہ پاکستان میں موجود مزمل کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ ایک ٹیم کے ساتھ روٹرڈیم پہنچے ہے لیکن درحقیقت وہ اکیلے ہی وہاں گیا تھا۔ ملزم نے عدالت کو بتایا کہ روٹرڈیم جانے سے پہلے اُسنے ہنڈی کے ذریعے مزمل سے پانچ ہزار برطانوی پاؤنڈ وصول کیے تھے۔ گوہر خان نے کہا کہ اُس نے کرنسی ریٹ کے اتار چڑھاؤ کا بہانہ بنا کر مزمل کو کہا کہ اُسے پانچ ہزار پاؤنڈ سے 188 پونڈ کم ملے ہیں لہٰذا وہ اسے مزید 25 ہزار پاکستانی روپے ادا کریں۔ ملزم نے کہا کہ جب وہ روٹرڈیم پہنچا تو اُس نے ایک بار اوبر ٹیکسی اور ایک بار خود ہی اس علاقے کا دورہ کیا جہاں اسے بتایا گیا تھا کہ احمد وقاص گورایہ رہائش پذیر ہیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران ملزم گوہر نے کہا کہ اُس نے کبھی بھی گورایہ پراجیکٹ کے مکمل ہونے پر ملنے والی ایک لاکھ پاؤنڈ کی مکمل رقم حاصل کرنے کا نہیں سوچا تھا کیونکہ اسکا گورایہ کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ملزم نے کہا کہ اسکا ارادہ تھا کہ 15 سے 20 ہزار پاؤنڈ حاصل کر کے وہ اس کھیل سے نکل جائے گا۔ گوہر نے بتایا کہ اسکے خیال میں مزمل کے پاس 50 ہزار پاؤنڈ تھے کیونکہ وہ اس معاہدے میں ضامن تھا۔ کنٹریکٹ کی رو سے 50 ہزار پاؤنڈز پہلے ادا کیے جانے تھے جو ضامن کے پاس رہیں گے جبکہ بقیہ 50 ہزار پاونڈز کام مکمل ہونے پر ادا کیے جانے تھے۔
وقار زکا کرپٹو کرنسی بزنس کے دفاع میں کیوں ڈٹ گئے؟
دوسری جانب پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے 13 جون 2021 کو بذریعہ ہوائی جہاز نیدرلینڈز پہنچنے کی کوشش کی تھی لیکن اسے ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔اس سوال کے جواب میں کہ وہ ہوائی جہاز کے سفر کے دوران اپنے ہمراہ کوئی سامان کیوں نہیں لے کر گیا تھا، ملزم گوہر نے کہا کہ اسے علم تھا کہ اسکو ایئرپورٹ سے ہی واپس بھیج دیا جائے گا کیونکہ کووڈ کی وبا کے دوران صرف یورپی اور مقامی باشندوں کو ہی نیدرلینڈز میں داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی تھی۔
گوہر نے کہا کہ اُنھوں نے یہ سفر صرف مزمل کو یہ دکھانے کے لیے کیا تھا کہ وہ پراجیکٹ پر کام کر رہا ہے اور اسے اور بھی رقم کی ضرورت ہے۔ گوہر خان نے کہا وہ سفر پر اٹھنے والے اخراجات کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا تھا تاکہ وہ اضافی رقم کا تقاضا کر سکے۔ ملزم نے کہا کہ اس نے مزمل کو بتایا تھا کہ کووڈ کے ایک پی سی آر ٹیسٹ پر 500 پاؤنڈ لاگت آتی ہے اور وہ چھ لوگوں کی ٹیم کے ساتھ نیدر لینڈز جا رہا ہے جس پر کل 3000 ہزار پاؤنڈ کا خرچ آئے گا۔ گوہر نے کہا کہ حقیقت میں پی سی آر ٹیسٹ پر 135 پاؤنڈ خرچ ہوتا تھا اور فرانس میں یہ بالکل مفت تھا جہاں سے اُس نے اپنے ٹیسٹ کروائے۔ ملزم نے کہا کہ اس کے ہمراہ کوئی ٹیم نہیں تھی اور وہ اکیلے ہی سفر کر رہا تھا۔
ملزم گوہر خان نے عدالت کو بتایا کہ وہ پیرس سے بس کے ذریعے روٹرڈیم پہنچا جہاں اُس نے کار کرائے پر حاصل کی۔ ملزم سے پوچھا گیا کہ اُس نے روٹرڈیم میں کرائے پر کار کیوں لہ، تو اسکا جواب تھا کہ وہ آزادی سے گھومنا چاہتے تھا۔ ملزم نے کہا کہ اُس نے تقریباً تمام بل اپنے کریڈٹ کارڈ سے ادا کیے۔ اگر اُسکا کسی کو قتل کرنے کا ارادہ ہوتا تو نہ وہ اپنے پاسپورٹ پر سفر کرتا اور نہ ہی اپنے کارڈز سے بلز ادا کرتا۔
گوہر خان نے کہا کہ جب اس نے مزمل سے ممکنہ ہدف کے بارے میں مزید معلومات مانگیں تو مزمل نے کہا کہ ’کیا چاہتے ہو میں تمھیں وقاص گورایہ کے فنگر پرنٹس اور ڈی این اے کی معلومات فراہم کروں؟‘ ملزم نے کہا کہ میں نے جواب دیا کہ ’طنز کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ گوہر خان نے کہا کہ وہ جب کرائے پر حاصل کردہ گاڑی میں وقاص گورایہ کے گھر کے باہر بیٹھا تھا تو قریبی پارک میں ایک گاڑی میں دو افراد دیکھ کر وہ گھبرا گیا اور وہاں سے نکل گیا۔ دوسری جانب برطانوی پراسیکیوشن کا موقف ہے کہ ملزم سراسر جھوٹ بول رہا ہے اور اسے قتل کی سازش کرنے پر سخت ترین سزا سنائی ہونی چاہیے۔
