شاہ غلام قادر کے ساتھ کیا ہوا؟

تحریر:محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
شاہ غلام قادر ایک بار پھر وزیراعظم نہ بن پائے تو مجھے حسین شہید سہروردی یاد آئے۔ پاکستان کے تیسرے وزیراعظم محمد علی بوگرہ کی ایوان اقتدار سے رُخصتی پر حسین شہید سہروردی کو وزیراعظم بنانیکا فیصلہ کیا گیا۔ حسین شہید سہروردی کا وزیراعظم بننا اس قدر یقینی تھا کہ بی بی سی نے خبر نشر کردی۔ تجویز یہ تھی کہ عوامی لیگ اور مسلم لیگ ملکر حکومت بنائیں اور حسین شہید سہروردی وزیراعظم ہوں۔ حسین شہید سہروردی چوہدری محمد علی کیساتھ مشاورت کے بعد اپنی کابینہ بھی فائنل کر چکے تھے مگر عین وقت پر حسین شہید سہروردی کے بجائے چوہدری محمد علی کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔ یہ سب کیسے ہوا ؟
اسکی کچھ تفصیل قدرت اللہ شہاب نے بیان کی ہے۔ ’’شہباب نامہ ‘‘میں بیان کی گئی تفصیل کے مطابق ،سکندر مرزاصاحب کو گورنر جنرل بنے تین روز ہوئے تھے کہ شام کے پانچ بجے سہروردی نے ٹیلیفون کرکے قدرت اللہ شہاب سے پوچھا ’’پرائم منسٹر کے طور پر میرے حلف لینے کیلئےکونسی تاریخ مقرر ہوئی ہے؟‘‘ قدرت اللہ شہاب کے مطابق یہ سوال سنکر انہیں بڑا تعجب ہوا انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا تو مسٹر سہروردی غصے سے بولے،تم کس طرح کے نکمے سیکریٹری ہو،فیصلہ ہوچکا ہے۔ اب صرف تفصیلات کا انتظار ہے۔فوراًگورنر جنرل کے پاس جائو اور حلف اٹھانے کی تاریخ اور وقت معلوم کرکے مجھے خبر دو ۔
قدرت اللہ شہاب سکندرمرزا کے پاس گئے جو اپنے دوستوں کیساتھ برج کھیل رہے تھے۔ جب انہوں نے گورنر جنرل کو سہروردی سے ہونیوالی گفتگو سے متعلق آگاہ کیا تو وہ خوب ہنسے اور اندر جاکر اپنے دوستوں سے بولے ،تم نے کچھ سنا؟سہروردی وزیراعظم کا حلف لینے کا وقت پوچھ رہا ہے۔اس پر سب نے تاش کے پتے زور زوور سے میز پر مارے اوربڑے اونچے فرمائشی قہقہے بلند کیے۔کچھ دیر اچھی خاصی ہڑبونگ جاری رہی اسکے بعد گورنر جنرل نے قدرت اللہ شہاب کو کہا ،میری طرف سے تمہیں اجازت ہے کہ تم سہروردی کو بتا دو کہ حلف برداری کی رسم پرسوںمنعقد ہوگی اور چوہدری محمد علی وزیراعظم کا حلف اُٹھائینگے۔ قدرت اللہ وہاں سے میں سیدھے سہروردی کے پاس پہنچے اورانہیں یہ خبر سنائی۔ایسا دکھائی دیتا تھا کہ ان کیساتھ کچھ وعدے وعید ہو چکے تھے۔
نئی صورتحال پر وہ بڑے جھلائے اور بس اتنا کہا ’’پھر وہی محلاتی سازشیں۔‘‘حسین شہید سہروردی تو چند برس بعد وزیراعظم بننے میں کامیاب رہے مگر شاہ غلام قادر کو دوسری مرتبہ نظر انداز کیا گیا ہے ۔شاہ غلام قادر جو1991ء کے انتخابات میں پہلی بار آزاد جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رُکن بنے 2006ء کے انتخابات کے بعد انہیں قانون ساز اسمبلی کا اسپیکر منتخب کیا گیا۔بعد ازاں جب جنوری 2009ء میں راجہ فاروق حیدر اور دیگر ارکان اسمبلی نے فارورڈ بلاک بنا کر وزیراعظم سردار عتیق کے خلاف بغاوت کردی اور انہیں عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیج دیا گیاتو اسپیکر شاہ غلام قادر وزیراعظم بننے کیلئے اس قدر پراُمید تھے کہ انہوںنے آسٹریلوی محقق کرسٹوفر اسٹوڈن کو بتادیا کہ وہ آزادکشمیر کے اگلے وزیراعظم ہونگے اور انہوں نے اس بات کا تذکرہ اپنی کتاب میں بھی کردیا۔مگر شاہ غلام قادر وزیراعظم نہ بن سکے اور یہ اعتراض کیا گیا کہ چونکہ وہ مہاجر نشستوں پر منتخب ہوئے ہیں اسلئے انہیں وزیراعظم بنانے سے اچھا تاثر نہیں جائیگا۔
