پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو قانونی قرار کیوں نہیں دیا جا رہا؟

پاکستانیوں کی بڑی تعداد آن لائن کرنسی کرپٹو میں سرمایہ کاری کر رہی ہے، لیکن حکومت اس کرنسی کو متنازع قرار دیتے چلی آ رہی ہے، جبکہ دنیا بھر میں اس کرنسی سے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
دنیا میں اس ڈیجیٹل کرنسی کے مستقبل کے حوالے سے جہاں کچھ مثبت اُمیدیں پائی جاتی ہیں وہیں اس سے جُڑے خدشات بھی کم نہیں ہیں، پاکستان میں کچھ سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اس کرنسی کی حمایت کرتے ہیں اور وہ اسے قانونی قرار دینے کی مہم چلاتے رہے ہیں لیکن حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ان کا یہ مطالبہ ماننے سے گریزاں ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات میں ایک بار پھر کرپٹو کرنسی زیربحث رہی جس میں اس کرنسی کو قانونی قرار دینے کی پُرزور الفاظ میں مخالفت کی گئی ہے، ایکسچیج کمپنیز آف پاکستان کے سیکریٹری ظفر پراچہ حکومت کی جانب سے کرپٹو کرنسی کو قانونی قرار نہ دینے کے فیصلے کو درست سمجھتے ہیں۔
ظفر پراچہ نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’کرپٹو کرنسی میں کئی طرح کے مسائل ہیں جو عام کرنسی نوٹ ہوتے ہیں ان کے پیچھے ملک کھڑا ہوتا ہے اور یہاں ان پر یہ جملہ لکھا ہوتا ہے کہ حامل ہٰذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا، دوسری جانب یہ کرپٹو کرنسی ایک ورچوئل کرنسی ہے۔ کسی کو علم ہی نہیں کہ اس کے پیچھے کون ہے۔
کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے علاوہ اس کے رجحانات پر گہری نظر رکھنے والے لاہور کے نوجوان مبشر احمد نے اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ’کرپٹو کرنسی نے موجودہ بینکنگ سسٹم کو کافی سیریس چیلنجز دیے ہیں۔ رائج بینکنگ سسٹم اس کے خلاف ایسے ہی مزاحمت کر رہا ہے جیسے کوئی بھی روایتی نظام کسی نئے رجحان کی مخالفت کرتا ہے۔
مبشر احمد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’کرپٹو کرنسی کی صحیح سمجھ اس وقت آ سکتی جب آپ اس کا موازنہ موجودہ بینکنگ سسٹم سے کریں گے۔ موجودہ بینکنگ سسٹم کے نقائص اس کی مقبولیت کی وجہ ہیں، یہ صرف سٹے بازی کی بنیاد پر مقبول نہیں ہے۔
مبشر احمد نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پرانے طرز کے سیاست دان یا وزراء بیٹھے ہوئے ہیں۔ کرپٹو کو ابھی تک امریکہ کے سینیٹرز بھی نہیں سمجھ پائے۔ یہاں کے وزیر اور سٹیٹ بینک کے ملازم بھی اس کو سمجھے بغیر مکمل فراڈ کہہ رہے ہیں جو کہ عجیب ہے۔
امریکہ سمیت کئی ملکوں میں لوگ اس کا لین دین کر رہے۔ فرانس کے بارے میں میں خود جانتا ہوں۔ کچھ ممالک کے بینکوں میں تو آپ کرپٹو کی شکل میں اپنے اثاثے بھی رکھ سکتے ہیں، یہ حکومت پہلے ہی لوگوں کو ملازمتیں دینے کے قابل نہیں۔ اب لوگ کرپٹو کے ذریعے ٹریڈنگ کی طرف آ رہے ہیں تو آپ اس کے بارے میں سطحی بیانات دے رہے ہیں۔
کرپٹو کرنسی کے بارے میں پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی صارفین اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے بیان کے بعد ٹوئٹر پر ’کرپٹو پاکستان‘ کے نام سے موجود ایک ہینڈل سے اس فیصلے پر تنقید کی گئی۔
کرپٹو پاکستان نے قائمہ کمیٹی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ حکام ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے نام پر پاکستان کو برباد کر رہے ہیں، یہ ہر چیز کی ذمہ داری آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف پر ڈال دیتے ہیں، خدا ملک اور عام آدمی کے لیے ان کے دل نرم کرے۔معراج نامی ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا کہ ’میں شرط لگا سکتا ہوں کہ وزیر مملکت جنہوں اس پر پابندی کی تجویز دی ہے، وہ کرپٹو کرنسی کے بارے میں، کچھ بھی نہیں جانتیں۔
کرپٹو کرنسی الیکٹرانک شکل میں دستیاب ایسی کرنسی ہے جو کاغذی حیثیت نہیں رکھتی اور کسی مرکزی ادارے کے کنٹرول میں نہیں ہوتی تقریباً تمام ہی کرپٹو کرنسیاں ’بلاک چین ٹیکنالوجی‘ کو استعمال کر رہی ہوتی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ لین دین کی کسی بھی ٹرانزیکشن کو کوئی ایک مرکزی ادارہ کنفرم نہیں کرتا۔
کرپٹو ہر ایک ٹرانزیکشن کی تصدیق کے عمل کو مائننگ کہتے ہیں جس کے بعد وہ بلاک چین کے نظام کا حصہ بن جاتی ہے، کرپٹو کرنسی کے تبادلے کی جانے والی اس مائننگ کے بدلے میں ایک معمولی فیس ملتی ہے جس سے نئے
آڈیولیکس کمیشن کالعدم قرار نہیں دیا،طریقہ کار سے آئیں
کوئنز جنم لیتے ہیں۔
