کیا TLP دوبارہ سڑکوں پر آنے کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے؟

کنفیوژڈ کپتان حکومت کی طرف سے کالعدم قراردی جانے والی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر بارے قرارداد پیش کیے جانے کے بعد لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں اپنا احتجاج تو ختم کر دیا ہے لیکن اس معاہدے کے تحت احتجاج کے دوران جن سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے ان کی رہائی سے متعلق حکومت ہمیشہ کی طرح سابق بھی ’کنفیوژن‘ کا شکار ہے جس کا نتیجہ دوبارہ احتجاجی تحریک شروع ہونے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔
اسی طرح ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس لینے کے بارے میں بھی حکومتی وزرا کی آرا مختلف ہیں۔ وزیرِاعظم عمران خان کے ایک بیان کے مطابق تحریک لبیک کو کالعدم قرار دیے جانے کا فیصلہ واپس نہیں لیا جائے گا جبکہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کے مطابق تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس لینے میں ابھی کچھ عرصہ درکار ہو گا۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد قومی اسمبلی میں قرارداد پیش ہونے سے پہلے ایک ویڈیو بیان میں یہ کہا تھا کہ جن لوگوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں ان کو خارج کر دیا جائے گا جائے گا۔ تاہم اگلے ہی روز وفاقی وزیر داخلہ نے ایک پریس کانفرس میں کہا کہ صرف ان افراد کو رہا کیا جائے گا جنہیں خدشہ نقص امن کی تحت گرفتار کیا گیا ہے اور باقی 200 سے زیادہ زیر حراست ٹی ایل پی کارکنان کو دہشت گردی کے مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔
چنانچہ ان کنفیوژڈ بیانات کے بعد اب تحریک لبیک کی جانب سے حکومت پر معاہدے کی دوبارہ خلاف ورزی کا الزام لگایا جارہا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ان حالات میں اس کے کارکنان دوبارہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
وزیر داخلہ شئخ رشید کے بقول احتجاجی مظاہروں کے دوران 733 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 669 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے، ان کے مطابق ان میں سے زیادہ کا تعلق صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں سے ہے۔ اس پریس کانفرنس میں شیخ رشید نے تفصیلات نہیں بتائیں کہ رہا کیے جانے والے افراد کو کن کن شہروں سے حراست میں لیا گیا تھا۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ احتجاجی مظاہروں کے بعد اب تک ملک بھر میں 210 مقدمات درج ہوچکے ہیں اور ٹی ایل پی سے مذاکرات کے نتیجے میں ان مقدمات کے اخراج کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو کہ ان مقدمات کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ شیخ رشید کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحریک لبیک پر پابندی اور اس کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کے معاملات عدالتوں میں طے ہوں گے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا بھی کہنا ہے کہ ریاست کی رٹ کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے گا اور جن افراد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملہ کر کے انھیں ہلاک اور زخمی کیا ہے انھیں کسی طور پر بھی رہا نہیں کیا جائے گا۔ ان کے بقول صرف خدشہ نقص امن کے تحت حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کیا جا رہا ہے اور دہشت گردی کے کیسوں کا سامنا کرنے والوں کو عدالت سے رجوع کرنا ہو گا۔ یاد رہے کہ سعد رضوی کے خلاف بھی قتل اور اقدام قتل کے مقدمات دہشت گردی کی دفعات کے تحت دائر کیے گئے ہیں۔ تاہم پراسیکوشن برانچ کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد میں سے ایسے افراد کی نشاندہی کرنا کافی مشکل ہے جنہیں صرف خدشہ نقص امن کی تحت حراست میں لیا گیا ہے۔
