کیا تحریک انصاف کی کشتی ڈوبنے والی ہے ؟

ایک طرف چیئرمین پیپلز پارٹی اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو نےتحریک انصاف پر پابندی کی مخالفت کا عندیہ دیا ہے جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت نے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے ملک گیر پرتشدد احتجاج کے دوران سرکاری اور فوجی املاک پر حملے کئے گئے۔ تحریک انصاف پر پابندی کے لئے ان حملوں کو ثبوت کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
اسلام آباد اور لاہور میں موجود اہم حکومتی اور نون لیگی ذرائع کے مطابق ملک میں جاری تحریک انصاف کے پرتشدد احتجاج کے تناظر میں پارٹی کو کالعدم قرار دینے کے لئے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ دو ہزار اکیس میں جس طرح وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پر پابندی لگائی تھی۔ یہی طریقہ اب تحریک انصاف کے لئے اپنایا جائے گا۔ خیال رہے کہ ٹی ایل پی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 11 بی (1) کے تحت کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں یہ پابندی اٹھالی گئی تھی۔
اب اسی ایکٹ کی مذکورہ شق کے تحت تحریک انصاف کو کالعدم قرار دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس ایکٹ اور شق کے تحت وفاقی حکومت کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے مناسب مواد موجود ہے کہ تحریک انصاف دہشتگردی میں ملوث ہے اور اس نے ایسی سرگرمیاں انجام دی ہیں۔ جس سے ملک کے امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
ذرائع کے بقول ویڈیو فوٹیجز اور آڈیو ٹیپس کی شکل میں وفاقی حکومت کے پاس یہ ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ تحریک انصاف کی بیشتر قیادت نے عوام کو اشتعال دلاتے ہوئے ملک میں انتشار کی صورتحال پیدا کی۔ جس کے نتیجے میں سرکاری اور فوجی تنصیبات پر حملے ہوئے اور سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ بلوائیوں نے عوام کو بھی نقصان پہنچایا۔ حکومت کو دستیاب ویڈیو اورآڈیو ٹیپس سے یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت سرکاری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس منصوبے میں ملوث تمام افراد کی شناخت کی جاچکی ہے۔ جس کے تحت بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا آغاز کیا جاچکا ہے اور آنے والے دنوں میں گرفتاریوں کے اس عمل میں تیزی دیکھنے کو ملے گی۔
ایک معتبر نون لیگی ذریعے نے مزید بتایا کہ ملک میں جاری سرکاری اور سیکورٹی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر لندن میں مقیم پارٹی قائد نواز شریف مسلسل وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے بھی تحریک انصاف پر پابندی کے سلسلے میں فوری کارروائی شروع کرنے کا گرین سگنل دیدیا ہے چونکہ یہ کارروائی وزارت داخلہ نے کرنی ہے۔ لہٰذاجلد وزیر داخلہ کی زیر صدارت اہم اجلاس متوقع ہے۔ جس میں تحریک انصاف کو کالعدم قرار دینے سمیت دیگر اہم معاملات پر حتمی مشاورت متوقع ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد احتجاج کی آڑ میں عمرانڈوز کی شرپسندانہ کارروائیوں میں متعدد پولیس گاڑیوں، چوکیوں اور بسوں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے۔ ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت کو آگ لگائی گئی۔ جبکہ جی ایچ کیو اور کور کمانڈر ہائوس لاہور پر حملہ کیا گیا۔ شر پسندوں نے کور کمانڈر ہائوس کے دروازے، کھڑکیوں کے شیشے، ایل سی ڈیز اور فانوس تک توڑ ڈالے۔ نصف درجن سے زائد کمروں پر مشتمل کور کمانڈر ہاؤس کی عمارت کا کوئی حصہ بلوائیوں سے محفوظ نہیں رہا۔ جبکہ بلوائی بڑی تعداد میں اشیا بھی لوٹ کر لے گئے۔ کور کمانڈر ہائوس کی یہ عمارت ایک قومی ورثہ ہے۔ جو کبھی بانی پاکستان قائداعظم کی رہائش تھی۔ شر پسندوں نے اس کی تاریخی حیثیت کو بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔
مبصرین کے مطابق اگرچہ کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنے والے عمرانڈوز نے سی سی ٹی وی کیمرے بھی توڑ ڈالے اور اپنے تئیں یہ سوچا کہ ان کے چہرے محفوظ رہیں گے۔ لیکن ان کیمروں کی ریکارڈنگ کا سسٹم کہیں اور تھا۔ لہٰذا کور کمانڈر ہائوس لاہور میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کرنے والوں کے چہرے اور آوازیں واضح طور پر سی سی ٹی وی فوٹیجز میں محفوظ ہیں اور تقریباً سب کی شناخت کرلی گئی ہے۔ جلد ہی یہ تمام انصاف کے کٹہرے میں ہوں گے۔ نہ صرف توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کرنے والے۔ بلکہ ان کو ہدایات جاری کرنے والے پی ٹی آئی رہنمائوں کو بھی قانون کی گرفت میں لانے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے صف اول کے رہنمائوں کی فہرستیں بھی تیار کی جاچکی ہیں اور جلد ان سب کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنمائوں کی جانب سے سرکاری اور سیکورٹی املاک پر حملہ کرنے والے عمرانڈوز سے اعلان لا تعلقی کا سلسلہ جاری ہے۔ اسد عمر، شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد کے بعد اب فواد چوہدری نے بھی کہا ہے کہ گھیرائو جلاؤ کرنے والوں سے پارٹی کا کوئی تعلق نہیں۔ ذرائع کے بقول ان کھوکھلے بیانات کے ذریعے پی ٹی آئی رہنما خود کو انتشار پھیلانے کی ان کارروائیوں سے الگ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ آڈیو اور ویڈیو کی شکل میں حکومت کے پاس تمام شواہد موجود ہیں کہ کون کون سا پی ٹی آئی رہنما عمرانڈوز کو کارروائیوں کے لئے اشتعال دلارہا تھا اور ہدایات جاری کر رہا تھا۔
