کیا آدھے پاکستان میں ایمرجنسی لگنے والی ہے ؟

شدت پسند جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی ملک کے بڑے شہروں میں جاری دہشت گردانہ کاروائیوں ، توڑ پھوڑ اور پر تشدد مظاہروں نے پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں ایمرجنسی کے نفاذ کی راہیں کھول دی ہیں . دوسری طرف وفاقی حکومت نے پنجاب کی طرف سے فوج کو خاص حالات اور مقامات پرمجسٹریسی اختیارات دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس حوالے سے آرڈنینس بھی جاری کیا جاسکتا ہے۔ فوج کو مجسٹریسی اختیارات ملنے کے بعد فوج جہاں مناسب ہوگا از خود کارروائی کرتے ہوئے گرفتاریاں اور سزائیں بھی دلوا سکے گی. سینئر صحافی انصار عباسی نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اگر ملک میں شورش جاری رہی تو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا آپشن موجود ہے۔ پاکستان کے آئین میں کہا گیا ہے کہ اگر ملک میں داخلی شورش ، صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر نکل جائے تو ایمرجنسی کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 232؍ میں لکھا ہے کہ ’’اگر صدر مطمئن ہو کہ ایسی سنگین ہنگامی صورتحال موجود ہے جس میں پاکستان، اس کے کسی حصے کی سلامتی کو جنگ یا بیرونی جارحیت کی وجہ سے، یا داخلی خلفشار کی بناء پر ایسا خطرہ لاحق ہے جس پر قابو پانا کسی صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہے تو ہنگامی حالت کا اعلان کیا جا سکتا ہے ۔‘‘ ایسی صورتحال میں صدر مملکت کو وزیراعظم کی ایڈوائس پر عمل کرنا ہوگا۔ تاہم، جہاں خلفشار صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو اس صوبے کی اسمبلی سے ایمرجنسی کے نفاذ کیلئے ایک قرارداد منظور کرانا ہوگی۔ لیکن موجودہ صورتحال میں دونوں صوبوں (پنجاب اور خیبر پختونخوا) میں صوبائی اسمبلیاں موجود نہیں کیونکہ انہیں رواں سال کے اوائل میں تحلیل کر دیا گیا تھا، اور انہی دونوں صوبوں میں پی ٹی آئی کے مظاہرین پرتشدد ہو چکے ہیں اور ریاستی اداروں پر حملے کر رہے ہیں۔ آئین میں بتایا گیا ہے کہ اگر صدر مملکت اپنی جانب سے کارروائی کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ دس روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کرنا ہوگا۔ جس وقت ایمرجنسی نافذ ہو، پارلیمنٹ کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی صوبے یا اس کے کسی حصے کیلئے کسی ایسے معاملے کے بارے میں قوانین بنائے جو وفاقی قانون سازی کی فہرست میں درج نہ ہو۔ وفاق کا عملی اختیار کسی صوبے کو اس طریقے کی بابت ہدایات دینے تک وسعت پذیر ہوگا جس کے مطابق اس صوبے کے عاملانہ اختیارات کو استعمال کیا جانا ہے. آئین میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب ہنگامی حالت کا اعلان نافذ العمل ہو تو پارلیمنٹ بذریعہ قانون قومی اسمبلی کی میعاد میں زیادہ سے زیادہ ایک سال کی توسیع کر سکے گی، اور وہ توسیع مذکورہ اعلان کے ساقط العمل ہو جانے کے بعد کسی صورت میں بھی6؍ ماہ سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ہنگامی حالت کا کوئی اعلان ایک مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا جو صدر کے اعلان کے جاری کیے جانے سے 30؍ دن کے اندر طلب کیا جائے گا اور وہ دو ماہ کے اختتام پر ساقط العمل ہو جائے گا تاوقتیکہ اس مدت کے ختم ہو جانے سے پہلے اسے مشترکہ اجلاس کی ایک قرارداد کے ذریعے منظور نہ کر لیا گیا ہو۔ *آئین میں یہ بھی لکھا ہے کہ جس دوران ہنگامی حالت کا اعلان نافذ العمل ہو، صدر مملکت بذریعہ فرمان یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ آئین کے حصہ دوم کے باب اول کی رو سے عطا کردہ بنیادی حقوق میں سے ان کے نفاذ کیلئے جن کی فرمان میں صراحت کر دی جائے کسی عدالت سے رجوع کرنے کا حق اور کسی عدالت میں کوئی کارروائی جو صرا حت کردہ حقوق میں سے کسی کے نفاذ کیلئے ہو یا جس میں ان حقوق میں سے کسی کی خلاف ورزی کے متعلق کسی سوال کا تعین مطلوب ہو، اس مدت کیلئے معطل رہے گی جس کے دوران مذکورہ اعلان نافذ العمل رہے اور ایسا کوئی فرمان پورے پاکستان یا اس کے کسی حصے کے بارے میں صادر کیا جا سکے گا۔ دوسری طرف معلوم ہوا ہے کہ وفاقی حکومت نے پنجاب کی طرف سے فوج کو خاص حالات اور مقامات پرمجسٹریسی اختیارات دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز وفاقی وزارت داخلہ اور محکمہ داخلہ پنجاب کے اعلی حکام کا اجلاس ہوا. صوبےکی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فوج کو مجسٹریسی کےا ختیارات کے لئے تعزیزایت پاکستان میں ترمیم ضروری ہے لیکن حکومت کی درخواست پر اس حوالے سے آرڈنینس بھی جاری کیا جاسکتا ہے۔ فوج کو مجسٹریسی اختیارات ملنے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور فوج کے درمیان خلا ختم ہوجائیگا اور فوج جہاں مناسب ہوگا از خود کارروائی کرتے ہوئے گرفتاریاں اور سزائیں بھی دلوا سکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ میانوالی میں شرپسندوں کی طرف سے ائربیس کی بیرونی دیوار توڑنے کے بعد بنکوں کو نقصان پہنچانے ، خدمت مرکز کو آگ لگانے اورتھانہ کمر مشانی کے تین کمروں کو جلانے کے بعداس پر قبضہ کرنے پر شہر میں فوج تعینات کردی گئی ہے۔ فوج کے 400 سے زائد جوانوں کو بطور کوئیک رسپانس فورس طلب کیا گیا جوشہر میں گشت کے علاوہ فوری کارروائی کے لئےپولیس اور انتظامیہ کے ساتھ ہونگے۔گھیرائو جلائو اور سیکورٹی خدشات کے پیش نظر پنجاب میں سیکرٹری سروسز اور سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور سمیت دیگر کئی انتظا می سیکرٹریوں اور اعلی افسران کی سرکاری گاڑیوں کی سبز نمبر پلیٹیں اتار کر پرائیوٹ نمبر پلیٹیں لگا دی گئی ہیں۔

Back to top button