ڈیم نہریں نامنظور، سیلاب تباہی منظور؟

تحریر: انصار عباسی
بشکریہ: روزنامہ جنگ

پاکستان میں بارش کوئی نئی خبر نہیں۔ مون سون آتا ہے، بادل برستے ہیں، دریاؤں میں پانی بڑھتا ہے، ندی نالے بپھر جاتے ہیں اور پھر وہی مناظر ہمارے سامنے آ جاتے ہیں جنہیں دیکھتے دیکھتے شاید ہم بے حس بھی ہو چکے ہیں۔ کہیں بستیاں ڈوب رہی ہوتی ہیں، کہیں فصلیں تباہ ہو رہی ہوتی ہیں، کہیں سڑکیں اور پل پانی میں بہہ رہے ہوتے ہیں اور کہیں کسی غریب کا برسوں کی محنت سے بنایا ہوا گھر چند گھنٹوں میں ملبے کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس تباہی میں انسانی جانیں بھی ضائع ہوتی ہیں۔ پھر چند دن یا چند ہفتے گزرتے ہیں، پانی اترتا ہے، امدادی سرگرمیاں ختم ہوتی ہیں، متاثرین کو کچھ خیمے، راشن اور مالی امداد ملتی ہے اور ہم اگلے سال کے سیلاب کا انتظار شروع کر دیتے ہیں۔یہ 2026ء ہے۔ لیکن ہماری کہانی وہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟ کیا سیلاب پاکستان کی قسمت ہے؟ کیا ہر سال اتنی ہی تباہی ہمارا مقدر ہے؟ کیا ہم پانی کی اس تباہی کو روکنے، کم کرنے یا اس پانی کو اپنے لیے نعمت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ یقیناً رکھتے ہیں۔ لیکن مسئلہ شاید صلاحیت کا کم اور سیاست کا زیادہ ہے۔ ہم بھارت کی طرف سے پانی کو ’’ویپنائز‘‘ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ پانی کو سیاسی ہتھیار نہیں بنانا چاہیے۔ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے۔ مگر کبھی ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم خود اپنے ملک میں پانی کو کس طرح سیاست کا ہتھیار بناتے رہے ہیں۔ یہ ایک عجیب قومی المیہ ہے کہ جب پانی بہت زیادہ ہو تو ہم اسے سنبھال نہیں پاتے اور جب پانی کم ہو جائے تو ایک دوسرے سے لڑنے لگتے ہیں۔ بارشیں زیادہ ہوں تو سیلاب آ جاتا ہے۔ بارشیں کم ہوں تو پانی کی قلت کا شور مچ جاتا ہے۔ دریاؤں میں پانی آئے تو ہمیں تباہی نظر آتی ہے، اور جب پانی کم ہو تو صوبوں کے درمیان تنازعات کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یعنی پانی جیسی نعمت کو ہم نے یا تو آفت بنا دیا ہے ہے یا جھگڑے کا سبب۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ’’ڈیم نامنظور، سیلاب منظور‘‘ کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ ہم نے بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کو بھی ایسی سیاسی بحث بنا دیا ہے کہ کئی دہائیوں سے ملک کسی واضح قومی اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکا۔ کالا باغ ڈیم اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس منصوبے پر اختلافات اپنی جگہ، صوبوں کے خدشات اپنی جگہ، لیکن کیا اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ہم اسے ہمیشہ کیلئے ممنوعہ سیاسی موضوع بنا دیں؟ کیا بہتر راستہ یہ نہیں کہ تمام صوبوں کے تحفظات کو میز پر لا کر، اعداد و شمار اور سائنسی بنیادوں پر، ایک ایسا قومی آبی معاہدہ کیا جائے جس میں ہر صوبے کے حقوق، پانی کی تقسیم، ماحولیاتی اثرات اور مقامی خدشات کا واضح حل موجود ہو؟ ہمیں ڈیموں کے معاملے میں بھی ’’یا سب کچھ یا کچھ نہیں‘‘ کی سیاست سے نکلنا ہوگا۔ اگر کالا باغ ڈیم پر اتفاق نہیں ہوتا تو دوسرے مقامات پر ذخائر کیوں نہیں؟ چھوٹے اور درمیانے ڈیم کیوں نہیں؟ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے کیوں نہیں؟ شہری علاقوں میں برساتی پانی کیلئے بڑے رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹمز کیوں نہیں؟ سیلابی پانی کو محفوظ علاقوں اور آبی ذخائر تک منتقل کرنے کا مربوط نظام کیوں نہیں؟ چند سال قبل نہروں کے حوالے سے بھی سیاسی بحث نے یہ تاثر پیدا کیا کہ جیسے پانی کے ہر منصوبے کا مطلب کسی ایک صوبے کو فائدہ اور دوسرے کو نقصان پہنچاناہے۔ اگر کوئی منصوبہ واقعی کسی صوبے کے حق پر اثرانداز ہوتا ہے تو اس پر سوال اٹھنا چاہیے، لیکن ہر آبی منصوبے کو صوبائی دشمنی کا عنوان بنا دینا بھی قومی مفاد نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اضافی پانی کا کیا کیا جائے؟ جب دریا بپھرے ہوئے ہوں، جب پہاڑوں سے پانی اتر رہا ہو، جب بارش معمول سے کہیں زیادہ ہو، تو وہ پانی آخر جائے گا کہاں؟ اگر ہم اسے ذخیرہ نہیں کریں گے تو وہ آبادیوں میں داخل ہوگا۔ فصلوں کو ڈبوئے گا، سڑکیں توڑے گا، پل بہائے گا اور انسانی جانیں لے گا۔ اور چند ماہ بعد، جب یہی پانی ہمیں درکار ہوگا، تو ہم کہیں گے: پانی کم ہے۔ یہ کیسی منصوبہ بندی ہے؟ دنیا بھر میں پانی کو ایک قومی اثاثے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ پانی زیادہ ہو تو اسے محفوظ کیا جاتا ہے، کم ہو تو محفوظ شدہ پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی ہمیں اسی اصول پر چلنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈیم صرف بجلی پیدا کرنے کے منصوبے نہیں ہوتے۔ آبی ذخائر سیلابی پانی کو کنٹرول کرنے، آبپاشی کیلئے پانی محفوظ رکھنے اور خشک موسم میں پانی کی دستیابی بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہر ڈیم ہر مسئلے کا حل نہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہ ہونے کی قیمت ایک قوم بار بار ادا کرتی ہے۔ اور ہم یہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ہر سال کبھی خیبر پختونخوا میں، کبھی پنجاب میں، کبھی سندھ میں، کبھی بلوچستان میں۔ کوئی صوبہ مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ سیلاب سیاسی جماعت نہیں دیکھتا، صوبائی سرحد نہیں دیکھتا، زبان نہیں دیکھتا اور ذات برادری نہیں دیکھتا۔ پانی جب تباہی پھیلانے پر آتا ہے تو سب کو ایک ہی طرح متاثر کرتا ہے۔ پھر ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ پانی کی سیاست بھی سب کو نقصان پہنچاتی ہے؟ یہ وقت ہے کہ پاکستان میں پانی کو ’’صوبائی مسئلہ‘‘ نہیں بلکہ ’’قومی مسئلہ‘‘ سمجھا جائے۔ صوبوںکے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ سندھ کے خدشات ہوں یا خیبر پختونخوا کے، بلوچستان کے مسائل ہوں یا پنجاب کی ضروریات، سب کو سننا ہوگا۔ لیکن قومی اتفاقِ رائے کا مطلب یہ نہیں کہ اختلاف ختم کر دیا جائے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود ایسا راستہ نکالا جائے جس سے ملک آگے بڑھے۔ ہم بھارت سے کہتے ہیں کہ پانی کو ہتھیار نہ بناؤ۔ یہ مطالبہ درست ہے۔ مگر ہمیں اپنے آپ سے بھی کہنا ہوگا کہ ہم بھی پانی کو سیاست کا ہتھیار نہ بنائیں کیونکہ اگر ایک صوبہ دوسرے صوبے کو پانی کے نام پر شک کی نگاہ سے دیکھے گا، اگر ہر ڈیم کو سازش سمجھا جائے گا، اگر ہر نہر کو صوبائی مفاد کے خلاف قرار دیا جائے گا اور اگر ہر آبی منصوبہ سیاسی نعرے کی نذر ہو جائے گا تو پھر نقصان صرف حکومت یا کسی ایک صوبے کا نہیں ہوگا۔

نقصان پاکستان کا ہوگا۔ اور اگلے سال جب پھر بارش ہوگی، پھر دریا چڑھیں گے، پھر بستیاں ڈوبیں گی اور پھر لوگ امداد کے منتظر ہوں گے تو شاید ہمیں ایک بار پھر یہی سوال پوچھنا پڑے گا کہ کیا ہم نے سیلاب کو روکنے کی کوشش کی تھی یا صرف سیلاب آنے کے بعد متاثرین کی مدد کرنے کی؟ قومیں صرف امداد بانٹ کر نہیں بنتیں، وہ مستقبل کی منصوبہ بندی سے بنتی ہیں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ پانی ہمارے لیے تباہی کا ذریعہ رہے گا یا قومی دولت بنے گا۔ اگر پانی زیادہ آئے تو ہم کہیں کہ ’’سیلاب آ گیا‘‘ اور اگر کم آئے تو کہیں کہ ’’پانی ختم ہو گیا‘‘، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ پانی کا نہیں، ہماری منصوبہ بندی کا ہے۔ اور شاید سب سے تلخ حقیقت یہی ہے کہ ہم نے ڈیم نامنظور کر دیے، مگر سیلاب منظور کر لیا۔ اب بھی وقت ہے کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔

Back to top button