کپتان میڈیا پر شمالی کوریا والی پابندیاں کیوں لگانا چاہتا ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ میڈیا کے کندھوں پر سوار ہوکروزیر اعظم بننے والے عمران خان اب اسی میڈیا پر شمالی کوریا ٹائپ کی آمرانہ پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خان صاحب میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک نیا قانون لانا چاہتے ہیں جو در حقیقت میڈیا ڈیمولیشن (Demolition) اتھارٹی ہے۔
سلیم صافی کے مطابق اگر یہ قانون بن گیا تو حکومت پر تنقید کرنا ناممکن ہوجائے گا اور صرف اخبار اور الیکٹرانک میڈیا ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا کا مکمل کنٹرول بھی حکومت کے ہاتھ میں آجائے گا۔ یوں آزادی اظہار کے حوالے سے پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ نہیں رہے گا بلکہ شمالی کوریا بن جائے گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ وزیر اعظم بننے سے پہلے کسی کو عمران خان سے اچھی امیدیں وابستہ تھیں، کوئی نواز شریف کے بغض میں ان کو ہیرو بنارہا تھا، کوئی اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر ایسا کررہا تھا، کوئی زیادہ ریٹنگ لینے کے چکر میں ان کوحکومت میں لانے پر تلا ہوا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمران کو کرکٹر سے سیاسی لیڈر اور پھر سیاسی لیڈر سے وزیراعظم بنوانے تک کے عمل میں میڈیا نے جو حصہ ڈالا، وہ کسی اور سیاستدان کے حصے میں نہیں آیا اور اس کا اعتراف خان صاحب خود بھی کرتے ہیں۔ وہ میڈیا کے لاڈلے تھے، اسی لئے ان کے جلسے چھ چھ گھنٹے مسلسل لائیو دکھائے جاتے رہے۔ ان کے ون ٹو ون فرینڈلی انٹرویوز کئے گئے جبکہ ان کی خاطر ان کے مخالف سیاستدانوں کی کردارکشی ہوتی رہی ۔
سلیم صافی کہتے ہیں عمران خان نے کسی کے خاندان کو چھوڑا ،کسی کی اولاد کو اور نہ کسی کے گھر کی خواتین کو معاف رکھا لیکن اس کے برعکس میڈیا نے ان کی نجی زندگی کو کبھی موضوعِ بحث نہیں بنایا۔ ان کے چھ حلقوں کی وجہ سے میڈیا نے پانچ سال تک قیامت برپا کئے رکھی لیکن ان کی خاطر آر ٹی ایس فیل کروانے، پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکلوانے اور بدترین پولیٹکل انجینئرنگ کامیڈیا نے چند روز تک بھی تذکرہ کرنا گوارا نہ کیا۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے کرپٹ لوگوں کو اپنے گرد جمع کیا لیکن میڈیا ان کو مسٹر کلین قرار دیتا رہا۔ اسی طرح سوشل میڈیا کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ غلط استعمال عمران کی جماعت نے کیا۔ یہ واحد پارٹی تھی جس نے کئی سال قبل برطانیہ، امریکہ ،سنگاپور اور یورپ میں خصوصی اور خفیہ سوشل میڈیا سیل قائم کئے تھے جو فیک اکاؤنٹس سے عمران خان کے نقادوں کی کردار کشی کرتے رہے، فیک نیوز پھیلاتے اور عمران خان کو مسیحا ثابت کرنے کی کوشش کرتے۔
