خیبرپختونخوا میں PTI حکومت خطرے میں؟ اگلا ہفتہ اتنا اہم کیوں؟

خیبرپختونخوا کی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جہاں اسلام آباد مارچ، وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی کشیدگی، امن و امان کی صورتحال اور گورنر راج کی بحث ایک دوسرے سے جڑ گئی ہیں۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا حکومت کو قانونی طور پر اپنے کنٹرول میں لینے کی تیاری کر رہی ہے اور ان کے مطابق اگلے ہفتے صوبائی حکومت کی ’’رٹ‘‘ ختم ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ نجم سیٹھی کا تجزیہ اور دعویٰ ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی حتمی فیصلہ عوامی طور پر سامنے نہیں آیا۔ اس کے برعکس وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے حال ہی میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے امکان کو مسترد کیا تھا۔
اس بحث کو مزید اہم اس لیے سمجھا جا رہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت اور وفاق کے درمیان سیاسی فاصلہ مسلسل بڑھتا رہا ہے۔ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم 25 ستمبر کو پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے مارچ کو مؤخر کرکے 4 اکتوبر کی نئی تاریخ مقرر کردی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسے سیاسی حکمت عملی قرار دیا، جبکہ بعض ذرائع نے تیاریوں کی کمی، راستوں کی بندش اور احتجاج کے انتظامی مسائل کو بھی فیصلے کی وجوہات میں شامل کیا۔
مارچ مؤخر ہونے کے بعد صورتحال میں ایک اہم تبدیلی یہ آئی کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسائل بالآخر مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہونے ہیں تو بات چیت لانگ مارچ سے پہلے کیوں نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے وفاق کو 7 دن کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ باہمی مفاہمت کے ذریعے مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح 4 اکتوبر تک کا وقفہ محض احتجاج کی نئی تاریخ نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات کے لیے بھی ایک ممکنہ موقع بن گیا ہے۔
تاہم دوسری طرف نجم سیٹھی کا تجزیہ اس بحران کو محض پی ٹی آئی اور وفاق کے درمیان سیاسی کشمکش نہیں سمجھتا بلکہ اسے قومی سلامتی اور صوبائی نظم و نسق سے جوڑتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی صورتحال، افغانستان سے جڑے معاملات اور دہشت گردی کے واقعات وفاق کے لیے اضافی دباؤ پیدا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وفاق کو یہ محسوس ہو کہ صوبائی حکومت سکیورٹی معاملات میں مطلوبہ تعاون نہیں کر رہی تو آئینی اور قانونی راستوں پر غور کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ان دعووں کو الگ سے سرکاری فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
گورنر راج کی بحث بھی اسی پس منظر میں دوبارہ سامنے آئی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صدر مملکت، گورنر کی رپورٹ یا مخصوص آئینی طریقہ کار کے تحت اس صورت میں اقدامات کرسکتے ہیں جب یہ اطمینان ہو کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی۔ تاہم اس اختیار کا استعمال ایک آئینی عمل ہے اور محض سیاسی اختلاف یا حکومت کے خلاف احتجاج خود بخود گورنر راج کے نفاذ کی بنیاد نہیں بنتا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کبھی ایسا قدم اٹھایا جاتا ہے تو اس کے لیے آئینی جواز، سیاسی ردعمل اور عدالتی جانچ تینوں اہم عوامل ہوں گے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود بھی گورنر راج کے امکان پر سخت ردعمل کا اظہار کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا تو عوامی ردعمل غیر معمولی ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں وزارت اعلیٰ کے منصب سے ہٹائے جانے کی بھی فکر نہیں اور اگر ایسا ہوا تو عمران خان ان کے متبادل کا فیصلہ کریں گے۔ یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی اس معاملے کو محض انتظامی تبدیلی کے طور پر نہیں بلکہ بڑے سیاسی تنازع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان تصادم مزید بڑھتا ہے تو اس کا اثر صوبے کے انتظامی ڈھانچے، پولیس، بیوروکریسی اور امن و امان کی صورتحال پر کیا پڑے گا۔ ایک طرف وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی اور قانون کی بالادستی کے معاملات میں کسی صوبائی حکومت کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، جبکہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ وفاق صوبائی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے اور سیاسی اختلافات کو انتظامی اقدامات کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دونوں مؤقف اپنی اپنی سیاسی تشریحات رکھتے ہیں، لیکن عملی سطح پر اصل امتحان اداروں کے درمیان اختیارات کی آئینی حدود کا ہوگا۔
لانگ مارچ کے التوا نے اس کشیدگی کو وقتی طور پر ایک نئی سمت ضرور دی ہے۔ وفاقی حکومت نے اسلام آباد اور بعض علاقوں میں سکیورٹی انتظامات برقرار رکھے، جبکہ پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو دوبارہ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی بات بھی سامنے آئی ہے، لیکن ابھی تک کوئی ایسا معاہدہ سامنے نہیں آیا جس سے سیاسی تعطل مستقل طور پر ختم ہوتا دکھائی دے۔
اسی لیے اگلا ہفتہ خیبرپختونخوا اور وفاق دونوں کے لیے اہم ہوگا۔ اگر اس دوران مذاکرات کا کوئی راستہ نکلتا ہے تو کشیدگی کم کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے، لیکن اگر سیاسی بیانات، سکیورٹی خدشات اور احتجاجی تیاریوں میں دوبارہ شدت آتی ہے تو تنازع مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ نجم سیٹھی کا یہ کہنا کہ اگلے ہفتے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی رٹ ختم ہوجائے گی فی الحال ایک سیاسی تجزیہ ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔ اصل صورتحال کا تعین وفاقی حکومت کے آئینی اقدامات، عدالتی ردعمل، خیبرپختونخوا حکومت کے طرزعمل اور سب سے بڑھ کر آئندہ چند دنوں میں ہونے والی سیاسی بات چیت سے ہوگا۔
