وزیر داخلہ منتخب نمائندے ہوتے تو جانتے کہ پارلیمانی استحقاق نئی ایجاد نہیں: اسپیکر کے پی اسمبلی

بابر سلیم سواتی کا کہنا ہے کہ پارلیمانی استحقاق ارکان اسمبلی کو قانون سے بالاتر نہیں بناتے، ہر رکن کو تفتیش، مقدمے اور عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ارکان اسمبلی کو حاصل پارلیمانی استحقاق کوئی نئی ایجاد نہیں بلکہ طویل عرصے سے پارلیمانی روایات اور قومی و صوبائی قوانین کا حصہ ہیں۔

بابر سلیم سواتی نے کہا کہ وزیر داخلہ اگر منتخب عوامی نمائندہ اور پارلیمانی نظام کا حصہ رہے ہوتے تو جانتے کہ ارکان اسمبلی کو حاصل پارلیمانی استحقاق نئی ایجاد نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوجداری الزام میں رکن صوبائی اسمبلی کی گرفتاری سے قبل اسپیکر کی پیشگی اجازت بھی خیبرپختونخوا کی نئی ایجاد نہیں، یہ تحفظات مقننہ کی آزادی برقرار رکھنے اور پولیس کے ذریعے منتخب نمائندوں کو دباؤ میں لانے سے روکنے کے لیے ہیں۔

اسپیکر کے پی اسمبلی نے واضح کیا کہ پارلیمانی استحقاق کسی رکن اسمبلی کو قانون سے بالاتر نہیں بناتے، ہر رکن تفتیش، مقدمے اور عدالتی کارروائی کا سامنا کرے گا۔ ان کے مطابق اسپیکر کا کردار صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ گرفتاری سیاسی انتقام یا اسمبلی کی کارروائی میں رکاوٹ کے لیے نہ ہو۔

بابر سلیم سواتی نے کہا کہ اگر رات کی تاریکی میں استثنیٰ کا قانون منظور کیا جائے تو کیا وہ قانون ہے؟ اگر پارلیمنٹیرینز کو اغوا، رشوت اور فلور کراسنگ کے ذریعے قانون منظور کرایا جائے تو کیا وہ قانون ہے؟ جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن جماعتیں اتفاق رائے سے قانون منظور کریں تو کیا وہ قانون نہیں؟

انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کو سوچنا چاہیے کہ وہ کس چیز کا کس سے موازنہ کر رہے ہیں۔ کیا یہ جمہوریت ہے کہ نقاب پوش بغیر وارنٹ منتخب ارکان اور سیاسی قیادت کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں اٹھائیں؟

اسپیکر نے مزید کہا کہ 24 نومبر، 9 مئی اور 25 مئی کو گولیاں چلنا اور ہلاکتیں کیا جمہوریت ہیں؟ وزیر داخلہ انسانی حقوق کے اصول پامال کرکے اپنی حکومت کو طول دینا چاہتے ہیں۔

بابر سلیم سواتی کا کہنا تھا کہ جن مراعات اور استحقاقات پر تنقید کی جا رہی ہے، وزیر داخلہ اور ان کے ساتھی بھی وہی مراعات اور استحقاقات حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وزیر داخلہ اور ان کے ساتھی اکثر ایسے برتاؤ کرتے ہیں جیسے ان کے الفاظ ہی قانون ہوں، تاہم ایسا نہیں ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں ارکان اسمبلی کی گرفتاری سے قبل اسپیکر کی اجازت لینے کے مراسلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب خیبرپختونخوا میں کوئی ایم پی اے جرم کرے تو پولیس گرفتاری سے پہلے اسپیکر سے اجازت لینے کی پابند ہوگی۔

محسن نقوی نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر کوئی رکن اسمبلی قتل کر دے تو کیا اس کی گرفتاری سے پہلے بھی پولیس اسپیکر کی اجازت کا انتظار کرے گی؟ انہوں نے اسے قانون کے سامنے برابری کی عجیب شکل قرار دیتے ہوئے سوال کیا تھا کہ کیا یہ ریاست مدینہ ہے؟

Back to top button