ڈھولا اور رولا

تحریر: سہیل وڑائچ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
اگر کسی میں فنی خرابی ہو اور اسے گورا رنگ بہت ہی پُر کشش لگے مگر ساتھ ہی ساتھ وُہ کالے رنگ میں بھی خوبصورتی تلاش کرلے تو ایسے مزاج والا کہاں اور کسے ہضم ہوگا؟ اسی طرح اگر کوئی سکندراعظم کو فاتح اعظم مانے اور راجہ پورس کو بھی عظیم جانے تو ایسی سوچ والا کہاں کسی کو بھائے گا۔ اگر کوئی جنونی پھول کی خوشبو سونگھ کر معطّر ہومگر ساتھ ہی کانٹے لگنے سے بہنے والے لہو اور تکلیف سے بھی لطف اندوز ہو تو وُہ پاگل ہی سمجھا جائیگا۔ یہ تضادات دیکھ کر فوری فیصلہ نہ کریں کہ اس پیدائشی خرابی کے حامل کو بالکل مسترد کردیں عام لوگ بھی تو میٹھا کھا کر خوش ہوتے ہیں اور مرچ کے تیکھے پن کا شوق بھی رکھتے ہیں۔ انسانی مزاج اور سوچ متنوع ہے اسے ایک وقت میں دو متضاد اور مخالف چیزوں کا ذائقہ اچھا لگ سکتا ہے، دو حریفوں کی الگ الگ خوبیاں بھا سکتی ہیں، دو مختلف رنگ بھی آنکھوں میں سما سکتے ہیں۔ یک رنگی تنگ نظری اور ہمہ رنگی وسیع المشربی پیدا کرتی ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ہماری سیاست، رومان اور عشق کسی میں دوئی قابل قبول نہیں۔ مجنوں لیلیٰ کے علاوہ کسی کی طرف نہ دیکھ سکتا ہے نہ اسے کوئی گوری بھا سکتی ہے، اس کیلئے کالی لیلیٰ ہی واحد چوائس ہے۔ ہیر کو سیداکھیڑا بیاہ کر بھی لے جائے تو رانجھا ہیر ہی کیلئے جوگی بنے گا اس نے کسی اور کی طرف نظر اُٹھا کر بھی دیکھا تو رومانس کا بیڑا غرق ہو جائیگا۔ احمد خان کھرل میرا ہیرو ہے مگر برکلی کی بہادری کی تعریف مجھے اس قدر مہنگی پڑ سکتی ہے کہ مجھے انگریزوں کا ایجنٹ ہی کہہ دیا جائے۔ 1849ء کی چیلیانوالہ میں آخری لڑائی میں انگریز فوج کی بہادری کی کہانی بیان کرنا آسان اور مخالف شیر سنگھ اٹاری والا اور گجراتی اور پشاوری مسلمانوں کی بھرپور مزاحمت کی داستان بیان کرنا مشکل اور محال ہے۔
فنی خرابی اور پیدائشی نقص والے عاصی کو مسئلہ یہ درپیش ہے کہ تضادستان میں تقریباً طے ہے کہ دو کشتیوں کی سواری، دو گھوڑوں کی شہسواری، ایک میان میں دو تلواریں اور ایک دل کے دو دلبر نہیں ہو سکتے مگر یہ سب باتیں متروک ہو چکیں۔ آج تو رنگا رنگی ،ہمہ رنگی اور سب رنگی کا دور دورہ ہے۔ تصّورات اور سوچ فرسودہ رہ گئی، زمانہ چال قیامت کی چل کر بہت آگے بڑھ گیا۔ زمانہ بدل گیا ہے تو محاورے بھی بدلنے چاہئیں اور انکے مطالب و مفاہیم کی تشریح بھی نئے سرے سے ہونی چاہئے۔
فنی خرابی والے گناہ گار اور عاصی کو ڈھولا بھی پسند ہے اور اسے رولا بھی اچھا لگتا ہے۔ وہ کیا کرے اگر اسے فلم میں ہیرو اور ولن دونوں کے کردار اچھے لگیں؟ وہ ناتواں کیا کرے اگر کرکٹ میچ ہو رہا ہو تو چاہے اسکی ٹیم کا کھلاڑی اچھا کھیلے یا مخالف چوکا، چھکا لگائے تو وُہ دونوں بار تالی بجائے اور واہ واہ کرے۔ اسے اپنا ٹامی تو اچھا لگے ہی مگر وہ دوسروں کے کتوں سے بھی پیار کرے۔ ایسے گناہ گار اور عاصی کیلئے ہم نے جگہ نہیں چھوڑی،ایسےگناہ گار کا عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا ہے کیونکہ ہر کوئی دوسرے کو مکمل غلط قرار دیتا ہے۔ صحافی ایک فقرہ خلاف لکھ دے تو پی ٹی آئی والے اسے لفافہ اور فوجی ایجنٹ کہنا شروع کر دیتے ہیں، مقتدرہ یا حکومت کی کسی پالیسی سے ہلکا سا اختلاف ہو جائے تو تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ تو دشمنوں سے ملکر سازش کر رہا ہے، نونی قیادت یا اسکے انداز حکمرانی پر تنقید کر دے تو وہ اسے آئین اسٹائن کہہ کر مذاق اڑاتے ہیں ،ہمارے ادارے حقیقت تو چھوڑیں تاثر پر بھی ایک سیکنڈ میں جھوٹا ہونے اور من گھڑت کہانیاں لکھنے کا فتویٰ داغ دیتے ہیں۔ پیپلے بھی اپنی اندرونی محفلوں میں کوئی خطاب دیتے ہونگے مگر وُہ اتنے باشعور ضرور ہیں کہ سرعام برا بھلا نہیں کہتے۔ صورتحال یہ ہے کہ سیاست اور اظہار کے راستے پسندیدگی اور ناپسندیدگی کے بتوں نے روک رکھے ہیں مخالفت کو ضد اور دشمنی بنالینا، تنقید کو حرزِ جاں بنا لینا اور کسی دوسری راہ کے مسافر کو گمراہ سمجھنا سراسر غیر دانشمندانہ اقدام ہے ہم سب ڈھولے اور رولے پاکستان ہی کی راہ کے مسافر ہیں راستے الگ الگ ہو سکتے ہیں مگر منزل ایک ہی ہے، خوشحال اور جمہوری پاکستان۔
