تحریک انصاف نے اپنی تربیت یافتہ دہشت گرد فورس کیسے تیار کی

عمران خان اور ان کی شدت پسند سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف 2014 سے ملک کی مختلف سیاسی اور عسکری قوتوں سے برسر پیکار ہے .لگ بھگ دس سال کے دوران P T I نے اسی انتشاری سیاست کو فروغ دینے کے لئے اپنے کارکنوں کودھشت گردی کی باقاعدہ ذہنی اور جسمانی تربیت دی ہے یہی وجہ ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف آج وطن عزیز کے لئے انتشار اور بربادی کی علامت بن چکے ہیں پاکستان کے دشمن عمران کو اپنے لئے ایک بن مانگی نعمت قرار دے رہے ہیں،. سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق دنیا بھر میں ایسے افراد جواقتدار و اختیار کے مناصب پر فائز رہے ہوں ان کی کارکردگی کا احتساب ہوتا ہے اور جہاں کہیں بھی بے قاعدگی اور بدعنوانی کی نشاندہی ہوتی ہے انہیں تادیبی کارروائی کا سامنا ہوتا ہے اس کے ردعمل میں متاثرین اپنے خلاف جاری کارروائی کا دفاع کرتے ہیں اور رائے عامہ کو ابلاغ کے ذرائع استعمال کرکے اپنے بے گناہ ہونے کا یقین دلاتے ہیں . لیکن اپنے معاملے میں عمر ان خان نے ان تمام حد ود اور روایات کو پامال کرتے ہوئے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ کوئی آسمانی مخلوق ہے اگر اس سے کوئی باز پرس کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے حرف غلط کی طرح مٹادیا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے تحریک انصاف کے کارکنوں کی دہشت گردوں کی طرح تربیت دی گئی انہیں کم و بیش دس سال سے تشدد، آتشزنی، پتھرائو، ڈنڈاماری اورضرورت پڑنے پر آتشیں اسلحہ استعمال کرنے کی صلاحیت سے لیس کیا گیا۔ اس کا پہلا مظاہرہ 2014ء میں اس وقت کیا گیا جب ملکی معیشت میں روڑے اٹکانے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبے پر معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی غرض سے دھرنا دیا تھا اس دوران پارلیمنٹ ہائوس اور پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر سمیت متعدد اہم سرکاری عمارتوں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور تشدد کے ہر حربے کواستعمال کیا گیا گزشتہ سال لانگ مارچ میں ناکامی کے بعد اسلام آباد میں درختوں تک کو آگ لگادی گئی زمان پارک میں محض ڈیڑھ دوماہ قبل پولیس کے غیر مسلح اہلکاروں پر پٹرول بم پھینکے گئے جو وارنٹ کی تعمیل کے لئے عمران تک رسائی کے خواہاں تھے سرکاری اور پولیس کی گاڑیوں کونذرآتش کیا گیا غلیلوں سے پتھر چلائے گئے جس سے یہ واضح ہوگیا کہ تحریک انصاف نے جلائو گھیرائو کے لئے دہشت گردوں کی کھیپ تیار کرلی ہے جو تربیت سے لیس ہے کم و بیش دو سال سے عمران خان اپنی شعلہ بیانی ہر روز تبدیل ہوتے جھوٹے بیانوں کے بل پر مسلسل فوج کے خلاف فضا بنانے میں مصروف رہا وہ اپنی ہر ناکامی کو فوج کے کھاتے میں ڈالتا آیا ہے اپنی حماقتوں کی ذمہ داری فوج کے سر تھوپتا رہا ہے سیاسی میدان میں ناکام رہا تو اس نے فوج سے مذاکرات اور مکالمے کی بات کی وہ سرکاری انتظامیہ کے کردار کی نفی میں مصروف رہا اور فوج کوہی دوسرا فریق قرار دینے پر اصرار کرتا رہا تاکہ اپنے کارکنوں کے ذہن میں فوج کے خلاف زہر انڈیلتا رہے اسے چار سال تک حکومت فوج کی بدولت ملی جس کے دوران فوج ہی اس کی سب سے بڑی معاون قوت بنی رہی اسے جونہی اقتدار پائوں تلے سے سرکتا محسوس ہوا تو اس نے اپنی توپوں کا رخ فوج کی جانب موڑ دیا، جب نیب نے عمران کو بادل نخواستہ گرفتار کیا جس کا فوج یاحکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا تحریک انصاف کے تربیت یافتگان نے فوری طور پر حساس اداروں اور ان کی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کردیا لاہور کا تاریخی جناح ہائوس جسے بانی پاکستان حضرت قائد اعظمؒ کی اقامت گاہ ہونے کا اعزازحاصل ہے اور جس میں فوج کے کور کمانڈر کی رہائش ہے اور اس عمارت میں قائد اعظمؒ سے تعلق رکھنے والے نوادرات بھی محفوظ تھے عمر ان کے فدائیوں نے اس پر نہ صرف حملہ کیا بلکہ پہلے وہاں لوٹ مارکی قائد اعظمؒ سے تعلق رکھنے والے نو ادرات کو لوٹ لیا گیا یا تباہ کردیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعدہنگامہ آرائی کے دوران دو دن میں 10افراد مارے گئے ہیں ‘ امریکی خبر رساں ایجنسی نے ہلاکتوں کی تعداد 6بتائی ہے۔ ادھرپولیس کا کہنا ہے کہ کور کمانڈر لاہورکے گھرمیں تحریک انصاف کے دوسینئر رہنماؤں میاں محمود الرشید اورمیاں اسلم اقبال کی فائرنگ سے 2افرادجاں بحق ہوگئے ہیں ‘ پولیس کے مطابق میاں محمود الرشید نے اپنے دستی اسلحہ سے فائر کیا جس سے شام نگر کا رہائشی 30 سالہ عبدالقدیر ولد عرفان ہلاک ہو گیا جبکہ میاں اسلم اقبال کی فائرنگ کی زد میں آ کر35 سالہ محمد عبداللہ وزیر ہلاک ہو گیا ۔ ایدھی ترجمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ لاشیں کور کمانڈر ہائوس سے لیکر مردہ خانے منتقل کر دیں ہیں ۔ پولیس کی مدعیت میں عمران خان سمیت 12 پی ٹی آئی رہنمائوں اور 15 سو نامعلوم کارکنان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیاگیا ۔ ادھر عسکری ٹاور گلبرگ میں تحریک انصاف کے مظاہرین کی طرف سے لگائی گئی آگ سے بچنے کیلئے واش روم میںچھپا نوجوان دم گھٹنے سے ہلاک ہوگا . لاہور اسلام آباد پشاور سمیت ملک کے بڑے شہروں میںتحریک انصاف کے دہشت گرد کارکنوں کی جانب سے سرکاری اور عوامی املاک سمیت اپنے مخالف سیاسی رہنماؤں کے گھروں اور ڈیروں پر حملوں کا سلسہ جاری ہے

Back to top button