نوازشریف آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس کو ہی اپنی تنظیم سمجھتے تھے مگر 2010ء میں مسلم لیگ ن آزادکشمیر کی بنیاد رکھی گئی تو راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر اس کے بانیوں میں شامل تھے ۔شاہ غلام قادر نے مہاجر نشستوں والااعتراض دور کرنےکیلئے 2011ء میں نیلم سے الیکشن لڑا تو بہت کم مارجن سے ہار گئے مگر 2016ء کے انتخابات میں 23000ووٹوں کے فرق سے الیکشن جیت کر ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا جو کوئی نہ توڑ سکا۔شاہ غلام قادر کے صاحبزادے اسد علیم شاہ بھی راولپنڈی سے مہاجر نشست پر کامیاب ہوئے۔راجہ فاروق حیدر جو پارٹی کے سربراہ تھے انہیں وزیراعظم بنانے کا فیصلہ ہوا تو شاہ غلام قادر ایک بار پھر قانون سازاسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوگئے۔
2021ء کے انتخابات میں بدترین شکست کے بعد مسلم لیگ ن آزادکشمیر کی تنظیم تحلیل کردی گئی اور بعد ازاں پارٹی کی قیادت شاہ غلا م قادر کے سپرد کی گئی جنکی کاوشوں سے مسلم لیگ ن نے 2026ء کے انتخابات میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی ۔اس بار شاہ غلام قادر کے وزیراعظم بننے میں کوئی رکاوٹ دکھائی نہیں دے رہی تھی ۔قیادت نے انہیں گرین سگنل دیدیا۔جب طارق فاروق قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوگئے تویہ بات نوشتہ دیوار محسوس ہورہی تھی کہ شاہ غلام قادر ہی وزیراعظم ہونگے ۔اس دوران جب الیکشن ہارنے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ نشست پرایوان میں لایا گیا تو چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں ۔شاہ غلام قادر نے میاں نوازشریف سے گلہ کیا تو انہوں نے ان اطلاعات کو افواہیں قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔تقریب حلف برداری کی تیاریاں ہونے لگیں ، دعوت نامے پرنٹ ہورہے تھے کہ وزیراعظم شہبازشریف نے اسلام آباد طلب کرلیا اور بتایا کہ قرعہ فال سید افتخار گیلانی کے نام نکلا ہے ۔شاہ غلام قادر نے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا اور دو آپشنز دیں کہ پارٹی کے ٹکٹ پر جنرل نشستوں سے جو امیدوار کامیاب ہوئے ہیں ان میں سے کسی کو بھی وزیراعظم بنا لیں لیکن ٹیکنوکریٹ وزیراعظم نہ لائیں یا پھر دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کر سب کی رائے معلوم کرلیں ۔انہیں کہا گیا کہ فیصلہ ہوچکا ہے ،آپ کو صدر بنایا جاسکتا ہے ۔شاہ غلام قادر نے یہ پیشکش قبول نہ کی اور ناراض ہوگئے ۔شاید بینظیر بھٹو کی طرح مریم نواز بھی ’’چاچو‘‘ٹائپ سینئر قائدین سے نجات حاصل کرکے نوجوان قیادت کو آگے لانا چاہتی ہیں مگر آزاد کشمیر کے معروضی حالات کے تناظر میں یہ فیصلہ تباہ کن ہوگا۔وہاں پہلے ہی لوگ یہ گلہ کرتے ہیں کہ مظفر آباد کی قسمت کے فیصلے اسلام آباد میں کیوں ہوتے ہیں ،آپ نے ایک ہارے ہوئے شخص کو مسلط کرکے اس بیانئے پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے اور ستم بالائے ستم کہ نواز شریف نے اس حق تلفی کے بعد شاہ غلام قادر کی تالیف قلب کیلئے ان سے رابطہ بھی نہیں کیا۔ اگر انہیں باامر مجبوری ،کسی مصلحت کے پیش نظر یہ فیصلہ کرنا پڑا یا کوئی محلاتی سازش ہوئی تو کم ازکم خود رابطہ کرکے صورتحال واضح کرنی چاہئے تھی۔ شاہ غلام قادر اپنے نام کے برعکس شاہ نہیں بن پائے اورنہ ہی صورتحال پر قادر تھے مگر انہوں نے ثابت کیا کہ وہ غلام بھی نہیں ۔شاید انہیں وزیراعظم بنکر اس قدر پذیرائی نہ ملتی جتنی عزت اس جرات انکار کے باعث نصیب ہوئی۔
