چودھری پرویز الٰہی کی فوری رہائی کے امکانات ختم

عمرانڈو ہو جانے والے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی رہائی کے امکانات معدوم ہو گئے۔جہاں ایک طرف لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کی خفیہ مقدمات میں گرفتاری روکنے اور حفاظتی ضمانت کا سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کر دیا وہیں دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے صدر تحریک انصاف و سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کی نظری بندی کیخلاف درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی ہے۔ جس کے بعد عمران خان کی فوری رہائی کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کو ایک ماہ کے لیے تھری ایم پی او کے تحت نظر بند کر دیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر لاہور نے چودھری پرویز الہٰی کی نظربندی کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ڈی سی لاہور کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے کے مطابق چودھری پرویز الہٰی کو تھری ایم پی او کے تحت نظربند رکھنے کے لیے پولیس نے سفارش کی تھی جس پر چودھری پرویز الہٰی کی ایک ماہ کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
ایس پی ماڈل ٹاؤن اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس برانچ نے ہفتہ کے روز تین مقدمات میں امن عامہ میں خلل ڈالنے اور لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے پر اکسانے کے خدشے پر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی حراست کے لیے ڈپٹی کمشنر کے پاس تحریری درخواست جمع کرائی تھی۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ ان کے جیسا سیاست دان امن عامہ کی صورت حال خراب کرسکتا ہے اور اس بات کا حقیقی خدشہ موجود ہے کہ نہ صرف وہ بلکہ ان کے حامی بھی نجی و سرکاری املاک کو نقصان اور سڑک بلاک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔درخواست کے مطابق ایس پی ماڈل ٹاؤن اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس برانچ کو باوثوق اطلاع ملی ہے کہ اگر پرویز الہٰی کو رہا کیا گیا تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر امن و امان کی صورتحال بگاڑ سکتے ہیں اور اس کا نتیجہ 9 مئی جیسے واقعے کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔
درخواست پر ڈپٹی کمشنر رافعہ حیدر نے کہا کہ کیپیٹل سٹی پولیس افسر کے فراہم کردہ مواد/شواہد اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے اجلاس کی سفارشات پر میں سمجھتی ہوں کہ کسی بھی عوام مقام پر چوہدری پرویز الہٰی کی موجودگی عوام کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ اور امن و امان خراب کرنے کا سبب بن جائے گی۔چنانچہ پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی سیکشن 3 کے تحت چوہدری پرویز الہٰی کی 30 روز کے لیے نظر بندی کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں، انہیں لاہور کی کیمپ جیل میں سپرنٹنڈنٹ کی نگرانی میں زیر حراست رکھا جائے گا۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے صدر تحریک انصاف و سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کی نظری بندی کیخلاف درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے چودھری پرویز الہٰی کی درخواست پر سماعت کی، سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے عامر سعید راں ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔
پرویز الہٰی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الہٰی کے خلاف جتنے بھی مقدمات تھے سب میں ضمانت ہوچکی ہے، بدنیتی کے بنیاد پر پرویز الہٰی کی نظر بندی کے احکامات جاری کردیے گئے، 14 جولائی کو تمام مقدمات کے ضمانتی مچلکے جمع کرا دیے تھے، ضمانتی مچلکے جمع ہونے کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا۔وکیل پرویز الہٰی نے کہا کہ نظر بندی کے احکامات میں لکھا ہے کہ پرویز الہٰی امن و امان خراب کرسکتے ہیں، پرویز الہٰی کی گرفتاری سے آج تک کتنا امن و امان خراب ہوا ہے؟ پرویز الہی بزرگ ہیں اور بیمار ہیں پھر بھی نہیں چھوڑا جا رہا۔
جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو نہیں پتہ کہ پرویز الہٰی کو کیوں پکڑا ہے؟ کیا آپ نے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی ہے؟عدالت نے سرکاری وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں وہ اچھا نہیں کر رہے، آپ غلط روایت ڈال رہے ہیں، جو ریاست کرتی ہے وہ بھگتتی بھی ہے، الزامات کے علاوہ نظر بند رکھنے کےلیے آپ کے پاس شواہد بھی موجود ہونے چاہئیں۔عدالت نے درخواستگزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پنجاب حکومت کو کہہ دیتے ہیں وہ آپ کی درخواست کو سن کر فیصلہ کردیں، عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ بتائیے آپ کتنے روز میں ان کی اپیل پر فیصلہ کریں گے، سرکاری وکیل نے جواب دیا ہم دس روز میں انکی درخواست کا فیصلہ کردیں گے۔بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے صدر پاکستان تحریک انصاف کے وکیل کی جانب سے پرویز الہٰی کی نظر بندی کے خلاف درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کی خفیہ مقدمات میں گرفتاری روکنے اور حفاظتی ضمانت کا سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کر دیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی۔عدالت نے پرویز الہٰی کی خفیہ مقدمات میں گرفتاری روکنے اور حفاظتی ضمانت کا سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کر دیا، عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 11 اگست تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی کو خفیہ مقدمات میں گرفتار نہ کرنے اور درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت افغان گلوکارہ نے پاکستان میں اپنی موت کی خبروں کو مسترد کردیادی
افغان گلوکارہ نے پاکستان میں اپنی موت کی خبروں کو مسترد کردیا
تھی۔