تحریک لبیک کے سربراہ علامہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری سے لیکر اس جماعت کو کالعدم قرار دینے تک ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے افراد اور سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں وزارت داخلہ کو معلومات فراہم کی گئیں ہیں۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران دو ہزار سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان میں سے تین سو سے زائد ایسے افراد ہیں جن کو خدشہ نقص امن کے تحت احتجاجی مظاہرے شروع ہونے سے قبل ہی حراست میں لیا گیا تھا۔ پنجاب کے محکمہ پراسکیوشن کے مطابق حکومت کی طرف سے حراست میں لیے گیے افراد کو رہا کرنے کا اعلان ابھی تک صرف بیان کی حد تک ہے جبکہ انھیں تحریری طور پر اس بارے میں کوئی احکامات نہیں دیے گئے۔ پنجاب کی پراسیکویشن برانچ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم تحریک لبیک کی طرف سے مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں، پولیس اہلکاروں پر تشدد اور قتل سمیت متعدد قوانین کی خلاف ورزیوں پر دو سو سے زائد مقدمات درج ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان مقدمات میں کچھ افراد نامزد ہیں جبکہ باقی افراد نامعلوم ہیں جن کی شناخت سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ سرکاری اہلکار کے مطابق متعدد مقدمات میں جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان کو صرف خدشہ نقص امن کے تحت ہی گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ ان پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملہ کرنے اور لوگوں کو حملے کے لیے اکسانے کے بھی الزامات ہیں۔ اہلکار کے مطابق جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں سے اکثریت ان افراد کی ہے جنہیں احتجاجی مظاہروں کے دوران حراست میں لیا گیا۔ پراسکیوشن برانچ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں فوجداری مقدمات کی پیروی ان کے ادارے نے ہی کرنی ہے اس لیے ان مقدمات میں ایسے افراد کی نشاندہی کرنا جنہیں صرف خدشہ نقص امن کے تحت گرفتار کیا گیا ہے کافی مشکل امر ہے۔
فوجداری مقدمات کے پیروی کرنے والے وکیل افتخار شیروانی کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت کے پاس یہ اختیار ہے کہ خدشہ نقص امن کے تحت حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کرسکتی ہے لیکن جس معاملے میں کسی فرد یا جائیداد کو نقصان پہنچا ہو، ایسے مقدمات اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتے جب تک کہ جس شخص کو مالی نقصان پہنچا ہو وہ عدالت میں آ کر اس بارے میں بیان نہ دے، چاہے ریاست اس مقدمے میں مدعی ہو۔انھوں نے کہا کہ ان احتجاجی مظاہروں کے دوران سینکٹروں پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں اور جب تک وہ عدالت میں آ کر بیان نہیں دیں گے مظاہرین کے خلاف مقدمات ختم نہیں ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ مقدمے کے اخراج کی دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ تفتیشی افسر عدالت میں بیان دے کہ اس مقدمے میں ملزمان کے خلاف شہادتیں نہیں ملیں اس لیے اس مقدمے کو ختم کر دیا جائے۔
کالعدم تحریک لبیک کے سربراہ علامہ سعد رضوی کے خلاف پولیس اہلکاروں کے قتل کے علاوہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمات بھی درج ہیں۔ اگرچہ ان کو احتجاجی مظاہروں سے پہلے ہی حراست میں لیا گیا تھا تاہم ان مقدمات میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 109 بھی لگائی گئی ہے جو کہ اعانت مجرمانہ سے متعلق ہے۔ ان مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات کا بھی اضافہ کیا گیا ہے اور اس قانون کے تحت اگر مدعی مقدمہ معاف بھی کر دے تو پھر بھی عدالت اس کو تسلیم نہیں کرتی۔
دوسری طرف سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے تحریک لبیک کے گرفتار کارکنان کی رہائی کے حوالے سے جان بوجھ کر ابھی تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ جب تک اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد کا فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک ان لوگوں کو زیر حراست ہی رہنا چاہیئے تاکہ اگر اس حوالے سے دوبارہ کوئی تنازعہ کھڑا ہو تو امن عامہ کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ لیکن دوسری جانب یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اگر حکومت نے تحریک لبیک کی قیادت کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت گرفتار کارکنان کو رہا نہ کیا تو دوبارہ ملک گیر مظاہروں کی کال دے دی جائے۔
