موسمیاتی تبدیلی سے ملک کو قدرتی آفات کاسامناہے، مصدق ملک

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی حقیقت بن چکی ہے، درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور ملک کو قدرتی آفات کا سامنا ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے ہمراہ پریس بریفنگ میں مصدق ملک  کاکہناہے کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پورا ملک یکجا ہو چکا ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ذاتی طور پر تمام حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سفر کے دوران بھی سیلابی امور پر ہدایات جاری کرتے ہیں جبکہ فیلڈ مارشل کو روزانہ پیش رفت سے متعلق رپورٹ دی جاتی ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے ہمراہ پریس بریفنگ میں مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی حقیقت بن چکی ہے، درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور ملک کو قدرتی آفات کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تمام ادارے مشترکہ طور پر سیلابی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متحرک ہیں۔ ان کے مطابق این ڈی ایم اے مسلسل ممکنہ خطرات سے متعلق وارننگز جاری کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کے ذمہ دار چند بڑے ممالک ہیں، جبکہ پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے تمام صوبوں سے قریبی رابطے کی یقین دہانی کرائی اور مخیر حضرات سے متاثرین کی مدد کی اپیل کی۔

اس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے بتایا کہ مون سون سیزن کے دوران اب تک ملک بھر میں 850 افراد جاں بحق اور 1150 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ہدایات کے تحت قومی سطح پر مشترکہ رسپانس دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شمالی علاقوں میں بڑھتے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جبکہ گزشتہ ہفتے کی شدید بارشوں نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ستمبر کے ابتدائی دنوں میں آخری مون سون اسپیل متوقع ہے جس سے مشرقی پنجاب، آزاد کشمیر اور قریبی علاقوں میں تیز بارشوں کا خدشہ ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ دریائے چناب، راوی اور ستلج میں پانی کے دباؤ کی صورتحال برقرار ہے، جبکہ 4 اور 5 ستمبر کے دوران گدو اور سکھر بیراج کی طرف 7 سے 13 لاکھ کیوسک پانی کا ریلا پہنچنے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تمام ڈیٹا شیئر کر دیا گیا ہے تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اب تک 6 لاکھ سے زائد متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے اور ہزاروں مویشی بھی ریسکیو کیے گئے ہیں۔

Back to top button