کیا تحریک انصاف کے ساتھ اب عسکری تنظیم جیسا سلوک ہو گا؟

عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو کچھ تحریک انصاف نے کیا ہے ایسا رد عمل عسکری تنظیمیں دیتی ہیں۔ ریاست عسکری تنظیموں کے ساتھ کیسے نبٹتی ہے یہ بھی سب کو معلوم ہے. تحریک انصاف کے لیے چیلنج یہ ہے کہ کیا وہ ریاست کی طرف سے اپنے ساتھ عسکری جماعت جیسا سلوک چاہتی ہے یا سیاسی جماعت جیسا۔عمران خان کرپشن کے کیس میں گرفتار ھوے ہیں اب یہ مسئلہ گھیراؤ جلاؤ سے حل نہیں ہو گا بلکہ قانونی جنگ سے ہی کوئی راہ نکلے گی. ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو نیب نے القادر ٹرسٹ کے مقدمہ میں گرفتار کیا گیا ،گرفتاری کیسے ہوئی۔ گرفتاری کے بعد ردعمل کیسا تھا۔ یہ باتیں زیادہ اہم نہیں ہیں۔ زیادہ اہم کیس ہے اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دے دیا ہے کہ گرفتاری قانونی تھی . گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کا رد عمل کمزور تھا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا گیا، لیکن میری رائے یہ ہے کہ عوام کی تعداد کم تھی۔ کوئی ہزاروں، لاکھوں لوگ نہیں تھے۔ چار پانچ سو لوگ کسی کے گھر اور کہیں اور گھس گئے تو یہ کوئی بڑا رد عمل نہیں۔ یہ عسکری رد عمل تو ہو سکتا ہے لیکن اس کو عوامی رد عمل نہیں کہیں گے۔ اگر ہزاروں لاکھوں لوگ نکلتے۔ عوام کا جم غفیر ہوتا تو اور بات تھی۔ سیکڑوں کارکنوں کے سر پر امن و عامہ کی صورتحال بنانا نہ ماضی میں کبھی کامیاب ہوا ہے اور نہ ہی اب کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس کو سیاسی رد عمل نہیں کہا جا سکتا۔ عسکری تنظیمیں ایسے رد عمل دیتی ہیں۔ اور پھر ریاست عسکری تنظیموں کے ساتھ کیسے نبٹتی ہے یہ بھی سب کو معلوم ہے۔ مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ ماضی میں بھی سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوتی رہی ہیں۔ ان کی سیاسی جماعتیں اس پر سیاسی رد عمل بھی دیتی رہی ہیں، ، لوٹ مار سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا طریقہ نہ رہا ہے اور نہ ہی ہونا چاہیے۔ اب تحریک انصاف کے لیے چیلنج ہے کہ کیا وہ ریاست کی طرف سے اپنے ساتھ عسکری جماعت جیسا سلوک چاہتی ہے یا سیاسی جماعت جیسا۔ بہر حال سب رد عمل عارضی ہیں۔ فیصلہ نیب کیس کے حقایق پر ہی ہوناہے۔ ماضی میں بھی گرفتاریاں ہوتی رہی ہیں لیکن کیس کا فیصلہ شواہد پر ہی ہوا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ کیس کتنا مضبوط ہے یعنی شواہد کتنے مصدقہ اور ٹھوس ہیں۔ عمران خان کی وزارت عظمیٰ میں القادر ٹرسٹ کے معاملات طے ہوئے ہیں۔
جن اربوں روپے کی باتیں ہو رہی ہیں‘ اس رقم کو عمران نے بطور وزیراعظم اپنی کابینہ کی منظوری سے ہی ایڈجسٹ کیا تھا. وزیر اعظم عمران خان نے 3 دسمبر 2019 کو کابینہ کے اجلاس میں اراکین کو پڑھنے کی اجازت دیے بغیر رقم کے تصفیے کی منظوری لی تھی۔نیب کافی عرصہ سے اس معاملہ پر انکوائری کر رہا تھا۔ عمران خان کابینہ کے ارکان اس کیس میں اپنے بیانات دے چکے ہیں۔ اب عمران خان نہ نیب کو کوئی جواب دے رہے تھے اور نہ ہی تفتیش میں شامل ہو رہے تھے۔ وہ عدالتوں کے پیچھے چھپ رہے تھے اور قانون کا سامنا کرنے کو تیار نہیں تھے۔ مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ اگر عمران کا دامن صاف ہے تو انھیں از خود نیب کے سامنے پیش ہو جانا چاہیے تھا۔ عدالتوں کے پیچھے چھپنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ نیب کے پاس ناقابل تردید شواہد سامنے آئے تھے، جس کی بنیاد پر عمران خان، بشریٰ بی بی، بیرسٹر شہزاد اکبر وغیرہ کے خلاف انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کر دیا گیا۔القادر ٹرسٹ کے ممبران عمران خان اور ان کی اہلیہ ہیں۔ نیب نے انکوائری شروع کی تو عمران خان کی حکومت کے تقریباً تمام کابینہ ارکان کو طلب کیا تھا جنھوں نے 3 دسمبر 2019 کے اجلاس میں شرکت کی تھی تاہم نیب حکام کے مطابق پی ٹی آئی کے کچھ رہنما نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے کچھ پیش نہیں ہوئے۔ نیب نے گزشتہ سال جون میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سمیت دیگر کے خلاف ان الزامات کے تحت انکوائری کی تھی۔ نیب قانون کے مطابق جب معاملہ انویسٹی گیشن کے مرحلے میں آجاتا ہے تو پھر ملزمان سے براہ راست تفتیش کی جاتی ہے اور ضرورت پڑنے پر انھیں پوچھ گچھ کے لیے گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔یہ سہولت موجودہ حکومت کی ترمیم کے بعد دی گئی ورنہ عمران خان کی حکومت میں تو انکوائری میں ہی گرفتاری کر لی جاتی تھی۔ آج عمران خان اسی ترمیم کا فائدہ اٹھا رہے تھے۔ مزمل سہروردی بتاتے ہیں کہ نیب قانون کی دفعہ 24 کے تحت چیئرمین نیب کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جب کوئی ملزم دانستہ طور پر شامل تفتیش نہ ہو رہا ہو تو اس کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا سکتے ہیں۔عمران خان بھی القادر ٹرسٹ کیس میں متعدد مرتبہ طلبی کے باوجود شامل تفتیش نہیں ہو رہے تھے جس کی وجہ سے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔ القادر کیس میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ثابت ہوئی جو پاکستان کے عوام کے پیسے تھے۔ کیا آج شہزاد اکبر کو وطن واپس آکر اس کیس کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ کیا فرح گوگی کو واپس آکر جواب نہیں دینا چاہیے۔ یہ کرپشن کا کیس ہے‘ اس پر عمران کی گرفتاری عمل میں آئی ہے‘ اب یہ مسئلہ گھیراؤ جلاؤ سے حل نہیں ہو گا بلکہ قانونی جنگ سے ہی کوئی راہ نکلے گی۔

Back to top button