عوم کا برا وقت ختم نہیں ہوا، مزید پٹرول بم گرنے کا امکان

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے سے پریشان ہیں عوام اب اس خوف میں مبتلا ہیں کہ جب 15 دن بعد قیمتوں پر نظر ثانی کی جائے گی تو کہیں پٹرولیم مصنوعات ایک بار پھر مہنگی تو نہیں کر دی جائیں گی؟ اس سوال کا جواب مایوس کن ہے اور ہاں میں ہے کیونکہ حکومتی ذرائع پٹرولیم کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان رد نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی عمران حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین طے شدہ معاہدے کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر لیوی بڑھانے کے علاوہ 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کرنے والی ہے جس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق آنے والے تین مہینے عوام کے لیے اور بھی مشکل ہوں گے کیونکہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کرنے کے ساتھ آئل مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس بھی وصول کرے گی۔چنانچہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 25 روپے سے 30 روپے تک اضافہ کیے جانے کا امکان ہے۔ لہٰذا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آنے والے مہینوں میں 276 روپے سے 300 روپے فی لیٹر تک بڑھنے کے امکانات ہیں۔
امریکی سازش کے جھوٹ کا جواب
پاکستان میں تیل کےشعبے کے ماہرین کہتے ہیں کہ روس یوکرین تنازعے، روپے کی گرتی ہوئی قدر اور حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت اگر پیٹرول و ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس لگا دیا گیا تو تیل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ 15 جون کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے بعد ڈیزل کی قیمت 264 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت 234 روپے فی لیٹر ہے جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ تیل کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر ناظر زیدی نے کہا کہ گذشتہ برس ستمبر سے تیل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے تاہم فروری میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد ان کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ اُنھوں نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کی سب سے بڑی وجہ بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو قرار دیا۔ اُنکا کہنا تھا کہ روس کا بین الاقوامی منڈی میں تیل مصنوعات کی سپلائی کا حصہ 12 فیصد ہے اور جب اس پر پابندیاں لگیں اور اس کی سپلائی بند ہوئی تو تیل کی قیمتوں کو بڑھنا ہی تھا۔ ناظر زیدی نے بتایا کہ پاکستان 70 فیصد پیٹرول اور 40 فیصد ڈیزل درآمد کرتا ہے اور ملک میں قیمتوں کا تعین امپورٹ مساوی قیمت کے فارمولے پر ہوتا ہے یعنی جو قیمت ڈیزل اور پیٹرول کی دنیا میں ہو گی اس کی بنیاد پر پاکستان میں بھی اس کی قیمت کا تعین کیا جائے گا۔
توانائی امور کے ماہر فرحان محمود نے بتایا کہ پاکستان میں قیمتوں میں بڑھنے کی وجہ ڈیزل اور پیٹرول کی بین الاقوامی قیمتوں کا بڑھ جانا ہے اور دونوں کی قیمتوں اور خام تیل کی قیمت کے درمیان بڑھا ہوا فرق بھی ہے۔ فرحان نے بتایا کہ عموماً یہ فرق 10 سے 12 ڈالر کا ہوتا ہے تاہم اس وقت اگر خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل ہے تو ڈیزل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل اور پیٹرول کی قیمت 145 ڈالر فی بیرل ہے۔ پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ایک ڈالر کی قیمت 208 روپے کی سطح سے تجاوز کر چکی ہے۔
پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو زاہد میر نے بتایا کہ اگر ڈالر کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ ہوتا ہے تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک سے ڈیڑھ روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ مارچ سے لے کر اب تک ڈالر کی قیمت میں 40 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے اور اس کی وجہ سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 35 سے 40 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اگر ڈالر کی قیمت 200 تک گرتی ہے تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 10 سے 12 روپے اور اگر 190 روپے کی سطح تک گر جاتی ہے تو ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں 20 سے 25 روپے تک کی کمی آ سکتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا جب 15 دن کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظر ثانی کی جائے گی تو کیا ان دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا؟ تیل انڈسٹری سے وابستہ افراد اس امکان کو مسترد نہیں کرتے۔ انکے مطابق بین الاقوامی سطح پر ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ یورپ میں طلب بڑھ رہی ہے جبکہ روس پر پابندیوں کی وجہ سے سپلائی میں کمی ہے جو عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کو بلند سطح پر رکھے گی۔چنانچہ پاکستانی صارفین کو شاید ریلیف نہ مل سکے۔ اسی طرح حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس بھی لگانا ہے اور اگر اس کا نفاذ ہوتا ہے تو پھر قیمتوں میں کمی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس میں اضافہ ہی ہو گا۔
