DHA کی طرح ففتھ جنریشن وار کی اگلی فیز کب آئے گی؟

معروف لکھاری اور کئی کتابوں کے مصنف محمد حنیف نے کہا ہے کہ کچھ لوگ وطن دشمن تو نہیں لیکن حسد کی آگ میں جلتے ہوئے یہ ضرور پوچھتے ہیں کہ کیا اس ففتھ جنریشن وار کے مزید فیز بھی آئیں گے، جس طرح ہر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے اگلے فیز آتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ اس بات پر پریشان ہیں کہ ڈی ایچ اے کراچی تو آٹھویں فیز میں داخل ہو کر ایک ایکسٹینشن بھی لے چکا ہے لیکن یہ ففتھ جنریشن وار پانچویں فیز سے آگے کیوں نہیں بڑھ رہی۔
حنیف کہتے ہیں کہ پہلے تو جنرل باجوہ بند کمرے میں چیدہ چیدہ صحافیوں کو بریفنگ دیا کرتے تھے اور پھر یہ صحافی باہر نکل کر چیدہ چیدہ باتیں قوم کو بتا دیا کرتے تھے۔ لیکن اس مرتبہ یومِ دفاع پر جنرل باجوہ نے بند کمرے سے نکل کر سینہ ٹھونک کر قوم سے خطاب کیا اور بقول رشکِ قمر والے استاد قمر جلالوی کے ’آگ ایسی لگائی مزا آ گیا۔‘ جنرل باجوہ پہلے ہی فرما چکے ہیں کہ وہ اپنی ذات پر تنقید تو برداشت کر لیں گے لیکن اداروں پر برداشت نہیں کریں گے۔ حنیف کہتے ہیں کہ اگر وہ تنقید برداشت کر سکتے ہیں تو انھیں ہمیں تھوڑی سی تعریف کرنے کی بھی اجازت دینی چاہیے۔ جس طرح سے انھوں نے افغانستان میں امن کی بات کی اور جس طرح انڈیا کو نپے تلے الفاظ میں اس کی اوقات یاد کروائی ایسا صرف باجوہ صاحب ہی کر سکتے ہیں جس پر ہم انہیں مبارک باد پیش کرنا چاہتے ہیں۔
بی بی سی کے لیے اپنے تازہ کالم میں محمد حنیف کہتے ہیں کہ ہمارے صدر عارف علوی ایک مرنجانِ مرنج آدمی ہیں، اُن سے تو کراچی کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ والے نہیں ڈرتے تھے، انڈیا کیا ڈرے گا۔لیکن اپنی تقریر میں جنرل باجوہ نے یہ ذکر بھی کیا کہ چونکہ سرحدوں کے مسائل اب حل ہو چکے ہیں تو بس اب پاکستان کے اندر کچھ دشمن بچے ہیں، ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
حنیف کے مطابق میں نے گھبرا کر اِرد گرد دیکھا کہ یااللہ اب کون بچا ہے؟ جیل سے سرنگ لگا کر بھاگے ہوئے نواز شریف اب سوٹ شوٹ پہن کر لندن میں گھوم رہے ہیں۔ اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیاں دینے والے مردِ حر آصف زرداری اپنی پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ والے بھی نئی پارٹی، نئی سیاست کی باتیں کر رہے ہیں۔ لہاز ان کا اشارہ یقیناً میرے صحافی بھائیوں کی طرف ہو گا جو کبھی اپنے آپ کو گولیاں مروا لیتے ہیں، کبھی گھر سے غائب ہو جاتے ہیں تو کبھی سکرین سے اور الزام ہمارے اداروں پر لگا دیتے ہیں۔
حنیف کہتے ہیں کہ باجوہ صاحب کا اشارہ ففتھ جنریشن وار فیئر کی طرف تھا۔ جو ٹینکوں اور جہازوں سے نہیں بلکہ یوٹیوب سے لڑی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر رن بپا کیا جاتا ہے۔ اب اس جنگ کے جو مجاہد محاذ کی صحیح طرف کھڑے ہیں وہ صحافی ہیں، چاہے ان کی برادری کوئی بھی ہو۔ کسی بند کمرے کی بریفنگ میں سپہ سالار نے کسی یوٹیوب چینل والے مجاہد کا نام لے کر کہا تھا کہ وہ صبح شیو کرتے ہوئے ان کا چینل سنتے ہیں۔ حنیف کے مطابق اس مجاہد کی قسمت پر عش عش کر اٹھا لیکن ساتھ دل میں یہ خیال بھی آیا کہ باجوہ صاحب شاید صبح صبح اتنی ولولہ انگیز چیزیں نہ دیکھا یا سُنا کریں، کہیں شیو کرتے ہوئے چہرے پر کٹ نہ لگ جائے بلکہ اسد عمر کی طرح صبح کا آغاز سٹرنگز کے گانے سُن کر کیا کریں۔
حنیف کے مطابق ہمیں ففتھ جنریشن وار کو یقیناً سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ لیکن کچھ گھامڑ لوگ یہی پوچھتے رہ جاتے ہیں کہ فرسٹ جنریشن والی جنگ کب ہوئی تھی۔ ہمیں کسی نے بولا ہی نہیں ورنہ ہم بھی حصہ ڈالتے۔ کچھ لوگ جو شاید وطن دشمن تو نہیں ہیں لیکن حسد میں جلتے رہتے ہیں، پوچھتے ہیں کہ اس جنریشن والی جنگ کے اور فیز بھی آئیں گے، جس طرح ہر ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کے آتے ہیں۔ کچھ اس بات پر پرییشان ہیں کہ ڈی ایچ اے کراچی تو آٹھویں فیز میں داخل ہو کر ایک ایکسٹینشن بھی لے چکا ہے لیکن یہ جنریشن والی جنگ پانچویں فیز سے آگے کیوں نہیں بڑھ رہی۔ کیا اس کے اگلے فیز آئی ایس پی آر کے سابقہ سربراہ اپنے ساتھ تو نہیں لے گئے یا وزیر اطلاعات فواد چوہدری قوم سے کچھ چھپا تو نہیں رہے۔
حنیف کہتے ہیں کہ اسلام آباد اور ملک کے طول و عرض میں حکومت کے مجوزہ میڈیا قوانین کے خلاف جو ہم پیشہ بھائی اور بہنیں احتجاج کر رہے ہیں، ان کا ایک سادہ سا حل ہے۔ ان میں سے اکثر اپنے لیے تو آزادی چاہتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ افغانستان کے نئے وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد کے بھی دیوانے ہیں۔ تو کچھ ہفتوں کے لیے انھیں اسلام آباد بلا کر وزیر بنا دیا جائے اور فواد چوہدری کو کابل بھجوا دیا جائے۔ ان کے بھی میڈیا کو جدید خطوں پر چلانے کا خواب پورا ہو جائے گا اور میرے صحافی بھائیوں کو بھی شاید تھوڑی ٹھنڈ پڑ جائے۔ اس کو ففتھ جنریشن وار فیئر کی ایکسٹینشن بھی کہا جا سکتا ہے۔
