نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ، نون لیگ کیا کرنے والی ہے؟

پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سیاسی بحث ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان اور اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر کی وضاحت کے بعد سیاسی حلقوں کی نظریں اب مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی پر مرکوز ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو مشاورت کے لیے طلب کیا ہے، جہاں نئے صوبوں کے معاملے سمیت حکومت کے مستقبل، سیاسی حکمت عملی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آئینی اتفاقِ رائے کے اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم رہتے ہوئے ہر ممکن فیصلہ پارلیمانی طریقہ کار کے تحت ہی کرنا چاہے گی۔
پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق بحث ایک مرتبہ پھر قومی سیاسی منظرنامے کا اہم موضوع بن چکی ہے۔ اس بحث کا آغاز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان سے ہوا، جس میں انہوں نے بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اس معاملے پر قومی سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیا۔
بعد ازاں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ نئے صوبوں سمیت تمام سیاسی اور آئینی فیصلے منتخب سیاسی قیادت اور پارلیمان کا اختیار ہیں، جبکہ فوج کا اس عمل میں کوئی سیاسی کردار نہیں۔ اس وضاحت کے بعد سیاسی توجہ مسلم لیگ (ن) کی جانب مبذول ہو گئی، جہاں اطلاعات سامنے آئیں کہ پارٹی قائد نواز شریف وزیراعظم شہباز شریف سے اہم مشاورت کریں گے۔
سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق یہ ممکنہ ملاقات صرف نئے صوبوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس میں حکومت کے مستقبل، سیاسی اتحاد، اپوزیشن کی حکمت عملی اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق محسن نقوی کے بیان اور اس کے بعد آنے والے ردعمل نے سیاسی ماحول میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس کے باعث مسلم لیگ (ن) کو اپنی آئندہ سیاسی سمت کا ازسرِنو جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سامنے ایک اہم سوال یہ ہوگا کہ آیا وہ مفاہمتی سیاست کے موجودہ راستے پر قائم رہتی ہے یا زیادہ فعال اور مزاحمتی سیاسی حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ اگر پارٹی مفاہمت کی پالیسی جاری رکھتی ہے تو وہ موجودہ سیاسی نظام کے اندر رہتے ہوئے معاملات آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی، جبکہ مزاحمتی حکمت عملی کی صورت میں نواز شریف کے زیادہ فعال سیاسی کردار کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم ایسی حکمت عملی کے سیاسی اور حکومتی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کا مؤقف ہے کہ آئینی ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کا راستہ صرف آئین میں درج طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) ہمیشہ بڑے آئینی معاملات پر پارلیمانی اتفاقِ رائے اور قانونی تقاضوں کی حامی رہی ہے، اس لیے اس مؤقف سے انحراف پارٹی کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ادھر سیاسی تجزیہ کار احمد ولید کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر فوری طور پر آمادہ ہوتی دکھائی نہیں دیتیں، کیونکہ پنجاب یا سندھ کی تقسیم دونوں جماعتوں کے روایتی سیاسی اثرورسوخ اور ووٹ بینک پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق جنوبی پنجاب سمیت نئے صوبوں کے مطالبات اگرچہ کئی برسوں سے موجود ہیں، لیکن سیاسی جماعتیں اس حوالے سے عملی پیش رفت سے گریز کرتی رہی ہیں۔
احمد ولید کے مطابق اگر حکومت کا بنیادی مقصد گورننس کو بہتر بنانا اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے تو نئے صوبوں کے بجائے مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام زیادہ مؤثر اور دیرپا حل ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں مقامی حکومتیں عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ پاکستان میں بھی مضبوط بلدیاتی نظام عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

 

افغانستان عالمی دہشتگرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ کیسے بنا؟

مجموعی طور پر نئے صوبوں کا معاملہ صرف انتظامی اصلاحات تک محدود نہیں بلکہ یہ آئینی، سیاسی اور حکومتی حکمت عملی سے جڑا ایک اہم قومی موضوع بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں مسلم لیگ (ن) کی مشاورت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے مؤقف اس بحث کی آئندہ سمت کا تعین کریں گے۔

Back to top button