کیا سلیکٹرز نئی ٹیم سلیکشن سے پہلے فارغ ہو جائیں گے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں اب سارا بوجھ ایک مرتبہ پھر سلیکٹرز پر آ گیا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ اگلے سیاسی ورلڈ کپ سے پہلے کون سی ٹیم سلیکٹ کرتے ہیں اور کون سے امپائرز نامزد ہوتے ہیں۔ اسی لیے میدان میں موجود سیاسی کھلاڑی سلیکٹرز کی نظروں میں آنے کے لئے من چاہی پرفارمنس دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ایسے میں خود سلیکشن کمیٹی اور امپائرز کی تبدیلی کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ اگلا الیکشن بھی جیتنے کی شدید خواہش رکھنے والے عمران خان کی جانب سے 2023 کا انتخاب ہر صورت الیکٹرونک ووٹ مشین کے ذریعے کروانے کی ضد میں انکی حکومت جس طرح الیکشن کمیشن کے خلاف کھڑی ہو گئی ہے اس کے نتیجے میں 1977 جیسا سنگین سیاسی بحران جنم لے سکتا ہے جس کے بعد جنرل ضیاء اقتدار میں آ گیا تھا۔ مظہر کہتے ہیں کہ ابھی الیکشن 2023 ذرا دور ہیں مگر الیکٹرونک ووٹ مشین کے نام پر ایک سیاسی ہنگامہ برپا ہے۔ لگتا ہے گویا حکومت پورے الیکشن کمیشن کو ہی تبدیل کر دینا چاہتی ہے۔حیرت ہے نہ اس حکومت کو نہ تو اپنا بنایا الیکشن کمیشن قبول ہے اور نہ اپوزیشن کا…! ایسے میں اگر بحران حل نہ ہوا تو بات دور تک جاسکتی ہے۔
مظہر کے مطابق پاکستان میں الیکشن ایک سیاسی کٹھ پتلی کے تماشے سے کم نہیں خصوصا ایک ایسے ماحول میں جہاں کسی پر پرچی لیڈر ہونے کا الزام ہو تو کسی پر سلیکٹڈ ہونے کا، اور کوئی الیکشن کمیشن کو آگ لگانے کی بات کررہا ہو، تو کوئی اپوزیشن کے اندر میر جعفر تلاش کررہا ہو۔ ہمارے یہاں الیکشن کسی سیاسی ورلڈ کپ سے کم نہیں کیونکہ یہاں سلیکٹرز ٹیم سلیکٹ کرتے ہیں اور امپائر میچ کراتے ہیں۔ ابھی سب کپتان اپنی اپنی ٹیموں کے ساتھ میدان میں ہیں، اور کھلاڑی، سلیکٹرز کی نظریں اپنی جانب مبذول کرانے میں مصروف ہیں۔ اب اگر یہ ورلڈ کپ 2023ء میں ہونا ہے اور نئی مردم شماری کے تحت ہونا ہے تو بس سمجھ لیں کہ بہت کچھ اس سے پہلے ہوجائے گا، خاص طور پر سندھ اور پنجاب میں!
مظہر عباس کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے میں غلط ہوں مگر مجھے الیکشن 2023 میں بھی ہوتا نظر نہیں آرہا۔ تینوں سیاسی ٹیمیں بھاری بھرکم ہیں۔ تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی! ان تین برسوں میں کئی ضمنی انتخابات میں یہ ایک دوسرے کے سامنے آئیں۔ کئی الیکشنز حکمران جماعت ہاری اور کچھ جیتی مگر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔ حالیہ کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن جماعتی بنیادوں پر ہونے سے ملک بھر میں بلدیاتی الیکشن کی راہ ہموار ہوگئی ہے اور وہ بھی جماعتی بنیادوں پر! اگر ایسا آئندہ چند ماہ میں ہوتا ہے تو اس کے نتائج انتخابات قبل از وقت یا مقررہ وقت پر ہونے کا تعین کرسکتے ہیں مگر الیکشن کرانے والوں کو ہی متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
مظہر کے مطابق الیکشن کمیشن پر حکومت کی جانب سے کرپشن اور اقربا پروری کے سنگین ترین الزامات عائد کئے جانے کے بعد ایک بات تو طے ہے کہ ماضی کی طرح آئندہ الیکشن پر بھی سوالات اٹھیں گے۔ حکومت اور تحریک انصاف جتنی نروس اور غصے میں نظر آرہی ہے، ایسا ہونا نہیں چاہئے کیونکہ ابھی تو اپوزیشن، اپوزیشن سے لڑ رہی ہے شاید سلیکٹرز کی نظروں میں آنے کیلئے! حیران ہوں کہ کپتان اور ان کی نومولود ٹیم کو ہو کیاگیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سب کو ’’گھبرانا نہیں‘‘ کا درس دینے والے خان صاحب اپنے ہی کھلاڑیوں کو کیوں نہیں سنبھال پا رہے۔ کہیں کسی گڑبڑ کا امکان تو نظر نہیں آرہا، کیا سلیکشن کمیٹی اور امپائر کی تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے؟ بقول مظہر عباس، ایک بات طے ہے کہ سیاسی بحران شدت اختیار کررہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان ہر صورت الیکشن کا انعقاد ’’الیکٹرونک ووٹ مشین‘‘ کے ذریعے چاہتے ہیں اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق بھی دینے کے خواہاں ہیں مگر ایسا کرنے کے لیے جو طریقہ انکی حکومت اور جماعت اختیار کرر ہی ہے، اس سے 1977ء جیسا بحران کھڑا ہوسکتا ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ 2007 کی طرح آج بھی وکیل سڑکوں پر ہیں، صحافی اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں بھی سراپا احتجاج ہیں! فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے عمران خان ایسی تحریک کا حصہ ہوتے تھے، اوراب وہ خود حکمران ہیں۔ 23 سال کے سیاسی تجربے میں وہ اتنا تو سمجھتے ہی ہیں کہ سیاسی بحران کیوں کھڑا ہوتا ہے یا کیا جاتا ہے، اس سے نمٹنے کیلئے ریاستی نہیں، سیاسی سوچ کی ضرورت ہوتی ہے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ محض ریاستی جبر یا اکثریت کی بنیاد پر کیے گے فیصلے پائیدار نہیں ہوتے۔ اس کیلئے الیکشن کمیشن کو آگ لگانے کی نہیں بلکہ اسکی آبیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے اعتراضات دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، سوال یہ بھی ہے کہ آخر الیکٹرونک مشین اور میڈیا ’’کنٹرول‘‘ اتھارٹی جیسے اقدامات کی ضرورت اب کیوں محسوس کی جارہی ہے؟ یہ عمران خان کا آخری الیکشن تو ہے نہیں، البتہ یہ سچ ہے کہ انکے سب سے بڑے سیاسی مخالف کا ووٹ بینک بہرحال اب تک قائم ہے۔ ان حالات میں اب سارا بوجھ ایک مرتبہ پھر سلیکٹرز پر آ گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اگلے سیاسی ورلڈ کپ سے پہلے کیا ٹیم سلیکٹ کرتے ہیں اور کون سے امپائرز نامزد ہوتے ہیں۔
