بھائی لوگ عمران خان کو اور کتنا عرصہ قید میں رکھ پائیں گے؟

رفتہ رفتہ عمران خان کی رہائی کی امیدیں دم توڑنے کے بعد اب ان کے وہی ساتھی جو کہا کرتے تھے کہ ‘بھلا وہ ہمارے قائد کو کتنا عرصہ جیل میں رکھ پائیں گے؟’، اب یہ سوال کرتے سنائی دیتے ہیں کہ کیا ’’وہ عمران خان کو چھوڑیں گے بھی کہ نہیں‘‘۔ یعنی پہلے عمران کے چاہنے والے امید کی بات کیا کرتے تھے لیکن اب انکا لہجہ شکست خوردہ ہوتا جا رہا ہے۔

معروف لکھاری حماد غزنوی روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک کے اندر اور ملک سے باہر، جہاں جہاں محبانِ عمران سے ملاقات ہوتی ہے، ان پہ آہستہ آہستہ یہ حقیقت عیاں ہو رہی ہے کہ عمران خان کی رہائی اور پارٹی کی سیاسی نظام میں باعزت بحالی کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ اب خان کے چاہنے والوں کا جادو کی چھڑی اور عالمِ غیب پر کامل تکیہ ہے۔ عمران خان کی سیاسی فیصلہ سازی غیر دانش مندانہ رویوں کی ایک ڈراؤنی داستان ہے، انہوں نے تاریخ کے ہر سبق کی نفی کی، وہ لاجک کے خلاف چلے اور انہوں نے کامن سینس کا انکار کیا، انہوں نے ایک ایسی جنگ کا آغاز کیا جس کا انجام اس کے سوا کچھ اور ممکن ہی نہیں تھا۔ لہٰذا انکی موجودہ صورت حال کسی ایک غلط فیصلے کا پھل نہیں ہے، یہ ایک مخصوص ذہنی فضا کا نتیجہ ہے جو ابھی برقرار ہے۔

حماد غزنوی کے بقول حالت یہ ہے کہ خان جیل میں ہے اور اس کی پارٹی انتشار کا شکار ہے، پی ٹی آئی اپنی سٹریٹ پاور کھو چکی ہے، ماضی قریب کی طرح اسے اب سسٹم میں کہیں سے مدد میسر نہیں، فیض بند ہو چکا اور منصور سولی پر ٹنگا دکھائی دیتا ہے، عدالتیں 26ویں آئینی ترمیم کے تحت سانس لے رہی ہیں، کسی دوست ملک کے ایجنڈے میں عمران کی رہائی نہیں ہے، ٹرمپ فیلڈ مارشل کی آؤ بھگت میں مصروف ہے، چین اور پاکستان دفاعی و معاشی تعاون کی منزلیں بگٹٹ سر کر رہے ہیں، سونے پر سہاگا یہ کہ مئی کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فتح نے ملک کی دفاعی اور سفارتی حیثیت کو سربلند کر دیا ہے۔ اس کامیابی سے نہ صرف حکومتی پوزیشن بہتر ہوئی بلکہ فوج کے خلاف جذبات بھی قدر ٹھنڈے ہو گئے ہیں۔

