آئی ایم ایف سے ڈیل میں تاخیر نے روپے کی کمر توڑ دی

حکومت پاکستان کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باوجود آئی ایم ایف سے ڈیل فائنل نہیں ہو پا رہی جسکے نتیجے میں پاکستانی روپے کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور ڈالر کا انٹر بینک ریٹ تیزی سے بڑھتا ہوا 212 روپے 75 پیسے تک جا پہنچا ہے۔اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں ایک روپیہ 50 پیسے اضافہ ہوا اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر 215 روپے 50 پیسے پر فروخت ہوتا رہا۔
سپریم کورٹ نے گیلانی کو فوج کے کہنے پر کیسے نااہل کیا؟
روپے کی گرتی قدر کے دوران امریکی ڈالر نے نئے ریکارڈ قائم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپیہ اپنی کم ترین قدر پر آگیا ہے۔ مالیاتی ڈیٹا اور تجزیاتی ویب پورٹل میٹیس گلوبل کے مطابق گزشتہ ہفتے مسلسل 5 سیشنز کے دوران روپے کی قدر میں 6.4 روپے کی بڑی کمی واقع ہوئی۔ ٹریس مارک میں ریسرچ کی سربراہ کومل منصور نے روپے کی گرتی قدر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ملک اب مکمل طور پر آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج پر انحصار کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر روپے کی قدر میں بتدریج کمی دیکھ رہے ہیں اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک کہ آئی ایم ایف سے معاہدے پر دستخط نہیں ہو جاتے۔
دوسری جانب آئی ایم ایف کا قرض پروگرام اپریل کے اوائل سے ہی تعطل کا شکار ہے جب کہ پاکستان کے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات بے نتیجہ رہے ہیں۔ عالمی قرض دہندہ ادارے نے پہلے پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ایندھن اور توانائی کی سبسڈی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اب نئی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال میں مقرر کردہ اہداف پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ پاکستان نے جولائی 2019 میں آئی ایم ایف کے ساتھ 39 ماہ کے 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام پر دستخط کیے تھے لیکن عالمی مالیاتی ادارے نے تقریباً 3 ارب ڈالر کی قسط اس وقت روک دی تھی جب گزشتہ حکومت نے اپنے وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے ایندھن اور توانائی پر سبسڈی دینے کا اعلان کیا تھا۔
گزشتہ روز وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے امید ظاہر کی تھی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ توسیعی فنڈ سہولت کی بحالی کے لیے معاہدہ ایک یا دو روز میں طے ہو جائے گا۔وزیر خزانہ کی جانب سے یہ امید ظاہر کیے جانے سے قبل سفارتی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ امریکا نے پاکستان کی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے لیے مذاکرات میں مدد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ اپنے توسیعی فنڈ پروگرام کی بحالی کے لیے واشنگٹن کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ آئی ایم ایف کا سب سے بڑا شیئر ہولڈر ہونے کی حیثیت سے امریکا کا عالمی مالیاتی ادارے کی فیصلہ سازی پر کافی اثر و رسوخ ہے۔
دوسری جانب کرنسی ڈیلرز کی ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان نے زرمبادلہ کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر کو روپے پر دباؤ کی بڑی وجہ قرار دیا۔انکا کہنا تھا کہ طویل عرصے کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر واحد ہندسے پر آگئے ہیں جس کے باعث مارکیٹ میں تشویش پائی جاتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں مزید 23 کروڑ 4 لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے جو مجموعی طور پر 15 ارب ڈالر سے کم رہ گئے ہیں جب کہ ان ذخائر میں مرکزی بینک کا حصہ 9 ارب ڈالر سے بھی کم ہے۔ ملک بوستان کے مطابق روپے کی قدر میں کمی کی دوسری بڑی وجہ رواں حج سیزن کی وجہ سے ڈالر کی زائد طلب ہے، اس سال 4 لاکھ سے زائد پاکستانی حج پر جا رہے ہیں اور وہ اس سلسلے میں ڈالر خرید رہے ہیں جس سے مقامی کرنسی پر برا اثر پڑ رہا ہے۔
اس سے قبل ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کرنسی مارکیٹ غیر یقینی صورتحال اور افواہوں کی لپیٹ میں ہے کہ بینکوں نے لیٹر آف کریڈٹ کھولنا بند کر دیے ہیں۔ تاہم مرکزی بینک کی جانب سے اس طرح کی افواہوں کی تردید کی گئی۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک کے چیف ترجمان عابد قمر نےبیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو درآمدی ادائیگیوں سے نہیں روکا، آج بھی تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی درآمدی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایل سیز کھولنے یا کچھ خاص قسم کی درآمدات جیسے کاروں، سیل فونز اور مخصوص قسم کی مشینری کے لیے معاہدوں کی رجسٹریشن سے قبل اسٹیٹ بینک کی پیشگی منظوری کی ضرورت ہے لیکن یہ ہدایات آج نہیں بلکہ 20 مئی کو جاری کی گئی تھیں۔ اس سلسلے میں 20 مئی کو اسٹیٹ بینک نے وفاقی حکومت کی جانب سے لگژری اور غیر ضروری اشیا کی درآمد پر پابندی کے فیصلے کے بعد ایک سرکلر جاری کیا تھا۔اس فیصلے کا مقصد ملک کی معیشت کو درآمدی مہنگائی سے بچانے کے ساتھ ڈالر کم خرچ کرنا تھا کیونکہ اب تک ملک کا درآمدی بل پہلے ہی 70 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
