بزدار کیخلاف جعلسازی سے سرکاری اراضی ہڑپ کرنے کا کیس

عمران خان کے وسیم اکرم پلس سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور ان کے اہل خانہ کے خلاف ڈیرہ غازی خان میں سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ کرنے اور سرکاری اراضی جعل سازی سے اپنے نام منتقل کرانے کے الزامات پر مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ کیس درج کروانے والے ڈیرہ غازی خان کے متاثرہ شخص کا نام بشیر احمد چوہان ہے جسکی شکایت پر 18 جون کو ڈی جی خان کے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے حکم پر کیسز کا اندراج کر کے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ عثمان بزدار کے خلاف جن الزامات کے تحت کیسز درج کیے گئے ہیں ان میں دھوکہ دہی کے تحت جائیداد کا حصول، جعل سازی اور جعلی دستاویز کو حقیقی کاغذات کے طور پر استعمال کرنا شامل ہیں۔
سیٹھ عابد کی بیٹی کے قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت
سابق وزیر اعلیٰ بزدار کے خلاف درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ شکایت کنندہ نے 28 جولائی 2018 اور 7 جون 2022 کو ڈی جی خان کے ڈپٹی کمشنر کو عثمان بزدار اور ان کے بھائیوں کی جانب سے فراڈ سے جائیداد کی جعلی منتقلی کے بارے میں درخواستیں جمع کرائی تھیں۔ بشیر احمد چوہان کی شکایات میں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار اور ان کے بھائیوں نے ڈی جی خان ضلع کے ریونیو افسران اور عہدیداروں کے ساتھ مل کر لینڈ کمیشن کے ذریعے 887 کنال اور 26 مرلہ سرکاری زمین اپنے نام پر جعلی طریقے سے منتقل کی۔
ایف آئی آرز میں کہا گیا ہے کہ ان کے قبضے اور ملکیت میں پہلے سے ہی 12.5 ایکڑ سے زیادہ زمین موجود ہے، مارشل لا ء ریگولیشن کے مطابق 12.5 ایکڑ سے زیادہ جائیداد رکھنے والے کو الاٹمنٹ کا حق حاصل نہ ہونے کے باوجود پھر بھی انہیں سرکاری زمین الاٹ کی گئی۔
اس تمام عمل کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے جس کے ذریعے انہوں نے زمین کی منتقلی کی، ایف آئی آرز میں کہا گیا ہے کہ جب الاٹمنٹ کی گئی تو ملزمان نابالغ تھے۔ ایف آئی آرز میں کہا گیا کہ ڈی جی خان کے کمشنر نے الاٹمنٹ فائلیں ڈپٹی کمشنر کو انکوائری کے لیے بھیجی تھیں جنہوں نے جواب دیا کہ شکایات بے نامی ہونے کے باعث ان پر غور نہیں کیا گیا۔
ایف آئی آرز میں الزام لگایا گیا ہے کہ الاٹمنٹس کی تصدیق ڈپٹی لینڈ کمشنر نے 1982 میں کی تھی اور 1986 میں ان کی منتقلی کی گئی تھی، ایف آئی آرز میں الزام لگاتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ ڈپٹی لینڈ کمشنر نے ریاستی زمین حاصل کر کے اس سے مستفید ہونے والوں کی غیر قانونی حمایت کی اور فیور دے کر دھوکہ دہی سے اس جعلی الاٹمنٹ کو تحفظ فراہم کیا۔ بزدار کے خلاف ایف آئی آرز میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جن کے نام پر زمین الاٹ کی گئی ہے اس کے ساتھ ساتھ ریونیو افسران اور عہدیداروں کے خلاف مجرمانہ عمل پر ‘سخت کارروائی’ کی جائے۔
ایف آئی آرز میں زمین کی الاٹمنٹ کی منسوخی کے کیس کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ ریاست کی زمین کو غیر قانونی طریقے سے اپنے نام منتقل کیا گیا ہے۔
