دنیا بھر میں کاٹن کینڈی کی فروخت پر پابندی کیوں لگ گئی؟

بچوں کی خوشیوں کو دوبالا کرنے والی کاٹن کینڈی کو طبی ماہرین نے بچوں کی صحت کے لیے خطرناک قرار دے دیا ہے، ان کے مطابق ’’کاٹن کینڈی‘‘ کینسر کا موجب بن سکتی ہے، اسی لیے امریکہ، بھارت، یورپ سمیت دیگر ممالک میں اس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔گزشتہ ہفتے انڈیا کی ریاست تمل ناڈو میں اس مٹھائی پر بابندی لگ گئی ہے کیونکہ اس کے لیب ٹیسٹ سے تصدیق ہوا کہ اس میں ’روڈامین بی‘ موجود ہے جس سے کینسر ہو سکتا ہے، اس مہینے کے اوائل میں انڈیا کی وفاقی حکومت کے زیر انتظام علاقے پانڈچیری میں اس پر پابندی لگ گئی تھی جبکہ دیگر ریاستوں نے نمونوں کی ٹیسٹنگ شروع کر دی ہے۔کاٹن کینڈی کو بچے بہت پسند کرتے ہیں کیونکہ یہ چپچپی ہوتی ہے اور منہ میں گھل جاتی ہے۔ یہ اکثر تفریحی مقامات پر فروخت ہوتی ہے۔مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کیمیکل سے کینسر کے خطرے میں اضافہ ہو جاتا ہے، یورپ اور کیلیفورنیا میں اسے کھانے میں استعمال ہونے والے رنگ کے طور پر استعمال پر پابندی عائد ہے، کاٹن کینڈی پر پابندی لگاتے ہوئے وزیر صحت ما سبرامنیم نے بیان میں کہا ’کھانے کی پیکنگ، درآمد، فروخت یا شادیوں اور دیگر عوامی تقریبات میں روڈامین بی پر مشتمل کھانا پیش کرنا فوڈ سیفٹی اینڈ سیفٹی ایکٹ 2006 کے تحت قابل سزا ہوگا، دیگر عوامی تقریبات میں قابل سزا ہوگا، تمل ناڈو کے ساتھ موجود آندرا پردیش کی ریاست نے بھی اس مٹھائی کی ٹیسٹنگ شروع کر دی ہے۔صحافی اور فوڈ سیفٹی ایکسپرٹ محسن بھٹی نے ’’بی بی سی اردو‘‘ کے نامہ نگار حسن عباس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جہاں انڈسٹریز یا ٹیکسٹائل میں استعمال ہونے والے رنگ کھانوں میں استعمال ہوتے ہیں، وہ کہتے ہیں یہ رنگ ’بچوں کی ٹافیز اور جیلیز میں استعمال ہوتی ہیں۔چھوٹی فیکٹریوں میں یہ رنگ استعمال ہوتے ہیں اور ان سے بنی چیزیں گلی محلے کی چھوٹی دکانوں پر بکتی ہیں اور ان کے نام اور پیکٹ بڑے برانڈ جیسے ہوتے ہیں تو لوگوں کو نہیں پتا چلتا کہ وہ کیا کھا رہے ہیں۔انھوں نے بتایا ’جلیبیوں میں بھی یہ استعمال ہوتے ہیں، مٹھائیوں میں استعمال ہوتے ہیں، ہمارے مسالحے ہیں جیسے ہلدی اور مرچیں جن میں بھی انھیں استعمال کیا جاتا ہے۔ لہذا ہمارے کھانے پینے کی بہت سی اشیا ہیں جن میں ٹیکسٹائل ڈائز استعمال ہوتی ہیں۔بہت سارے لوگ ہمارے یہاں شوربا اور کھانے کا سرخ رنگ پسند کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ان کی آنکھوں کو یہ رنگ بھاتا ہے۔ ہماری مرچوں کی قدرتی رنگت اتنی سرخ نہیں ہوتی، ان سے بہت کم سرخی آتی ہے۔ اس کو خوشنما بنانے کے لیے اس میں ’’روڈامائین بی‘‘ ڈالا جاتا ہے۔ پیک ہوئے مسالوں پر تو فوڈ اتھارٹیز کا بڑی حد تک کنٹرول ہوتا ہے لیکن کھلے مسالوں میں ایسے رنگ ملتے ہیں۔انھوں نے کہا ’امپورٹ تو ٹیکسٹائل کے لیے ہوتی ہے یا مختلف صنعتی استعمال کے لیے لائی جاتی ہے لیکن اس کے بعد اس کی خرید و فروخت کی نگرانی نہیں ہوتی ہے کہ یہ کتنی مقدار میں آئی اور یہ کہاں کہاں گئی، محسن بھٹی کا کہنا ہے کہ یہ رنگ گردوں کے لیے نقصان دے ہوتے ہیں، جگر کو بھی خراب کرتے ہیں اور اس سے ہونے والا نقصان بڑھتے بڑھتے کینسر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
