بشریٰ بی بی کے طاقتور مؤکل کیوں بھاگ نکلے؟

بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کے خاتون اول بننے کی کہانی آج بھی سنیں تو اس کی پُراسراریت بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کہانی کا آغاز اگرچہ بہت سادہ طریقے سے ہوتا ہے، جب ایک لیجنڈری کرکٹر عمران خان سیاست کے میدان میں اس یقین کے ساتھ اُترتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کی طرح آئیں گے اور چھا جائیں گے لیکن جب اس نئے کھیل کے کڑے اور پیچیدہ قواعد و ضوابط سے پالا پڑتا ہے تو کبھی روحانیت سے رجوع کرتے ہیں اور کبھی تعویذ گنڈوں اور عملیات کی طرف بھاگتے ہیں کہ کسی طرح اقتدار کی چوکی بیٹھ جائیں۔۔اسے اتفاق کہہ لیں یا خان صاحب کی قسمت کہ ان کے ایک گھاگ اور شاطر دوست نے ان کی یہ بےچینی بھانپ لی۔ دوسری طرف کہانی میں پچاس پچپن سال کی عمر میں بھی انتہائی خوبصورت ایک خاتون بشریٰ بی بی کی انٹری ہوتی ہے جو شادی شدہ اور پانچ بچوں کی ماں ہیں اور جنھوں نے چند سالوں سے پیری فقیری کا دھندہ شروع کر رکھا ہے۔
جو لوگ پاک پتن کے رہائشی ہیں یا وہاں کے صوفی بزرگ بابا فرید شکر گنجؒ کے عقیدت مند ہیں انھوں نے دو ہزار کی دہائی میں بشریٰ بی بی المعروف پنکی پیرنی کا نام بھی ضرور سنا ہو گا۔ بشریٰ ایک تعلیم یافتہ اور خاصی ماڈرن خاتون تھیں، پہلے وہ پردے میں گئیں اور پھر مشہور کر دیا گیا کہ ان کے پاس مؤکل آتے ہیں۔ اب ہوا کچھ یوں کہ پاک پتن آنے والے بہت سے عقیدت مند اپنی پریشانیوں کو لے کر پنکی پیرنی کے ڈیرے پر بھی آنے لگے، وہ کسی کو وظیفہ بتاتیں اور کسی کو اپنے مؤکلوں کی وساطت سے خوشخبری سناتیں۔ بشریٰ کے شوہر خاور مانیکا سینئر کسٹم آفیسر سابق وفاقی وزیر غلام فرید مانیکا کے بیٹے تھے تو ان کا حلقہ احباب بھی خاصا وسیع تھا۔ عون چودھری کا شمار بھی ان کے قریبی لوگوں میں ہوتا تھا اور ظاہر ہے کہ پیرنی کا لبادہ اوڑھنے سے پہلے بشریٰ کا بھی ان سب سے آزادانہ میل جول تھا۔
خان صاحب کو بشریٰ بی بی کی چوکھٹ تک عون ہی لے کر آئے تھے اور اس وقت تک پیرنی بشریٰ بھی نہ صرف ایک پیر کی مریدنی تھیں بلکہ کسی پامسٹ سے بھی رابطے میں تھیں۔ کہتے ہیں کہ وہ جب کسی اثر رسوخ والے مرید کو بشارتیں دیتیں تو مختلف ذرائع سے تصدیق بھی کر لیتیں کہ کہیں کچھ غلط نہ ہو جائے۔ خیر کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ 2015 میں جہانگیر ترین کی جیت، سیاست کے میدان میں بشریٰ کی پہلی پیش گوئی تھی جو سچ کیا ثابت ہوئی، خان صاحب تو ان کے بن دیکھے مرید ہو گئے۔ بعد کی کہانی بہت بار دوہرائی جا چکی ہے کہ خان صاحب کس طرح راتوں کو اٹھ اٹھ کر پاک پتن جانے لگے اور کس طرح بشریٰ بی بی کے اسیر ہوئے۔ دروغ بر گردن راوی مگر کہتے ہیں کہ جب بشریٰ بی بی کو خان صاحب کے وزیراعظم بننے کی یقین دہانی ایک پامسٹ، ایک پیر اور ان کے نام نہاد مؤکلوں نے بھی کروا دی تو وہ اور ان کے شوہر سر جوڑ کر بیٹھے، سودا گھاٹے کا نہیں تھا یعنی تینتیس سالہ ازدواجی زندگی کو داؤ پر لگایا جا سکتا تھا۔
پھر وہی ہوا جو کہانی میں آگے لکھا جا چکا تھا، 2017 میں انھوں نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کی اور 2018 کے عام انتخابات سے پہلے خان صاحب سے نکاح کر لیا۔ نکاح کے چند ماہ بعد خان صاحب نے عنان حکومت بھی سنبھال لی۔ اب اسے ان کی قسمت کہیں، مؤکلوں کی کرامات یا اسٹیبلشمنٹ کی مہربانی۔۔لیکن یہ طے ہے خان صاحب پنکی پیرنی یعنی اپنی خاتون اول کے ہمیشہ کے لئے مرید ہو گئے۔ یہاں تک کہ فیصلے وزیراعظم کرتے تھے مگر سکرپٹ خاتون اول لکھتی تھیں۔ 2022 کے بعد بھی شاید راوی چین ہی لکھتا لیکن کہانی نے ایک نیا موڑ لیا اور خان صاحب کے اقتدار کا دھڑن تختہ ہو گیا۔ اب بیچاری بشریٰ بی بی کو اپنی فکر ہے کہ وہ نت نئے مقدمات کے گورکھ دھندے سے کیسے نکلیں؟ اور تو اور کہا جا رہا ہے کہ ان کے مؤکل بھی بھاگ گئے ہیں اور یہیں سے کہانی میں سسپنس پیدا ہوتا ہے۔۔کہاں کی پیری اور کہاں کی فقیری؟ دیکھنا یہ ہے کہ بشریٰ کے جادو ٹونے اور ٹوٹکے کہاں تک ان کا ساتھ دیں گے؟ کیونکہ جب تک ان کی راجدھانی کو مؤکلوں نے گھیرے میں لیا ہوا تھا، ہر طرف دولت، شہرت اور سٹیٹس کا نشہ سر چڑھ کر بول رہا تھا اور آج جب ہر طرف الو بول رہے ہیں، کیا کہانی اپنے اختتام کی طرف بڑھ
رہی ہے یا پکچر ابھی باقی ہے؟
