بزدار کا پرنسپل سیکرٹری کس کس کو جیل بھجوانے والا ھے؟

پنجاب کے سابق وزیر اعلی عثمان بزدار کے پرنسپل سیکرٹری طاھر خورشید المعروف ٹی کے اس وقت انگلینڈ میں موجود ھیں اور اعظم خان کی طرح یہ بھی تحریک انصاف پنجاب حکومت میں ھونے والی اربوں روپے کی کرپشن کے مختلف مقدمات میں وعدہ معاف گواہ بننے پر راضی ھوچکے ہیں۔ جس کے بعد عمران خان ، ان کی اھلیہ بشری بی بی ان کی فرنٹ پرسن فرح گوگی اور سابق وزیر اعلی عثمان بزدار سمیت کئی اھم شخصیات کا جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا طے ھے۔ یہ انکشاف سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چودھری نے اپنی ایک تحریر میں کیا ۔ جاوید چودھری کے مطابق عثمان بزدار کی کرپشن کی پہلی فائل لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کے دور میں میجر جنرل فیض حمید نے بنائی تھی، یہ اس وقت ڈی جی سی تھے، عثمان بزدارکے کرسی سنبھالتے ہی بزدار خاندان نے”کارروائیاں” شروع کر دیں۔
فیملی کے ایک بزدار بزرگ نے لاہور میں شراب کے پرمٹس کی ذمے داری لے لی، دوسرے نے ٹھیکوں پر ہاتھ مارنا شروع کر دیا جب کہ تیسرا سرکاری فائلیں کلیئر کرانے کی رقمیں لینے لگا، فرح گوگی اور احسن جمیل گجر کا نام بھی آنے لگا، سرکاری افسر اپنی مرضی کی پوسٹنگز کے لیے ڈی ایچ اے لاہورمیں فرح بی بی کے گھر جانے لگے۔۔ جاوید چودھری بتاتے ہیں کہ یہ حرکتیں اس قدر بڑھ گئیں کہ لوگوں نے کھلے عام گفتگو شروع کر دی، علیم خان نے بھی ایک دن وزیراعظم کی توجہ اس جانب مبذول کرائی مگر وزیراعظم کا کہنا تھا یہ پروپیگنڈا ہے، علیم خان نے جواب دیا، آپ مجھے کوئی افسر دے دیں، کوئی عہدہ بتا دیں اور رقم طے کر دیں، میں آپ کو وہ شخص اس رقم میں اپوائنٹ کرکے دکھا دوں گالیکن وزیراعظم نے بات ٹال دی۔
یہ باتیں بہرحال چلتے چلتے اسٹیبلشمنٹ تک پہنچ گئیں، جنرل نوید مختار اس وقت ڈی جی آئی اور میجر جنرل فیض حمید ڈی جی سی تھے، بزدار ریکٹ کے بارے میں معلومات جمع کی گئیں تو معاملہ کہیں زیادہ سنگین نکلا چناں چہ فائل بنی اور یہ فائل جنرل فیض حمید نے آرمی چیف کو دے دی اور جنرل باجوہ یہ لے کر وزیراعظم کے پاس پہنچ گئے جاوید چودھری کا کہنا ھے کہ آرمی چیف نے وزیراعظم کو بتایا، یہ مال صرف پنجاب تک محدود نہیں بلکہ یہ وزیراعظم ہاؤس تک بھی آ رہا ہے مگر میں اس سے آگے ایک لفظ نہیں بولوں گا کیوں کہ آپ کو شرمندگی ہوگی، وزیراعظم تھوڑی دیر فائل دیکھتے رہے اور پھر اسے سائیڈ پر رکھ دیا اور شہباز شریف کے مقدموں پر گفتگو شروع کر دی۔
عثمان بزدار کے خلاف پہلی شکایت اسد عمر، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک اور فواد چوہدری نے کی تھی، یہ چاروں 2019 کے شروع میں اکٹھے آرمی چیف کے پاس گئے تھے اور ان سے درخواست کی تھی آپ ہماری عثمان بزدار سے جان چھڑادیں ورنہ ہم چھ ماہ میں فارغ ہو جائیں گے۔
ان کے ساتھ ایک اور سیاست دان بھی تھے اور یہ بات اس سیاست دان نے 2019 کے وسط میں بتائی تھی، آرمی چیف نے اس میٹنگ کے بعد بزدار کی فائل وزیراعظم کو پیش کی تھی مگر خان صاحب کی نظر میں بزدار کے جرائم، جرائم نہیں تھے۔ جاوید چودھری کہتے ہیں کہ جنرل نوید مختار کے بعد لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ڈی جی آئی بن گئے، جنرل فیض حمید 29 اپریل 2019تک ڈی جی سی رہے، یہ اس کے بعد نیا عہدہ دے کر جی ایچ کیو بھجوا دیے گئے۔
جنرل عاصم منیر بھی پنجاب کی صورت حال سے پریشان ہو گئے، وقت کے ساتھ ساتھ کرپشن میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا، سیکریٹری ٹو سی ایم طاہر خورشید (ٹی کے) اس ریکٹ کا اہم ترین مہرہ تھا، سی ایم ہاؤس میں پیلے رنگ کی چٹوں پر فیصلے ہوتے تھے اور افسروں کو باقاعدہ تاریخ دی جاتی تھی آپ کے پاس فلاں تاریخ سے فلاں تاریخ تک وقت ہے۔
آپ اس میں جو بنا سکتے ہیں بنا لیں، دوسری صورت میں انھیں نئے سرے سے ادائیگی کرنا پڑتی تھی، یہ صورت حال جون 2019 تک ناقابل برداشت ہوگئی چناں چہ ڈی جی آئی جنرل عاصم منیر نے وزیراعظم کو مطلع کرنے کا فیصلہ کیا، جنرل باجوہ مڈل ایسٹ کے دورے پر جا رہے تھے، ان کا مشورہ تھا میں واپس آ جاتا ہوں تو ہم دونوں اکٹھے وزیراعظم کے پاس جائیں گے اور انھیں صورت حال کی سنگینی کے بارے میں مطلع کریں گے لیکن ڈی جی آئی کا کہنا تھا وزیراعظم کو بروقت مطلع کرنا میری ذمے داری ہے۔
