حمزہ نے اپنی حکومت بچانے کے لیے ایک اور لوٹا منا لیا

اپنی ڈولتی حکومت بچانے کی کوششوں میں مصروف وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو تب ایک اور بڑی کامیابی حاصل ہوگئی جب انہوں نے ماضی میں لوٹا قرار دیے گئے منحرف لیگی رکن پنجاب اسمبلی جلیل شرقپوری کو بھی منا کر پارٹی میں واپس آنے پر راضی کر لیا۔ یاد رہے کہ چند ووٹوں کی اکثریت سے قائم لیگی حکومت نے اپنے چار منحرف اراکین اسمبلی کو پارٹی میں واپس لانے کا فیصلہ کیا تھا جن کو بغاوت کے الزام پر نکال دیا گیا تھا۔ ان اراکین نے نواز شریف کی جانب سے فوجی قیادت پر الزامات لگانے پر کڑی تنقید کی تھی۔ تاہم اب اس عمل کو درگزر کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے باغی لوٹوں سے رابطے استوار کر لیے ہیں اور پنجاب اسمبلی میں پارٹی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کے لیے چار میں سے تین اراکین کو ساتھ بھی ملا لیا ہے۔

عوم کا برا وقت ختم نہیں ہوا، مزید پٹرول بم گرنے کا امکان

یاد رہے کہ حمزہ شہباز کو ووٹ دے کر پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر الیکشن کمیشن نے حال ہی میں پی ٹی آئی کے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا تھا جسکے بعد پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی پوزیشن کمزور ہو چکی ہے لہذا انہوں نے اپنے چار ناراض اراکین اسمبلی کو منانے کا فیصلہ کیا۔ جلیل شرقپوری سے پہلے حمزہ شہباز شریف نے جن دو اراکین اسمبلی کو منایا تھا ان میں گوجرانوالہ سے اشرف انصاری اور نارووال سے غیاث الدین شامل ہیں۔ اب جلیل شرقپوری بھی حمزہ شہباز سے ملاقات کے بعد پارٹی میں واپس آگئے ہیں۔ شرقپوری نے ایوان اقبال میں، جہاں ان دنوں مسلم لیگ (ن) پنجاب اسمبلی کا اپنا علیحدہ اجلاس منعقد کر رہی ہے، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے حمزہ شہباز سے ان کی خواہش پر ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ پارٹی قیادت کے ساتھ میرا کوئی مسئلہ یا اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا تنویر اور جاوید لطیف نے مجھ سے رابطہ کیا تھا اور نواز شریف کا پیغام پہنچایا تھا کہ وہ اختلافات کو ختم کرکے پارٹی میں واپس آجائیں۔

یاد رہے کہ جلیل شرقپوری نے فوجی قیادت کو نشانہ بنانے پر نواز شریف پر سخت تنقید کی تھی اور یہاں تک کہا تھا کہ سابق وزیراعظم کرپشن کے مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے ملک واپس آئیں۔ جلیل شرقپوری کا کہنا تھا کہ ملک کی مسلح افواج پر تنقید نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم اب انہوں نے نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔

پارٹی کی جانب سے باغی اراکین کو واپس لانے کا بنیادی مقصد پنجاب اسمبلی میں پارٹی کی پوزیشن مضبوط کرنا ہے جہاں حمزہ شہباز الیکشن کے بعد اپنی اکثریت کھو چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کے 25 قانون سازوں کو وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے پر ڈی سیٹ کر دیا تھا۔

لیکن اب پنجاب اسمبلی میں اپنی پوزیشن کو لاحق خطرات کے پیش نظر حمزہ شہباز نے نواز شریف پر تنقید کرنے اور سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کرنے پر اکتوبر 2020 میں پارٹی سے نکالے گئے اراکین صوبائی اسمبلی کو پارٹی میں واپس نہ لانے کے اصول پر سمجھوتہ کر لیا ہے۔ اس سمجھوتے کا بنیادی مقصد وزارت اعلیٰ کے لیے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدوار پرویز الہٰی کے چیلنج کا سامنا کرنا ہے جو مسلسل وزیر اعلیٰ بننے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ خیال رہے کہ یہ وہی اراکین اسمبلی ہیں جنکے خلاف بغاوت کرنے پر لیگی ممبران نے پنجاب اسمبلی میں شدید احتجاج کیا تھا اور ان کے سروں پر لوٹے رکھ دیے تھے۔ لیکن اب حمزہ ان لوٹوں کے سروں پر دوبارہ سے پارٹی کی دستار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

Back to top button