خاتون جج کو دھمکیاں ،عمران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاتون جج کو دھمکیاں دینے پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
عدالت عالیہ کے قائم مقام چیف جسٹس عامرفاروق کی سربراہی میں بینچ نے پی ٹی آئی کی جانب سے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر سماعت کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ ہائی کورٹ کے تمام ججوں کی مشاورت سے ہوا ہے اور اس سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جس میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار شامل ہوں گے۔
یا دہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے دو روز قبل اسلام آباد میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ دینے والی ایڈیشنل جج زیبا چوہدری کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ آپ کے خلاف کارروائی کریں گے۔
عمران خان نے کہا تھا کہ شہباز گل کو جس طرح اٹھایا اور دو دن جو تشدد کیا، اس طرح رکھا جیسا ملک کا کوئی بڑا غدار پکڑا ہو، آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو ہم نے نہیں چھوڑنا، ہم نے آپ کے اوپر کیس کرنا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا مجسٹریٹ زیبا صاحبہ آپ بھی تیار ہوجائیں، آپ کے اوپر بھی ہم ایکشن لیں گے، آپ سب کو شرم آنی چاہیے کہ ایک آدمی کو تشدد کیا، کمزور آدمی ملا اسی کو آپ نے یہ کرنا تھا، فضل الرحمٰن سے جان جاتی ہے، ہم ان کے اوپر کیس کرنے لگے ہیں۔
عمران خان بطور اپوزیشن لیڈر کتنے خطرناک ثابت ہوں گے؟
عمران خان نے کہا تھا شہباز گل کے ساتھ انہوں نے جو کیا، انہوں نے قانون کی بالادستی کی دھجیاں اڑا دیں، آج اپنے وکیلوں سے ملاقات کی ہے، آئی جی، ڈی آئی جی اور ریمانڈ دینے والی اس خاتون مجسٹریٹ پر کیس کریں گے۔
