برائلر مرغی کا سائز 50 سال میں 400 فیصد کیسے بڑھایا گیا؟

اسانوں نے دنیا میں مرغی کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لیے پچھلے پچاس برس میں اس کا سائز اور وزن بھی 400 گنا بڑھا دیا ہے۔ یعنی ہم جو چکن کھاتے ہیں اس کے سائز میں پچھلے 50 برس میں 400 فیصد اضافہ ہوا ہے، دراصل چکن کے سائز میں تبدیلی دوسری جنگ عظیم کے بعد آئی۔ پہلے مرغیاں لذیذ ہوتی تھیں اور مہنگی بھی ہوتی تھیں۔ تاہم، دوسری جنگ عظیم کے دوران، گوشت کو راشن کیا گیا تو مرغیوں کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا۔ کئی کمپنیوں نے پولٹری پر اپنی اجارہ داری کا جال بچھا دیا۔

جنگ کے بعد مرغی کی مانگ میں کمی کے خوف سے ان کی افزائش اس طرح کرنے کا فیصلہ کیا گیا کہ وہ سائز میں بڑی ہوں تا کہ تو گاہک کو خریدتے وقت سستی پڑیں۔اس سوچ نے سب کچھ بدل دیا۔ مرغیوں کے سائز میں اضافہ مصنوئی ہارمونز اور کیمیکلز سے بھرپور غذا کے ذریعے کیا گیا۔ عموماً جو مرغیاں قدرتی ماحول میں نشوونما پاتی ہیں وہ قدرتی غذا جیسے گھاس پھوس، گرینز وغیرہ کھاتی ہیں۔ تاہم، فارمی مرغیوں کو بنیادی طور پر مکئی اور سویا کھلایا جاتا ہے، تاکہ انہیں جلد از جلد موٹا اور بڑا کیا جائے۔

لیکن پاکستان میں چکن کی خوراک کافی مشکوک ہے کیونکہ یہاں پولٹری فیڈ میں جانوروں کی ہڈیاں اور خشک خون کر کے بھی شامل کیا جاتا ہے، یعنی ہم ایک پرندے کو جانور کی باقیات کھلا کر اپنی خوراک کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ اس لیے یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ آج جو چکن ہم کھا رہے ہیں اسے انسانوں نے اپنی خوراک کی ڈیمانڈ پورا کرنے کے لئے ایک دیوہیکل پرندہ بنا دیا ہے۔ صدیوں سے یہ مانا جاتا ہے کہ ایک بالغ چکن ذائقہ دار اور غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ 1900 کی دہائی کے اوائل میں، مرغیوں کو تقریباً 4 ماہ کے بعد ذبح کیا جاتا تھا۔ آج کا برائلر چار ہفتوں بعد بھی ذبح ہو رہا ہے تاکہ اس کی ڈیمانڈ پوری کی جا سکے۔ آج کاربوہائیڈریٹ مرغی کی بنیادی خوراک ہے، جسے ہم “ہائی انرجی ڈائیٹ” کہتے ہیں  جو یقیناً موٹاپے کا باعث ہوتا ہے۔

انسان کی جانب سے مرغی کا سائز 400 فیصد بڑھانے کے عمل کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ شروع میں اصل مقصد ایک ایسی مرغی بنانا تھا جس میں ران اور چھاتی موٹی تازی ہو، گوشت کی کئی تہیں ہوں اور یوں کم سے کم قیمت میں پورا خاندان سیر ہو کر کھانا کھا سکے۔ 1946 میں دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر، امریکی حکومت نے ایک کمپنی کے ساتھ مل کر ایک ایسا مقابلہ کروایا جس نے مرغبانی یا پولٹری کی عالمی صنعت کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

 ‘چکن آف ٹومارو’ یا کل کی مرغی کے عنوان سے ہونے والے اس مقابلے نے امریکہ میں جانوروں کی افزائش کرنے والوں کو جینیاتی انتخاب کے ذریعے ایک ایسی برائلر مرغی تیار کرنے کی ترغیب دی جس میں تیزی سے نشونما پانے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ بہترین معیار کا گوشت بھی ہو۔ اس مقابلے کے ذریعے وہ ایسے پرندے تیار کرنا چاہتے تھے جو جلد ہی تندرست و توانا ہو سکیں اور انھیں کم عمری میں ہی ذبح کیا جا سکے۔ یہ دراصل ملک میں پروٹین کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کی کوشش تھی۔

اس کے علاوہ، جنگ کی وجہ سے بکرے اور گائے کے گوشت کو محاذ پر پہنچانے بھی مشکل ہو رہی تھی۔ لیکن تب مرغی ایک کمزور سا پرندہ سمجھا جاتا تھا، جسے زیادہ تر انڈوں کے لیے پالا جاتا تھا اور جسے بڑھنے میں تقریباً چار مہینے لگتے تھے۔ 1946 میں امریکہ میں ہونے والے اس مقابلے نے دنیا بھر میں چکن کا سائز بڑھانے کا رجحان دیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ صرف نصف صدی سے زائد عرصے میں برائلر چکن کے اوسط حجم میں 400 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 1940 کی دہائی میں اس مقابلے کے ساتھ ہی پہلی بار برائلر مرغیاں پیدا ہوئیں۔اس مقابلے سے پہلے یہ چکن چار ماہ میں ذبح کرنے کے قابل ہوتا تھا لیکن اب یہ مدت 4 ہفتوں کی ’مثالی‘ حد تک پہنچ گئی ہے اور یوں یہ ایک دیوہیکل پرندہ بن کر دنیا بھر میں چھا چکا ہے۔

ایسے میں یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا چکن کا سائز بڑا کرنے کے جنیاتی عمل سے انسانی صحت پر بھی کوئی اثر پڑتا ہے؟ طبعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرغی کو تیزی سے بڑھانے والی جینیاتی تبدیلیوں کا انسانی صحت پر براہ راست کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ماہرین مرغیوں کی تیزی سے نشوو نما اور ہارمونز میں تبدیلیوں سے متعلق کہانیوں کو سازشی نظریات قرار دے کر رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چکن کا سائز سائنسی بنیادوں پر بڑھایا گیا ہے اور اس سے انسانی صحت متاثر نہیں ہوتی۔

کیا جنوبی پنجاب کے سیاستدان واقعی علیحدہ جماعت بنا رہے ہیں

Back to top button