حماد غزنوی کہتے ہیں یہ درست ہے کہ معاشی میدان میں عام آدمی اسی طرح پِس رہا ہے، مگر حکومت کے پاس اس منطقے میں بھی ڈیفالٹ کا خطرہ ٹلنے سے شرح سود کم ہونے تک، کچھ مثبت اشارے موجود ہیں۔ یہ سارا منظر حکومتی بندوبست کو کسی بھی ممکنہ عدم استحکام کی کوشش کو آہنی ہاتھ سے نپٹنے کی مزید ترغیب دیتا نظر آتا ہے۔ یہ ہے وہ منظرنامہ جس میں عمران خان آگ اُگل رہے ہیں، نام لے کر دشنام طرازی کر رہے ہیں، ذاتی دشمنی پیدا کر رہے ہیں بلکہ کر چکے ہیں۔ نواز شریف نے گوجرانوالہ جلسے میں آڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے ایک بار جنرل باجوہ کا نام لیا تھا، دباؤ پیدا کیا تھا، اور اپنی حکمت عملی سے مطلوبہ سیاسی مقاصد حاصل کر لیے تھے، عمران خان سمجھ ہی نہیں سکے کہ رکنا کہاں ہے، حتیٰ کہ 9 مئی سے ہوتے ہوئے آج کے دن تک پہنچ گئے۔ عمران خا۔ کے مستقبل بارے لوگ اندازے لگاتے رہتے ہیں، یہ اندازے جذباتی بھی ہوتے ہیں اور حقیقی بھی۔ اس سارے قضیے کا اچھا یا برا، آج نہیں تو کل، انجام تو ہونا ہی ہے۔ آئیے ہم بھی گمانوں کے سفر پر چلتے ہیں، اوت مستقبل کی آنکھوں میں جھانکتے ہیں۔ ایک منظر تو یہ ہے کہ لاکھوں شہری سڑکوں پر نکل آئیں، پاکستان کا نظام زندگی طویل عرصے کیلئے مفلوج ہو جائے، سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز ہو جائے، تھانہ کچہری بند ہو جائے، سرکاری اداروں پر پی ٹی آئی کا جھنڈا لہرا دیا جائے، ریاستی ادارے ٹوٹ پھوٹ جائیں، باوردی اصحاب دھرنوں میں شامل ہو جائیں، اور بالآخر اڈیالہ جیل توڑ کر عمران خان کو رہا کروا لیا جائے، یا یوں کہہ لیں کہ ایک اور 9 مئی برپا ہو اور کامیاب ہو جائے۔ لیکن ایسا کوئی انقلاب ناممکنات کا دفتر دکھائی دیتا ہے۔

حماد غزنوی کے بقول دوسرا منظر یہ ہے کہ خاکم بہ دہن کوئی عظیم ملکی سانحہ ہو جائے، جیسے جنگ میں ہم واضح شرمندگی سے دوچار ہو جاتے، یا عمران خان کے سب حریفوں کو کوئی عفریت نگل لے، یا کوئی ہیبت ناک آسمانی آفت۔ یہ منظر نامہ سیاسی کم اور بددعائیہ زیادہ لگ رہا ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ عمران خا۔ جن اصحاب سے ذاتی دشمنی ڈال بیٹھے ہیں انکے منظر سے ہٹنے کے امکانات بھی تاحد نظر دکھائی نہیں دیتے، غالباً اس تبدیلی میں پانچ دس سال لگ سکتے ہیں۔ ایک منظر خان کہ جلاوطنی کا ہے، لیکن کیونکہ کوئی فریق بھی عمران خان کی گارنٹی دینےکیلئےتیار نظر نہیں آتا، اسلئے یہ منظر بھی خارج از امکان ہے۔ ایک صورت عمران خان کی صحت کی سنجیدہ تنزلی ہو سکتی ہے جو ان کی رہائی پر منتج ہو۔ لیکن فی الحال تو حاسدینِ عمران کی یہ خواہش بھی پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ ایک افسوسناک منظر یہ بھی ہے کہ عمران ایک طویل مدت تک جیل میں ہی بند رہیں اور گمنامی کا شکار ہو جائیں۔

پھر ایک تصویر یہ ہے کہ عمران اپنے مخالفین خصوصا موجودہ فوجی قیادت کو گالیاں دینے سے پرہیز شروع کر دیں، بات چیت کا ڈول ڈالیں، عمران دو شرائط ’’ان کی‘‘مانیں اور ایک آدھ اپنی منوانے کی کوشش کریں۔ اب یہ شرائط کیا ہو سکتی ہیں؟ ایک شرط تو یہ ہو سکتی ہے کہ عمران مخصوص مدت کیلئے سیاست ترک کر دیں، سیاسی خاموشی اختیار کریں، بنی گالا منتقل ہو جائیں، موجودہ نظام کو چلنے دیں، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن حماد کہتے ہیں کہ ان درجن بھر امکانات میں سے صرف ایک امکان ایسا ہے جو عمران کے اپنے اختیار میں ہے یعنی صلح و معافی تلافی کا امکان، اس کے سوا جو کچھ ہے وہ عمران کے حیطۂ اختیار سے باہر ہے۔ اس صورت حال میں اب آپ ہی بتایئے کہ اگر کوئی سوال کرے کہ’’میرا لیڈر کب رہا ہو گا‘‘ تو اسے کیا جواب دیا جائے؟

Back to top button