میں اگر خاموش رہوں گا تو یہ میرے حلف کی خلاف ورزی ہوگی بہرحال قصہ مزید مختصر جنرل عاصم منیر نے وزیراعظم کو ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ فائل دے دی، وزیراعظم ناراض ہو گئے اور انھوں نے آرمی چیف کو فون کرکے جنرل عاصم منیر کو ہٹانے کا حکم دے دیا جس کے بعد وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان 15 جون 2019 ہفتے کے دن پانچ گھنٹے طویل ملاقات ہوئی۔
آرمی چیف نے وزیراعظم کو سمجھایا افسروں کو ڈی جی آئی جیسی پوزیشنز سے اس طرح نہیں ہٹایا جاتا، یہ زیادتی بھی ہے اور حماقت بھی، دوسرا جنرل عاصم نے آپ کو اطلاع دے کر اپنا فرض ادا کیا، یہ ان کا کام ہے مگر وزیراعظم ٹس سے مس نہ ہوئے، آرمی چیف نے آخر میں وزیراعظم کو مشورہ دیا آپ جنرل عاصم کو بلائیں، ان کے بےساتھ بیٹھیں، انھیں چائے پلائیں اور انھیں عزت کے ساتھ رخصت کر دیں لیکن وزیراعظم اس کے لیے بھی راضی نہ ہوئے اور یوں 16 جون 2019 کو اتوار کے دن جنرل عاصم منیر کا تبادلہ کر دیا گیا۔ جاوید چودھری کے مطابق آرمی چیف نے وزیراعظم کو نئے ڈی جی کے لیے تین نام بھجوا دیے، اس فہرست میں جنرل فیض حمید کا نام شامل نہیں تھا، وزیراعظم نے فہرست ملنے کے بعد آرمی چیف کو بلایا اور صاف کہہ دیا "آپ مجھے جنرل فیض حمید دے دیں، میں ان کے بغیر کام نہیں چلا سکوں گا” یوں تین سینیئر جنرلز کی فہرست واپس لے کر 16 جون 2019 کو جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی بنایا گیا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تماشا پوری دنیا نے دیکھا۔
پنجاب میں اس زمانے میں پانچ لوگوں کی حکمرانی تھی، بشریٰ بی بی، یہ پنجاب چلا رہی تھیں، ان کے بچے اور سابق فیملی بھی اس کھیل میں شامل تھی، دوسرا کردار فرح گوگی تھی، یہ بشریٰ بی بی کی دوست اور دست راست تھی، آپ ان کے اختیارات کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے، تیسرا کردار طاہر خورشید تھا، یہ سیکریٹری ٹو سی ایم تھا، آپ اس کے اختیارات کا اندازہ اس چیز سے لگا لیجیے پی ٹی آئی نے اس زمانے میں صرف ایک ضمنی الیکشن جیتا اور وہ طاہر خورشید کے داماد احسن سلیم بریار کا الیکشن تھا، یہ خاصا متنازع ہوا۔
طاہر خورشید نے اپنی صاحب زادی کی شادی پر ایک ارب 25 کروڑ روپے کی سلامیاں اور گاڑیاں وصول کیں اور بقول چوہدری پرویز الٰہی میں نے زندگی میں اتنی مہنگی شادی اور اتنی سلامیاں نہیں دیکھیں، طاہر خورشید کے سمدھی بریار خاندان نے اب ایک ٹیلی ویژن چینل بھی شروع کر لیا ہے، چوتھی طاقت وزیراعظم خود تھے۔
یہ بھی آئی جی اور چیف سیکریٹری کے ذریعے صوبہ چلانے کی کوشش کر رہے تھے، عمران خان نے ساڑھے تین برسوں میں سات آئی جی اور پانچ چیف سیکریٹری تبدیل کیے لیکن اس کے باوجود صوبہ نہ چل سکا، کیوں؟ کیوں کہ صوبے کی تمام تنابیں بشریٰ بی بی، فرح گوگی اور طاہر خورشید کے ہاتھوں میں تھیں اور جب تک ان کا بندوبست نہ کیا جاتا صوبہ نہیں چل سکتا تھا اور آخر میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار آتے ہیں۔
یہ نام کے ہی سہی لیکن یہ وزیراعلیٰ تھے چناں چہ جہاں ان کا ہاتھ پڑتا تھا، یہ بھی نہیں چوکتے تھے، پانچ کھلاڑیوں کے اس کھیل میں ملک کا بیڑا غرق ہوگیا، یہ ملک اگر آج مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی افراتفری، لاقانونیت، آئینی بے بسی اور عدم استحکام کا شکار ہے تو ہمیں یہ ماننا ہوگا۔
اس کی وجہ ساڑھے تین سال کا وہ "مس ایڈونچر” تھا، اسٹیبلشمنٹ نے جلد بازی میں نواز شریف کو ہٹا کر عمران خان کو مسند اقتدار پر بٹھا دیا اور اس کے بعد اس غلط پروجیکٹ کی کام یابی کے لیے اداروں کی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا گیا چناں چہ آج ملک اس غلطی کی فصل کاٹ رہا ہے اور یہ فصل
شکیل آفریدی کو جلد رہائی ملے گی یا لمبی قید؟
ہر روز بڑھ رہی ہے
