کیا بشریٰ بی بی، ملک ریاض اور زلفی بھی گرفتار ہونگے؟

القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان میں ایک بھونچال کی سی کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کو اس اسکینڈل کے دیگر کرداروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟
پاکستان میں کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے القادر ٹرسٹ کیس میں ملک کے معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض، کو بھی شامل تفتیش کرنا چاہیے تاکہ عمران خان اور ملک ریاض میں ہونے والی کسی مبینہ ڈیل کی پوری تفصیلات سامنے آ سکیں۔متعدد تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ القادر ٹرسٹ اسکینڈل کے تمام کرداروں کو نظر انداز کرکے صرف عمران خان کے خلاف کارروائی سے جانب داری اور سیاسی انتقام کا تاثر ابھرے گا اس لیے وزیر اعظم عمران خان کے سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر سمیت تمام متعلقہ افراد کو قانون کے دائرے میں لایا جانا چاہیے۔
تاہم دوسری طرف اطلاعات ہیں کہ نیب نے چیئرمین تحریک انصاف کی اہلیہ بشریٰ بی بی اورپی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری کی گرفتاری کی بھی اجازت مانگ لی ہے۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں نیب عدالت پیش کیا گیا جہاں نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ بشریٰ بی بی اور زلفی بخاری کو بھی گرفتار کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ القادر ٹرسٹ کیس میں تحقیقات کی جاسکیں۔
یاد رہے سابق وزیراعظم عمران خان کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے القادر ٹرسٹ کیس میں حراست میں لے رکھا ہے۔ تفصیلات کے مطابق القادر ٹرسٹ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔ تاہم اتحادی حکومت کا موقف رہا ہے کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے اور حکومت کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کی اربوں روپے کی جو رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی تھی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔ ان کے مطابق اس عمل کے عوض بحریہ ٹاؤن نےمارچ 2021 میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کو ضلع جہلم کے علاقے سوہاوہ میں 458 کنال اراضی عطیہ کی اور یہ معاہدہ بحریہ ٹاؤن اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا تھا۔ جس ٹرسٹ کو یہ زمین دی گئی تھی اس کے ٹرسٹیز میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے علاوہ تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری اور بابر اعوان بھی شامل تھے ۔ لیکن بعد میں یہ دونوں رہنما اس ٹرسٹ سے الگ ہو گئے تھے۔
قومی احتساب بیورو آج کل سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے نام پر سینکڑوں کنال اراضی سے متعلق باقاعدہ تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔اگرچہ نیب حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں عمران خان، بشریٰ بی بی بیرسٹر شہزاد اکبر اور ریئل سٹیٹ ڈیویلپر کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں لیکن تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ جتنی پھرتی کے ساتھ عمران خان کے خلاف کارروائی ہوتی دکھائی دے رہی ہے ویسی صورتحال ملک ریاض اور دیگر کے معاملے میں نظر نہیں آ رہی۔
نیب کے امور پر نگاہ رکھنے والے ایک تجزیہ کار بریگیڈئر فارووق حمید نے بتایا کہ انہیں نہیں لگتا کہ القادر ٹرسٹ اسکینڈل کے بقیہ کرداروں کے خلاف کوئی موثر کارروائی ہو سکے گی۔ خاص طور پر ملک ریاض کے خلاف کارروائی تو بہت ہی مشکل ہے کیونکہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ، سیاسی جماعتوں اور اشرافیہ میں ان کا کافی اثر رسوخ ہے وہ میڈیا کو اشتہار دیتے ہیں اس لیے ان کے خلاف مین سٹریم میڈیا بھی سوال اٹھانے سے عموما گریز کرتا ہے۔ بریگیڈئر فارووق حمید کا مزید کہنا ہے کہ” یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ میں کئی مرتبہ جب ٹی وی چینلز پر جاتا ہوں تو وہاں کبھی ملک ریاض کے بارے میں بات کرنی پڑے تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ ان کا نام نہیں لینا اس سے اشتہارات متاثر ہو سکتے ہیں۔بعض لوگ انہیں کنگ میکر بھی سمجھتے رہے ہیں جب پیپلز پارٹی کے دور میں ڈاکٹر طاہرالقادری لانگ مارچ نکانے جا رہے تھے تو ان کو منانے کے لیے ملک ریاض ہی ڈاکٹر طاہرالقادری کے پاس آئے تھے۔‘‘
فارووق حمید کے مطابق وہ اربوں روپے جو ملک ریاض کے واجبات کی ادائیگی میں استعمال کیے گیے وہ قوم کا پیسہ تھا اور اسے ملکی خزانے میں جانا چاہیے تھا۔ ”میرے خیال میں ملک ریاض کی ملک میں جدید ہاوسنگ کے فروغ، سیلاب زدگان کی مدد اور بحریہ دسترخوان جیسے منصوبوں میں بڑی خدمات ہیں لیکن القادر ٹرسٹ اسکینڈل ایک بری مثال ہے اسے درست ہونا چاہیے۔‘‘
اگرچہ نیب کے حکام نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا کہ ملک ریاض کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس میں کافی ٹھوس مواد موجود ہے لیکن اس کے باوجود تجزیہ کار رضوان رضی نے بتایا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں ملک ریاض کو قانون کے کٹہرے میں لانا آ سان نہیں ہے۔ یہ ایک طویل اور صبر آزما عمل ہوگا۔ پاکستان نے برطانیہ کی عدالت میں جو اپنا بیان جمع کروایا ہے اسے واپس لے کر از سر نو نئی تفصیلات کے ساتھ کیس کو آگے بڑھانا پڑے گا۔ملک ریاض آج کل بیرون ملک مقیم ہیں۔رضوان رضی بتاتے ہیں کہ ایک ایسا شخص جس کے خلاف ملک کے ٹاپ ٹین ٹی وی چینلز میں خبر تک نہ آ سکے اس کو کون ہاتھ ڈال سکے گا۔ وہ اپنے ہاؤسنگ پراجیکٹس کے لیے بحریہ کا نام استعمال کرتے رہے اس پر ان کے خلاف عدالت کا فیصلہ بھی آیا لیکن وہ حکم امتناعی لے کر کام کرتے رہے۔
سینئر صحافی میاں غفار نے بتایا کہ القادر ٹرسٹ کے نام پر صرف عمران خان کے خلاف کارروائی مناسب نہیں۔ ایمانداری کا تقاضا ہے کہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ میاں غفار کو یقین ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں انسانوں کی قیمت لگانا قدرے آسان ہے اس لیے ملک ریاض کے خلاف کارروائی ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
