فارن فنڈنگ کیس میں عمران مخالف فیصلہ آنے کا امکان

سابق وزیراعظم عمران خان کا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے کیونکہ بالآخر آٹھ برس کے طویل انتظار کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے خلاف دائر کردہ غیر قانونی فنڈنگ کیس کی سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی پیش کردہ رپورٹ کی بنیاد پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تحریک انصاف کے خلاف غیر قانونی فنڈنگ کا کیس ثابت ہو چکا ہے جس کی بنیاد پر نہ صرف عمران خان نااہل قرار دیئے جا سکتے ہیں بلکہ ان کی جماعت پر پابندی بھی عائد ہوسکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے گیلانی کو فوج کے کہنے پر کیسے نااہل کیا؟
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے بانی رکن اور عمران خان کے قریبی ساتھی اکبر ایس بابر نے یہ کیس 2014 میں دائر کیا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی آخری سماعت کی۔ درخواست گزار اکبر ایس بابر کے فنانشل ایکسپرٹ ارسلان وردک نے کہا کہ وہ اپنی بات ایک گھنٹے میں مکمل کرلیں گے اور صرف ان اعدادوشمار پر بات کریں گے جو مبہم ہیں۔
ارسلان وردک نے کہا کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ برطانیہ سے پیسے آئے جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اگر کوئی تسلیم شدہ حقیقت ہے تو اس کو دہرا کیوں رہے ہیں۔ ارسلان وردک نے کہا کہ کینیڈا سے آنے والی رقم کے بارے میں کسی کو نہیں پتا کہ کس نے دیں، ووٹن کرکٹ لمٹیڈ سے فنڈز آئے جس کا رجسٹریشن نمبر دے دیا ہے، متحدہ عرب امارات کی ایک اور کمپنی سے 49 ہزار ڈالرز آئے اور ان فنڈز کے حوالے سے پی ٹی آئی نے انکار نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈونرز کی فہرستوں میں تفصیلات نہیں ہیں، پی ٹی آئی کو 13 ممالک سے فنڈز آئے، آسٹریلوی ایجنٹ نے لکھا کہ 41 ہزار ڈالرز کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، پی ٹی آئی چیئرمین آفس میں 2کروڑ کی وصولی ہوئی لیکن ریکارڈ موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کو پچاس میں سے 41 بینکوں نے جواب نہیں دیا، ہو سکتا ہے کہ جواب نہ دینے والے بینکوں میں اکاؤنٹس موجود ہوں۔
دوسری جانب معاشی ماہر نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے آڈٹ کے اصول اور معیار کو نظر انداز کیا، ڈونرز تھرڈ پارٹی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی اپنی بنائی ہوئی کمپنیاں ہیں۔
ارسلان وردک کی بریفنگ مکمل ہونے پر درخواست گزار اکبر ایس بابر نے کمیشن کے روبرو کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کوئی سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں فنڈنگ کی تفصیلات دے رہی ہے، ہر سیاسی جماعت کو الیکشن کمیشن کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔ سماعت مکمل ہونے پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ دونوں فریقین کا شکریہ ادا کرتے ہیں، تحریک انصاف کا کیس مکمل ہوگیا، ہم چاہتے ہیں کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے کیسز بھی ختم ہوں۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن ووٹر کا اعتماد بحال اور ملک کو جمہوری طور پر مضبوط کرنا چاہتا ہے۔الیکشن کمیشن نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا تاہم چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ضرورت پڑی تو فریقین کو دوبارہ بلایا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں یہ کیس دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔
بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔ فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا، اسی سال 8 مئی کو ای سی پی کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے۔
مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ گزشتہ برس یکم اکتوبر کو ای سی پی نے غیر ملکی فنڈنگ کیس کی جانچ پڑتال میں رازداری کے لیے تحریک انصاف کی جانب سے دائر 4 درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔
10 اکتوبر 2019 کو الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی کے ذریعے تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کے آڈٹ پر حکمراں جماعت کی جانب سے کیے گئے اعتراضات مسترد کردیے تھے لیکن پی ٹی آئی نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا اور نومبر 2019 میں فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کمیشن نے 2020 میں غیر ملکی فنڈنگ کیس سے متعلق اپنی اسکروٹنی کمیٹی کی ’ادھوری‘ رپورٹ کو رد کر دیا تھا اور حکم نامے میں کہا تھا کہ رپورٹ مکمل اور جامع نہیں ہے۔ بعدازاں نومبر 2021 میں الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے فنڈز کی آڈٹ رپورٹ جمع کروا دی تھی، مارچ 2019 میں تشکیل دی گئی کمیٹی نے ڈیڈ لائن بھی ختم ہونے کے 6 ماہ بعد اپنی رپورٹ جمع کروائی تھی۔
اس رپورٹ میں چند دستاویزات کو خفیہ رکھا گیا تھا اور منظر عام پر نہیں لایا گیا تھا لیکن پھر الیکشن کمیشن نے جنوری 2022 میں تمام خفیہ دستاویزات منظر عوام پر لانے کا حکم دیا تھا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں ایک چشم کشا حقائق سامنے آئے ہیں کہ اکبر ایس بابر کے الزامات کو درست تسلیم کرنے کے سوا الیکشن کمیشن کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہوگا جس کے نتیجے میں عمران خان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔
