پاکستان کو صحرائی ٹڈی دل سے ایک بار پھرخطرہ کیوں؟

پاکستانی کسانوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ ایران اور بھارت کے ساتھ پاکستانی سرحد پر کروڑوں کی تعداد میں ٹڈی دل پہنچ چکے ہیں جو ملک میں داخل ہو کر فصلوں کو دوبارہ سے تباہ کر سکتے ہیں۔
ٹڈی دل کی پاکستان آمد کی خبر کے بعد کاشتکاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یاد رہے کہ دو برس قبل فروری 2020 کی بات ہے جب صحرائی ٹڈی دل نے پاکستان پر حملہ کیا۔ سندھ میں تباہ کاری کے بعد پنجاب اور پھر خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں یہ حملہ آور ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹڈی دل کھڑی فصلیں چٹ کر گئے، سبزہ اجاڑ دیا، پھل دار درختوں کا صفایا کر ڈالا۔
خود اغوا ہونے والے رانا ثنا اللہ کا لاپتہ افراد پر یوٹرن
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں کیونکہ مقامی سطح پر محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے پاس پاکستان کے تمام صحرائی علاقوں میں ٹڈی دل کی نگرانی اور کنٹرول کی کارروائیوں کو مؤثر بنانے کا مینڈیٹ ہے۔ تاہم تاریخ میں پہلی بار پاکستانی بجٹ میں ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے بھی فنڈز رکھیں گے ۔بجٹ 2022 میں ٹڈی دل ایمرجنسی اور تحفظ خوراک منصوبے کے لیے 80 کروڑ روپے کا فنڈ مختص کیا گیا ہے۔عابد اللہ دتہ نے بتایا کہ لوکسٹ ایمرجنسی اینڈ فوڈ سکیورٹی (LEAFS) پروجیکٹ ورلڈ بینک کی جانب سے تیار اور منظور کردہ پروگرام ہے جس کی مالیت تقریباً 96 ملین ڈالر ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان کے تمام صوبوں میں ٹڈی دل کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مستقل اور پائیدار بنیادوں پر قومی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔اس پراجیکٹ کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے لیے ایف اے او تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔
بتایا جاتا ہے کہ صحرائی ٹڈی دل موسم گرما اور موسم بہار میں انڈے دیتے ہیں۔ ایک مادہ ایک دن میں اپنی دم ریت میں گاڑ کر 10سے 15 سینٹی میٹر لمبی ایک مخصوص تھیلی میں 95 سے 158 انڈے دیتی ہے۔ ایک مربع میٹر میں تقریباً ایک ہزار انڈوں والی تھیلیاں موجود ہوتی ہیں جن سے دو سے تین ہفتوں کے بعد بچے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ تو اس بڑے پیمانے پر افزائش کی وجہ سے اس کی تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
ممبر کواآرڈی نیشن آف پاکستان ایگریکلچر ریسرچ سسٹم اور ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کے سابق ڈی جی فلک ناز نے بتایا کہ صرف ٹڈی دل کی موجودگی سے خطرہ نہیں ہوتا لیکن ان کی سرگرمی پر نظر رکھی جاتی ہے۔ جب یہی بالغ ٹڈی دل جوڑی کی صورت میں ہوتے ہیں تب ان کی اندرونی جسمانیت اور رویہ تبدیل ہو جاتا ہے اور ٹڈی دل کی نسل افزائش پاتی ہے۔ ایسے میں یہ خوراک بھی زیادہ لیتے ہیں اور ان کی پرواز بھی بڑھ جاتی ہے۔
صحرائی ٹڈی دل پاکستان میں مشرق اور مغرب کی جانب سے اور بعض اوقات جنوب مغرب یعنی سعودی عرب اور یمن وغیرہ سے پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ایران کی سرحد کے ساتھ بلوچستان کے ساحلی علاقے میں ٹڈی دل کی بہار کے موسم میں بریڈنگ ہوتی ہے۔ اس موسم میں سروے بھی کیے جاتے ہیں۔ جون میں وہاں ٹڈی دل کی سرگرمی ختم ہو جاتی ہے۔ انڈیا کے ساتھ سرحد پر چولستان اور تھرپارکر کے علاقے میں اور انڈیا کی گجرات اور راجستان کی بیلٹ پر جون سے دسمبر تک ٹڈی دل کی موجودگی کی توقع ہوتی ہے۔
