کراچی میں فینسی پرندوں کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا

پالتو جانوروں اور پرندوں سے بچوں کو قدرتی طور پر لگائو ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ طلبا اور بچے اپنے اس شوق کو باخوبی پورا کرتے ہیں، کراچی میں کم آمدنی والا طبقہ کبوتر، طوطے، مرغیاں پال کر ماہانہ ہزاروں روپے کما رہا ہے۔کراچی میں فینسی طوطے، کبوتر اور مرغیوں کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا ہے۔ خراب ترین معاشی حالات اور بے روزگاری کے شکار افراد گھروں کی چھتوں پر پنجرے رکھ کر ان کا کاروبار کر رہے ہیں۔ امپورٹ ایکسپورٹ بند ہونے پر مقامی فینسی طوطے اور پرندے زیادہ کارآمد ہونے لگے۔ دوائیاں، خوراک اور دیگر اخراجات بڑھنے پر ان پرندوں کی قیمتیں گزشتہ سال سے 40 فیصد بڑھ چکی ہیں۔صدر ایمپریس مارکیٹ ، شریف آباد اور کریم آباد مارکیٹ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ 500 روپے سے لاکھوں روپے تک کے جوڑے فروخت کیے جا رہے ہیں، شہر میں 5 سال قبل تک تاجروں کی تعداد 100 تھی۔ اب 3 سے 5 ہزار تک پہنچ چکی ہے، فینسی طوطے اور پرندے پالنے اور خریدو فروخت کرنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ حکومت اس کاروبار کی سر پرستی کرے اور اسمگلنگ کی لعنت سے جان چھڑا کر امپورٹ ایکسپورٹ کی اجازت دے کر بھاری ٹیکس اور ڈیوٹی کی مد میں بھاری زرمبادلہ حاصل کرے۔بعض پرندوں طوطوں کے تاجر اپنے یوٹیوب چینل بنا کر ان کو پالنے، بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور کاروبار کے حوالے سے ترغیب دے رہے ہیں۔ بے روزگاری کے اس دور میں فینسی طوطوں اور پرندوں کا کاروبار خاصا بڑھ چکا ہے۔ نوجوان طبقہ موٹر سائیکلیں، گھر کے اضافی سامان فروخت کر کے یا قرض لے کر فینسی طوطوں اور پرندوں کا کام کرنے لگا ہے جو 50 ہزار سے شروع کیا جا سکتا ہے اور گھروں کی چھتوں پر لکڑی کے پنجرے بنا کر لو ہے یا پلاسٹک کی جالی لگا کر جگہیں بنا رہے ہیں۔ ہر علاقے میں فینسی پرندوں اور طوطوں کی دکانیں کھل گئی ہیں جہاں ان کی خوراک ، دوائیں مل جاتی ہیں اور مختلف یوٹیوب چینل پر ان کے رکھنے، ان کے کاروبار کے حوالے سے ہدایات اور مشورے مل جاتے ہیں۔صدر ایمپریس مارکیٹ، نارتھ کراچی ،نمک منڈی کے قریب، سرجانی، شاہ فیصل کالونی، کریم آباد، شریف آباد سمیت دیگر علاقوں میں پرچون کی دکانوں کی طرح ان کی دکانیں کھل گئی ہیں، جہاں صبح سے رات تک کاروبار چلتا ہے۔فینسی پرندوں کا کاروبار کرنے والے تاج محمد مجاہد کا کہنا تھا کہ امپورٹ ایکسپورٹ بند ہے، اب کراچی میں ہزاروں تاجر ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد میں 600 سے زائد اقسام کے طوطے پرندے موجود ہیں۔ پوش علاقے ہوں یا کچی آبادی کے گھر ہوں، چھتوں پر لوگوں نے پرندے طوطے رکھ کر کاروبار شروع کیا ہوا ہے اگر حکومت اس کا روبار کی سر پرستی کرے، امپورٹ اور ایکسپورٹ کھول دے تو ٹیکس ڈیوٹی کی صورت میں بھاری زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے، اس طرح پرندوں کی بیرون اسمگلنگ کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔

اسپین نے پہلی مرتبہ فیفا ویمنز ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیت لیا

Back to top button