اگر واقعی لانگ مارچ صرف ملتوی ہوا ہے اور پھر سے ہونیوالا ہے تو اصل معاملہ تو تحریک انصاف کے ڈھولے کا ہے اور رولا بھی اسی لیے ڈالا جا رہا ہے ۔ ڈھولا پنجابی زبان میں محبوب کو اور رولا شورشرابے کو کہتے ہیں۔ ڈھولا کا لفظ ملکہ ترنم نورجہاں نے ڈھول سپاہیا گا کر امر کر دیا تھا۔ تحریک انصاف کا جس قدر رولا سوشل میڈیا یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر ہے اگر وہی رولا گلیوں بازاروں میں بھی نظر آتا تو اب تک نظام کمزور ہو چکا ہوتا مگر مسئلہ یہ ہے keyboard پر جس پارٹی کا زور شور ہے وُہ سڑکوں پر خوف، دباؤ یا عدم تنظیم کی وجہ سے اپنی طاقت دکھانے سے قاصر ہے۔ دوسری طرف حکومت جس خیالی ڈھولے اور رولے کیخلاف روبہ عمل ہے وُہ ڈھولا فرضی اور خیالی ہے ۔ دونوں طرف افراط و تفریط اور حقیقت سے روگردانی ہے ۔ تحریک انصاف کا بہت بڑے جلوس کا نکالنا اور دارالحکومت کو جام کردینے کا تصور و تاثر بھی غلط اور غیرحقیقی ہے۔ دوسری طرف حکومتی ناکہ بندی، کنٹینروں اور کیلوں کی باڑیں اور موٹر ویز کی بندش بھی سراسر غیر حقیقی تھی اسلام آباد کی تیاریاں تو ایسے تھیں جیسے ماؤزے تنگ کا چینی لانگ مارچ آ رہا ہے اور اگر یہ آگیا توکہیں انقلاب نہ آجائے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ گنڈا پوری لانگ مارچ، آفریدی لانگ مارچ سے زیادہ خطرناک، خوفناک اور خونخوار ثابت ہوا تھا۔
آجکل کے مشہور ڈھولا کے بول ہیں ’’نہ ہو سی ڈھولا، نہ ہوسی رولا‘‘ یعنی اگر محبوب نہ ہوگا تو کوئی مسئلہ یا شور شرابہ بھی نہیں ہوگا ۔ ایک طرف تو اسکو شیخ رشید کے کنوارے پن کیساتھ جوڑ کر کہا جارہا ہے کہ چونکہ انکے بال بچے نہیں ہیں اسلئے ان کیلئے کوئی وبال نہیں ہے دوسری طرف لانگ مارچ کے حوالے سے پکڑ دھکڑ کو بھی اس ڈھولے سے جوڑا جارہا ہے کہ جنکا کوئی گھر بار نہیں ،کوئی محبوب نہیں انہیں گرفتار ہونے کا بھی کوئی ڈر یا خوف نہیں مگر جنکا محبوب ہے گھر بار ہے ان کیلئے گرفتاری ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
موجودہ سیٹ اپ کو چلتے ہوئے چار سال ہو گئے دانش و بینا سیاستدان، تجربہ کار حکمت کار اور دوربین رہنما سب اسکا حصّہ ہیں لیکن وُہ ابھی تک ’’ڈھولا اور رولا‘‘ جو پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی مسئلہ ہے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ ہی نہیں کر پائے ابھی تک عدالتی میدان سے سزائیں ڈھولے کو قیدی بنا کر اسے 804 کے نام سے مشہور کر چکی ہیں لیکن جو اصلی مقابلے کا سیاسی میدان ہے اس میں ڈھولے کے مقابلے میں کوئی سیاسی ’’بول‘‘ تک بلند نہیں ہوا۔ اسی لئے بار بار ایک ہی طرح کا ’’رولا‘‘ پڑتا رہا ہے مقابلے میں ابھی تک نہ کوئی ’’ہولا‘‘ اور نہ کوئی ’’بھارا‘‘ اترا ہے اگر ڈھولا اکیلا ہی میدان میں رہیگا تو سیاست اور بیانیہ وہی رکا رہیگا۔
جمہوریت کا پہلا اصول یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن گاڑی کے دوپہیے ہیں مگر انصافی اور حکومت دونوں اسے ایک پہیے پر چلانا چاہتے ہیں ،یک رنگی نہیں چل سکتی سب رنگی ہی مسئلوں کا دیرپا حل ہے مگر دونوں فریق ایک ہی ہیرو، ایک ہی رنگ، ایک ہی ذائقے اور ایک ہی شکل کے اندھے پیروکار ہیں۔ لگتا ہے ابن انشا کی پیروی میں عاصی کو بن باس لینا پڑے گا۔
’’جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں، کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے‘‘۔