سلیم صافی کا کہنا ہے کہ میں گزشتہ دس سال سے پی ٹی آئی کی ان سوشل میڈیا ٹیموں کے ہاتھوں کردارکشی اور گالم گلوچ برداشت کررہا ہوں لیکن تماشہ یہ تھا کہ کچھ عرصہ قبل تک میڈیا کے اکثر ساتھی یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ میرے ساتھ یہ سب کچھ عمران کے حکم پر ہورہا ہے ۔ تاہم اﷲ نے یہ کرم کیا کہ عمران خان کو وزیر اعظم بنوا دیا گیا اور یوں وہ بے نقاب ہو گے۔ یہاں عرض کردوں کہ ایک اینکر جو چند ماہ قبل تک عمران خان کے بڑے مداح تھے اور اب ان کی حکومت کے خلاف احتجاج میں بہت آگے آگے رہتے ہیں، انہوں نے الیکشن 2018 کے بعد مجھے طعنہ دیا کہ تم تو کہتے تھے عمران وزیراعظم نہیں بن سکتا لیکن وہ تو بن گیا۔ میں نے جواب دیا کہ میں نے کہا تھا کہ بن نہیں سکتا یہ نہیں کہا تھا کہ بنوایا نہیں جاسکتا۔ یوں تو شوکت عزیز اور میر ظفراﷲ جمالی کو بھی منتخب وزیراعظم بنوایا گیا تھا، چنانچہ اقتدار لیتے ہی وہ سب سے پہلے میڈیا پر پابندیاں لگانے میں مصروف ہو گئے۔ عمران نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس کام کے لئے انہوں نے دنیا بھر سے بدزبانوں کو میڈیا مینیجرز کے نام پر جمع کیاچونکہ کرکٹر سے لے کر وزیراعظم بننے تک وہ میڈیا کے لاڈلے رہے تھے، اس لئے ان سے معمولی تنقید بھی برداشت نہیں ہوئی اور ان میڈیا پرسنز کو بھی نوکریوں سے محروم کردیا جنہوں نے چندبرسوں ان کی مدح سرائی کی تھی۔
صافی کا کہنا یے کہ میڈیا کے لئے آزادی سانس یا آکسیجن جبکہ مالی وسائل غذا کی حیثیت رکھتے ہیں اور عمران نے برسر اقتدار آتے ہی میڈیا کو ان دونوں سے محروم کرنا چاہا۔ اتنی گھٹن اور پابندیاں ہم نے مشرف کے مارشل لا میں نہیں دیکھی تھیں جتنی کہ اس دور میں ہیں لیکن کچھ لوگ ماننے کو تیار نہیں تھے اور اب تین سال کے مختصر عرصے میں تمام صحافتی تنظیمیں یہ بات کرنے لگی ہیں ۔ اینکرز، کالم نگاروں، رپورٹرز اور کیمرہ مینوں پر جتنا مشکل وقت اب آیا ہے، پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ تاہم خان صاحب اس پر بھی اکتفا کرنے کو تیار نہیں ۔ وہ اب پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک نیا قانون لانا چاہتے ہیں جو حقیقت میں پاکستان میڈیا ڈیمولیشن (Demolition) اتھارٹی ہے ۔
قانون بن گیا تواس کے بعد حکومت پر تنقید کرنا ناممکن ہوجائے گا اور پاکستان ایک دوسرا شمالی کوریا بن جائے گا۔ صافی کے مطابق تماشہ یہ ہے کہ اس ڈریکونین قانون کے لئے عمران خان اور ان کے ترجمان یہ بھونڈی دلیل دے رہے ہیں کہ وہ فیک نیوز کا خاتمہ چاہتے ہیں حالانکہ سب سے زیادہ فیک نیوز خود یہ حکومت پھیلارہی ہے ۔
امریکہ کواڈے نہ دینے سے انکار، بجٹ میں جی ڈی پی کے غلط اعدادوشمار پیش کرنا وغیرہ فیک نیوز نہیں تو اور کیا ہے؟ اسی طرح پاکستان میں سب سے زیادہ غلط الزامات اگر کسی شخص نے لگائے ہیں تو وہ عمران خان ہی ہیں۔ نجم سیٹھی کے خلاف پینتیس پنکچر لگانے کا الزام، جنگ اور جیو کے مالکان پر را سے پیسے لینے کا الزام وغیرہ سب کیا ہیں؟ حکومت اگر فیک نیوز کا خاتمہ چاہتی ہے تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ قذف کا قانون لاگو کردے اور یہ قانون بنادے کہ جن لوگوں کے خلاف ہتک عزت کے کیسز چل رہے ہیں، ان کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر ہونا چاہئے۔ بقول سلیم صافی، صحافیوں، عمران خان، شہباز شریف اور آصف زرداری کے خلاف ہتک عزت کے جتنے کیسز لٹکے ہوئے ہیں، ان کے فیصلے جلدازجلد کروا لیں، تو ایک دوسرے پر بغیر ثبوت کے الزام لگانے کا سلسلہ خود بخود ختم ہوجائے گا۔
