آئی ایم ایف کو چینی کا شعبہ ڈی ریگولیٹ نہ کرنے کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے گا، مذاکرات کل شروع ہوں گے

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں ٹیکس اصلاحات، گردشی قرض، صوبائی محصولات اور معاشی صورتحال سمیت مختلف امور پر بات ہوگی

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کل شروع ہوں گے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے ساورن ویلتھ فنڈ اور گردشی قرض میں کمی سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ نہ کرنے کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے گا، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، پرائمری سرپلس، زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح تبادلہ سے متعلق بھی بریفنگ دی جائے گی۔

آئی ایم ایف اور ایف بی آر کے مذاکرات میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور اصلاحات پر بات ہوگی، جبکہ ایف بی آر کے پالیسی اور آپریشن ونگز کی کارکردگی سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

وزارت توانائی کی جانب سے گردشی قرض اور اصلاحات پر بریفنگ دی جائے گی، جبکہ نیب اور ایف آئی اے انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی فنڈنگ روکنے کے اقدامات سے متعلق آگاہ کریں گے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتوں سے بھی مذاکرات کرے گا، جن میں ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو وصولی بہتر بنانے اور زرعی ٹیکس کی وصولی سے متعلق اقدامات پر بات چیت ہوگی۔

آئی ایم ایف مشن نے کراچی میں اسٹیٹ بینک حکام اور سندھ حکومت کے ساتھ بھی مذاکرات کیے۔ سندھ حکومت نے مشن کو بتایا کہ ہدف کے مطابق وفاق کو سرپلس بجٹ فراہم کیا گیا، جبکہ 30 جون تک ٹیکس آمدنی 593 ارب روپے اور نان ٹیکس آمدنی 80 ارب روپے سے زائد رہی۔

اسٹیٹ بینک حکام نے آئی ایم ایف مشن کو زرمبادلہ کے ذخائر، مانیٹری پالیسی، درآمدات، فارن ایکسچینج اور معاشی کارکردگی پر بریفنگ دی، جس پر آئی ایم ایف مشن نے اطمینان کا اظہار کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد ایک ہفتہ کراچی میں قیام کے بعد اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ مذاکرات کا آغاز وزیر خزانہ اور ان کی اقتصادی ٹیم کے ساتھ ملاقات سے ہوگا، جبکہ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات 30 جون تک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہوں گے۔

Back to top button